’بڑی ہمت ہوئی تمھاری‘: انڈین گلوکارہ آشا بھوسلے کی پاکستانی فنکاروں سے محبت اور ناپسندیدگی کی کہانی

،تصویر کا ذریعہAFP/GettyImages
- مصنف, مہتاب عالم
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
انڈیا کی معروف گلوکارہ آشا بھوسلے گذشتہ روز 12 اپریل کی صبح 92 برس کی عمر میں ممبئی میں وفات پا گئی ہیں۔
آشا بھوسلے 90 سال کی عمر تک گاتی رہیں اور اپنے طویل کریئر میں انھوں نے 20 سے زیادہ انڈین زبانوں میں 12 ہزار سے زیادہ گانے ریکارڈ کیے۔ سنہ 2011 میں سب سے زیادہ سنگلز گانے ریکارڈ کرنے پر ان کا نام گنیز ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا گیا تھا۔
ان کی وفات پر انڈیا کے ساتھ ساتھ پاکستان کی نامور شخصیات، خاص طور پر فنکاروں نے بھی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
مشہور اداکار احسن خان نے ان کی وفات کو ایک ’عہد کا خاتمہ‘ قرار دیا ہے۔ اداکار عدنان صدیقی نے ان کی آواز کی ’جذباتی گہرائی‘ کی تعریف کرتے ہوئے اپنے غم کا اظہار کیا ہے۔
احمد علی بٹ نے انھیں ان کے سدابہار نغموں کے لیے یاد کیا ہے جبکہ گلوکار علی ظفر نے انھیں ایک حیرت انگیز فنکارہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا کام نسلوں کو متاثر کرے گا۔
آر جے انوشے اشرف نے اپنے ایک نوٹ میں کہا کہ ’آج جب ہم آشا بھوسلے کو الوداع کہہ رہے ہیں تو مجھے یہ یاد آتا ہے کہ سرحد کے دونوں جانب ان کی آواز ہمارے گھروں میں زندہ تھی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’شکر ہے کہ مشترکہ موسیقی کے لیے ویزے، اجازت یا سیاسی تجزیے کی ضرورت نہیں۔ یہ بس سامنے آتی ہے، دل کو چھو جاتی ہے اور ابھی بھی یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی دونوں طرف کے لوگ پوری طرح قدر کرتے ہیں۔ شاید ہم سب کو اپنی پلے لسٹس کو عالمی امن کے لیے اپ گریڈ کرنا چاہیے۔‘
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ صرف پاکستانی فنکار ان کے مداح ہیں بلکہ خود آشا بھوسلے کی پسندیدہ سنگر ایک پاکستانی گلوکارہ تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہHina Durrani
آشا بھوسلے کی پسندیدہ گلوکارہ نورجہاں
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جولائی 2024 میں مشہور کانٹینٹ کریئٹر کامیا جانی کے ساتھ ایک تفصیلی ویڈیو انٹرویو کے دوران جب آشا بھوسلے سے پوچھا گیا کہ ان کی پسندیدہ گلوکارہ کون ہیں تو ان کا فوری جواب تھا: ’نور جہاں۔ میں ان کو بچپن سے جانتی ہوں، وہ کولھا پور آئی تھیں شوٹنگ کے لیے۔‘
ماہرین کے متابق نور جہاں صرف آشا بھوسلے کی پسندیدہ گلوکارہ ہی نہیں بلکہ ان کی مینٹور بھی تھیں۔
اس پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے روزنامہ انڈین ایکسپریس سے منسلک سوآنشو کھرانا نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’لتا (منگیشکر ) جی کی طرح آشا جی بھی نور جہاں کو اپنا مینٹور سمجھتی تھیں۔ یہ دونوں بہنیں تقسیم ہند سے پہلے کولھاپور میں ان سے ملی تھیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’غزل گائیکی میں شدید دلچسپی کے سبب وہ استاد غلام علی کے ساتھ البم ’معراجِ غزل‘ میں شریک ہوئیں، جو میرے خیال میں اب بھی غزل البموں کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہے۔‘
’یہ امراؤ جان فلم میں ان کی کامیابی کے فوراً بعد کی بات ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب آشا جی شاید یہ ثابت کرنا چاہتی تھیں کہ وہ صرف کیبرے کے نغمے گانے والی گلوکارہ نہیں ہیں۔‘
