بحرِ ہند میں ایرانی جنگی جہاز کی تباہی پر انڈین اپوزیشن جماعتوں کی تنقید: ’ہمارے مہمان مارے گئے اور مودی خاموش ہیں‘

آئی آر آئی ایس دینا کا انڈیا پہنچنے پر استقبال (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہ@IN_HQENC

،تصویر کا کیپشنآئی آر آئی ایس دینا کا انڈیا پہنچنے پر استقبال کیا گیا تھا (فائل فوٹو)
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

سری لنکا کے ساحل کے قریب ایک ایرانی جنگی بحری جہاز کو امریکی آبدوز کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے بعد سے انڈیا کی حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انڈیا میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت کانگریس کی ترجمان نے اس واقعے پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایرانی سیلرز (ملاح) ایک تقریب کے لیے انڈیا آئے تھے، جس کے لیے انڈیا نے انھیں مدعو کیا تھا۔ وہ ہمارے مہمان تھے۔ جب وہ واپس جا رہے تھے تو ایک امریکی آبدوز نے اُن کے جہاز پر حملہ کر کے انھیں ہلاک کر دیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر ’وزیر اعظم مودی کی طرف سے کوئی بیان نہیں آیا۔ یہ بزدلی ناقابل قبول ہے۔ وزیر اعظم مودی کا سمجھوتہ انڈیا کو شرمندہ کر رہا ہے۔‘

یاد رہے کہ اس ایرانی جنگی جہاز نے گذشتہ دنوں انڈیا کی میزبانی میں ہونے والی ’انٹرنیشنل فلیٹ ریویو 2026‘ نامی فوجی مشق میں حصہ لیا تھا۔

بدھ کے روز امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا تھا کہ بحرِ ہند میں موجود ایک امریکی آبدوز نے تارپیڈو فائر کر کے ایران کا جنگی بحری جہاز ڈبو دیا ہے۔

پیٹ ہیگستھ کا مزید کہنا تھا کہ منگل (تین فروری) کو کیا گیا یہ تارپیڈو حملہ ایک ’خاموش موت‘ جیسا تھا۔

اس وقت امریکی وزیر دفاع ہیگستھ نے ڈبوئے جانے والے ایرانی جنگی جہاز کا نام نہیں بتایا تھا تاہم اُن کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنا آیا تھا جب سری لنکن حکام نے اپنی سمندری حدود کے قریب ڈوبنے والے ایرانی جہاز آئی آر آئی ایس دینا سے 32 افراد کو ریسکیو کرنے اور 80 لاشیں نکالے جانے کی تصدیق کی۔

سری لنکن بحریہ کے ترجمان نے بتایا تھا کہ دستاویزات کے مطابق اس جہاز پر قریب 180 افراد سوار تھے۔

سری لنکا کی وزیرِ خارجہ وجیتھا ہیراتھ کا کہنا تھا کہ بچ جانے والے افراد ’شدید زخمی‘ تھے جنھیں سری لنکا کی جنوبی بندرگاہ گالے میں واقع ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔

،ویڈیو کیپشنوہ لمحہ جب امریکی آبدوز نے ایرانی جنگی جہاز پر حملہ کیا
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یاد رہے کہ سری لنکن حدود کے قریب ڈوبنے والے اس ’آئی آر آئی ایس دینا‘ نامی بحری جہاز نے انڈیا کی میزبانی میں عسکری مشق ’انٹرنیشنل فلیٹ ریویو 2026‘ میں شرکت کی تھی۔

انڈین بحریہ کی ایسٹرن نیول کمانڈ نے 17 فروری کو ایکس پر ایک پوسٹ بھی کی تھی، جس سے تصدیق ہوتی ہے کہ گذشتہ مہینے یہ ایرانی جہاز انڈین بندرگاہ وشاکاپٹنم میں موجود تھا۔

انڈین چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق آئی آر آئی ایس دینا پر اُس وقت حملہ ہوا جب وہ انٹرنیشنل فلیٹ ریویو میں حصہ لینے کے بعد انڈیا سے واپس جا رہا تھا۔

انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ ایرانی جہاز 18 سے 25 فروری تک خلیج بنگال میں تھا اور اس پر بین الاقوامی پانیوں میں اس وقت حملہ ہوا جب یہ وشاکاپٹنم سے واپس جا رہا تھا۔

اور یہی وجہ ہے کہ انڈیا میں اس بحری جہاز کی تباہی پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔

انڈیا کی اپوزیشن جماعتوں نے ایرانی جنگی جہاز پر امریکی حملے کے بعد ’وزیر اعظم مودی کی خاموشی‘ پر تنقید کی ہے۔

عام آدمی پارٹی کے رُکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے ایرانی جہاز کی ویڈیو شیئر کر کے لکھا کہ ’یہ ویڈیو مودی جی کی بزدلی کو ہمیشہ کے لیے ریکارڈ پر رکھے گی۔ ایران نے انڈیا کی دعوت پر فوجی مشق کے لیے اپنا جہاز بھیجا تھا۔ اس جہاز کی خصوصیات محترم صدر کی موجودگی میں بھی بتائی گئی تھیں۔‘

