کروز سے لاپتہ مسافر کی 15 گھنٹوں بعد سمندر سے بحفاظت واپسی: ’یہ معجزات میں سے ایک ہے‘

ship

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, لورا گوزی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

امریکی کوسٹ گارڈ نے کہا ہے کہ خلیج میکسیکو میں کروز شپ سے لاپتہ ہونے والے ایک مسافر کو 15 گھنٹے سے زائد سمندر سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔

28 برس کے شخص بُدھ کی رات اپنی بہن کے ساتھ کارنیول ویلور جہاز پر ایک بار میں گیا تھا لیکن بیت الخلا استعمال کرنے کے لیے نکلنے کے بعد وہ واپس نہیں آیا۔

ریسکیو عملے نے علاقے کی تلاشی لی اور بالآخر جمعرات کی شام اس شخص کو لوزیانا کے ساحل سے 20 میل (30 کلومیٹر) دور تلاش کر لیا گیا۔ اس شخص کی حالت تسلی بخش بتائی جاتی ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

ی ہ بھی پڑھیے

امریکی کوسٹ گارڈ کے لیفٹیننٹ سیٹھ گراس کا کہنا ہے کہ زندہ بچ جانے والے شخص نے پانی میں تقریباً 15 گھنٹے سے زائد کا وقت گزارا جو کہ بہت طویل وقت ہے جو میں نے پہلی بار سنا ہے اور یہ تھینکس گوینگ ڈے پر ہونے والے معجزات میں سے ایک ہے۔

سیٹھ گراس نے سی این این کو بتایا کہ جو انھوں نے اپنے 17 برس کیریئر میں دیکھا تو یہ بہت ہی ناممکنات میں سے ایک ہے۔ جو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ کسی کو زندہ بچانے کے لیے آخری لمحے تک کوشش کرتے رہنا چاہیے اور اس کے لیے اپنے آپ کو جوابدہ سمجھنا چاہیے۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ شخص میکسیکو کے کوٹومیل جانے والے جہاز سے پانی میں کیسے گرا۔

سنہ 2018 میں، ایک 46 برس کی برطانوی خاتون کو اس کے کروز جہاز سے ایڈریاٹک سمندر میں گرنے کے دس گھنٹے بعد بچا لیا گیا تھا۔

اس وقت انھوں نے ایک بچاؤ کرنے والے کو بتایا تھا کہ یوگا کرنے کی وجہ سے وہ فٹ تھیں اور رات کو سردی سے بچاؤ کے لیے انھوں گنگنانے کی تدبیر استعمال کی تھی۔