ٹویا کورڈنگلی: آ سٹریلوی خاتون کے قتل کا ملزم چار سال بعد انڈیا سے گرفتار

ٹویا

،تصویر کا ذریعہSupplied

    • مصنف, سائمن ایٹکنسن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، کوئینزلینڈ

چار سال قبل شمالی آسٹریلیا کے ایک ساحل سے مردہ حالت میں ملنے والی لڑکی کے قتل کے مقدمے میں انڈیا میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

چوبیس سالہ ٹویا کورڈنگلی کی لاش اکتوبر 2018 میں برآمد ہوئی تھی اور رواں ماہ ہی ریاست کوئینزلینڈ کی حکومت نے ان کی گرفتاری میں مدد دینے پر 10 لاکھ آسٹریلوی ڈالر یا پانچ کروڑ 30 لاکھ انڈین روپوں کا اعلان کیا تھا۔

اسی سلسلے میں انڈیا میں راجیندر سنگھ کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر ٹویا کے قتل کا الزام ہے۔

کوئینزلینڈ کی پولیس نے کہا ہے کہ اُنھیں انڈین حکام نے دلی میں جمعے کو گرفتار کیا اور توقع ہے کہ جلد ہی عدالت میں ان کی آسٹریلیا حوالگی کی درخواست پر سماعت ہو گی۔

اس کے بعد اُنھیں فوجداری کارروائی کے لیے آسٹریلیا لایا جائے گا۔

کوئینزلینڈ پولیس کی کمشنر کیٹارینا کیرول نے کہا: ’سوال کبھی بھی یہ نہیں تھا کہ وہ گرفتار ہوں گے یا نہیں، بلکہ یہ تھا کہ وہ کب گرفتار ہوں گے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ ہم عدالت کے سامنے مضبوط کیس رکھ پائیں گے۔‘

آسٹریلیا میں نرس کے طور پر کام کر رہے راجویندر سنگھ ٹویا کی لاش ملنے کے چند گھنٹے بعد ہی اپنی بیوی اور تین بچوں کو آسٹریلیا میں ہی چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔ سڈنی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ان کی تصویر بھی موجود ہے۔

راجویندر سنگھ

،تصویر کا ذریعہQueensland Police

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

وہ جائے وقوعہ سے دو گھنٹے دور اینیسفیل میں رہتے تھے مگر انڈین پنجاب کے گاؤں بٹر کلاں سے تعلق رکھتے ہیں۔

تفتیش کاروں نے اب بھی اس حوالے سے زیادہ معلومات فراہم نہیں کی ہیں کہ ٹویا کیسے ہلاک ہوئیں۔ وہ 21 اکتوبر 2018 کو وانگیٹی ساحل پر اپنے کتے کو گھمانے لے گئی تھیں مگر کبھی گھر واپس نہیں لوٹیں۔ ان کے والد نے اگلے دن ریت میں دبی ان کی لاش دریافت کی۔

اس مہینے کے آغاز میں آسٹریلوی حکام نے راجویندر سنگھ کی گرفتاری کی بین الاقوامی کوشش میں مدد کے لیے عوام سے اپیل کی تھی۔

کمشنر کیرول کے مطابق راجویندر سنگھ اپنے فرار سے اب تک انڈیا کی ریاست پنجاب میں گرفتاری سے بچنے کی کوشش میں تھے۔

آسٹریلوی حکام نے مارچ 2021 میں انڈیا سے راجویندر سنگھ کی حوالگی کی درخواست کی تھی جو گذشتہ ماہ تسلیم کی گئی۔ مگر 38 سالہ ملزم کو تب تک تلاش نہیں کیا جا سکا تھا۔

کوئینزلینڈ پولیس کے ایک تفتیش کار حال ہی میں انڈیا سے لوٹے ہیں اور آسٹریلوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کوئینزلینڈ کے ہندی اور پنجابی بولنے والے پانچ پولیس اہلاروں کو واٹس ایپ پر معلومات مل رہی تھیں۔

جب 10 لاکھ آسٹریلوی ڈالر کے انعام کا اعلان کیا گیا تو ٹویا کے والد ٹروئے کورڈنگلی نے کہا تھا کہ ان کی بیٹی ’ٹویا ایسی نوجوان لڑکی تھی جسے کبھی بھرپور زندگی جینے کا موقع نہیں ملا۔ یہ سب اس سے چھین لیا گیا۔‘

اُنھوں نے کہا تھا کہ ’انصاف ٹویا کو واپس نہیں لا سکتا مگر انصاف تو کم از کم اس کا حق ہے۔‘

یہ انعام کوئینزلینڈ میں اب تک کا اعلان کردہ سب سے بڑا انعام ہے۔ کمشنر کیرول نے کہا کہ اگر یہ معلوم ہوا کہ گرفتاری میں مدد دینے والی اطلاع انعام کے لیے اہل ہے تو وہ ’بخوشی‘ خود چیک لکھیں گی۔

اُنھوں نے انڈین پولیس کے تعاون کی تعریف کی اور اسے ’مثالی‘ قرار دیا۔

کوئینزلینڈ کے وزیرِ پولیس مارک رائن نے کہا کہ یہ ’ٹویا کو انصاف فراہم کرنے کے اگلے مرحلے کی ابتدا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ لوگ اس پیشرفت کے حوالے سے پرجوش ہیں اور میں جانتا ہوں کہ لوگوں کو سکون ملا ہے۔‘