سنجے سنگھ نے مزید لکھا کہ ’یہ جہاز امریکہ نے مار گرایا ہے، جس میں 100 سے زائد ملاح مارے گئے ہیں۔ ہمارے مہمان مارے گئے اور مودی خاموش ہیں۔‘

ایرانی جنگی جہاز

،تصویر کا ذریعہPentagon

،تصویر کا کیپشناین ڈی ٹی وی کے مطابق آئی آر آئی ایس دینا پر اس وقت حملہ ہوا جب وہ انٹرنیشنل فلیٹ ریویو میں حصہ لینے کے بعد انڈیا سے واپس جا رہی تھی

انڈین سیاستدان پون کھیرا نے ایکس پر ایک بیان میں لکھا کہ ’انڈیا کے مہمان آئی آر آئی ایس دینا پر اُس وقت حملہ ہوا جب وہ انڈیا میں انٹرنیشنل فلیٹ ریویو کے بعد واپس جا رہا تھا۔‘

انھوں نے لکھا کہ ’سوال یہ ہے کہ کیا نریندر مودی اس معاملے پر تنقید کرنے، ایران سے تعزیت کرنے اور سری لنکا کو ریسکیو مشن میں مدد فراہم کرنے کی پیشکش کرنے کی اخلاقی جرات رکھتے ہیں۔‘

انھوں نے لکھا کہ ’ہمارے سمندری علاقے میں امریکی حملہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک دور دراز طاقت یہاں مہلک قوت استعمال کر سکتی ہے اور اس کے کوئی نتائج نہیں نکلتے۔ ایسی جسارت وہ چین کے خلاف چین کے سمندر میں کبھی نہ کرتے۔‘

’جنگ ہمارے دروازے پر ہے اور مودی صاحب کی خاموشی قومی مفاد کے خلاف ہے۔‘

دی اکنامسٹ کے ڈیفنس ایڈیٹر ششانک جوشی نے لکھا کہ اس واقعے کے تناظر میں ’نئی دہلی میں خدشات‘ پیدا ہو رہے ہیں۔

ساگریکا گھوس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’کیا نریندر مودی ناپسندیدگی کا اظہار کریں گے کہ ان کے دوست ڈونلڈ ٹرمپ نے انھیں نہیں بتایا کہ ایک امریکی آبدوز انڈیا کے پانیوں کے قریب گھوم رہی ہے اور جنگی جہازوں کو نشانہ بنا رہی ہے؟‘

ایک اور صارف نے نئی دہلی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’کیا انڈیا میں اتنا دم بھی نہیں کہ وہ امریکہ کو بتا سکے کہ اس کو آبدوز کا استعمال کر کے ایک ایرانی جہاز کو، جو انڈیا میں بحری مشق سے واپس آ رہا تھا، غرق کر کے 80 اہلکاروں کو مارنے کا کوئی حق نہیں؟‘

یاد رہے کہ بدھ کے روز امریکی سیکریٹری دفاع ہیگستھ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ سمندر میں کسی بحری جہاز کو ڈبونے کا واقعہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ پیش آیا تھا۔

مگر یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔

سنہ 1982 کی فاکلینڈ جنگ کے دوران جنوبی اٹلانٹک میں برطانوی جوہری صلاحیت کی حامل آبدوز نے دو ٹائیگر تارپیڈو کے ذریعے ارجنٹینا کے واحد جنگی جہاز جنرل بلگرانو کو غرق کیا تھا۔اگر حالیہ امریکہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو 1945 کے بعد ایسا پہلا بار ہوگا کہ کسی امریکی آبدوز نے دشمن جہاز گرایا ہو۔

آئی آر آئی دینا کے بارے میں ہم اور کیا جانتے ہیں؟

DENA

،تصویر کا ذریعہ@IN_HQENC

آئی آر آئی ایس دینا ایرانی بحریہ کی 86 ویں فلیٹ کا حصہ ہے۔ یہ جہاز سنہ 2022 اور 2023 میں اس وقت خبروں میں آیا تھا جب اس نے 63 ہزار کلومیٹر پر مشتمل سمندری سفر مشن مکمل کیا تھا اور ایران کی بحری صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تھا۔

یہ جہاز مکمل طور پر ایران میں ہی بنایا گیا تھا۔ اسے بندر عباس میں شاہد درویش شپیارڈ پر تیار کیا گیا تھا۔

اس جہاز کا وزن 1500 ٹن تھا اور یہ 95 میٹر لمبا تھا۔

اس جہاز کے اندر اینٹی شپ میزائل، ایک 76 ایم ایم بحری گن، ایک 30 ایم ایم ویپن سسٹم، تارپیڈوز اور پانی سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نصب تھے۔

ایرانی بحریہ نے ماضی میں کہا تھا کہ یہ جہاز بین الاقوامی تجارت کو تحفظ دینے، سمندری لوٹ مار کو روکنے اور طویل بحری آپریشنز سر انجام دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