انھوں نے بعد میں مہدی حسن، فریدہ خانم اور غلام علی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے بھی ایک البم ریکارڈ کیا۔ یہی نہیں، نور جہاں کے گانوں پر ایک البم بھی بنایا، جس پر نور جہاں نے مذاق میں کہا تھا: ’بڑی ہمت ہے تمھاری۔‘ غلام علی کے ساتھ اشتراک کے علاوہ انھوں نے استاد نصرت فتح علی خان کے ساتھ بھی کام کیا۔
انھیں پاکستان کے سابق شہری اور سنگر عدنان سمیع کو انڈیا میں اپنا کریئر بنانے میں مدد کرنے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔

عدنان سمیع کو پناہ دینے والی آشا بھوسلے
خود عدنان سمیع بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں اور انھوں نے کئی بار عوامی طور پر بھی اس کا اظہار بھی کیا ہے۔
گذشتہ برس ایک انڈین ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے نہ صرف اس بات کو دہرایا تھا بلکہ یہاں تک کہا تھا کہ آشا بھوسلے کے مشورے پر ہی وہ بوریا بستر باندھ کر ممبئی آ گئے تھے۔
اپنے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ 'سنہ 1998 میں انڈیا میں جو گانے انھوں نے جاری کیے تھے اس کے بعد پاکستانی موسیقی انڈسٹری میں لوگ سوچنے لگے کہ ان کا کریئر ختم ہو گیا ہے۔ اس لیے میں نے ان گانوں کے لیے کوئی مارکیٹنگ نہیں کی۔ جب البم جاری ہوا تو کسی کو علم نہیں ہوا اور وہ ختم ہو گیا۔ میں بہت مایوس تھا۔ اس وقت میں کینیڈا میں تھا۔‘
عدنان سمیع نے مزید کہا کہ 'اس کے بعد میں نے اس مسئلے پر آشا بھوسلے کے ساتھ بات کی تھی۔ دونوں نے 1997 کے البم ’بدلتے موسم‘ کے مشہور گانے ’کبھی تو نظر ملاؤ‘ گائے تھے۔
’میں نے آشا جی سے کہا کہ میں مایوس ہوں کیونکہ یہاں کے لوگ طے کر چکے ہیں کہ وہ میرے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتے اور میں چاہتا ہوں کہ لندن میں آپ کے ساتھ ریکارڈنگ کروں۔‘
بقول عدنان سمیع ’آشا بھوسلے کا سوال تھا کہ تم لندن میں ریکارڈ کیوں کرنا چاہتے ہو؟‘ تو میں نے کہا کہ ’میں وہاں کچھ لوگوں کو جانتا ہوں۔‘ تو پھر آشا بھوسلے نے کہا ’دیکھو، اگر تم واقعی کچھ نیا کرنا چاہتے ہو تو ممبئی آؤ۔ یہ ہندی موسیقی کا دارالحکومت ہے۔ جو بھی یہاں مقبول ہوگا وہ دنیا کے باقی حصوں میں بھی مقبول ہو گا۔ تو یہ آنے کی بہترین جگہ ہے۔‘
’پھر کیا تھا، میں بوریا بستر سمیٹ کر ممبئی پہنچ گیا اور بھوسلے اور ان کے پورے خاندان نے میرا بہت خیال رکھا۔ انھوں نے مجھے آر ڈی برمن (بھوسلے کے شوہر اور معروف موسیقار) کے گھر میں رہنے دیا۔ میں بہت خوش قسمت تھا کیونکہ ان کا گھر موسیقی کے مندر جیسا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہSHEERAZ ASLAM
عاطف اسلم کے ساتھ رنجش پھر صلح
اس کے علاوہ ایک انڈین ٹی وی چینل پر ایک میوزک ریئلٹی شو، جس میں انڈیا اور پاکستان دونوں کے امیدوار شریک تھے، میں آشا بھوسلے کے ساتھ عاطف اسلم اور عابدہ پروین بھی اس کا حصہ تھے۔
اس شو کو آشا بھوسلے اور عاطف اسلم کے درمیان ہوئی تلخ کلامی کی وجہ سے آج تک یاد کیا جاتا ہے اور میڈیا میں اس کو بہت اچھالا بھی گیا تھا۔ تاہم بعد میں دونوں نے اس تنازع کو اتنی اہمیت نہیں دی، باوجود اس کہ ان کے تعلقات پہلے جیسے نہیں ہو سکے تھے۔
ستمبر سنہ 2022 میں ایک نجی ٹی وی شو میں میزبان احمد علی بٹ نے جب عاطف اسلم سے آشا بھوسلے کے ساتھ ہونے والے اس جھگڑے کے بارے میں پوچھا تو اُنھوں نے کہا کہ ’شروع میں جس شو کا ہم حصّہ تھے اس کی وجہ سے میرا ان کے ساتھ جھگڑا ہو گیا تھا۔‘
’تاہم آشا بھوسلے کی بیٹی میری مداح ہیں تو اس لیے انھوں نے مجھے کال کرکے کہا کہ ان کی بیٹی نے ان سے پوچھا ہے کہ اُنھیں اتنے خوبصورت آدمی سے مسئلہ کیوں ہے؟‘
عاطف اسلم نے مزید کہا تھا کہ ’آشا بھوسلے نے اپنی بیٹی کی وجہ سے سب کچھ بھول کر مجھے معاف کردیا ہے اور یہ ایک طرح سے ان کا بڑا پن تھا جس سے میں بہت متاثر ہوا۔‘
اسی شو سے متعلق ایک اور واقعہ مشہور پیش آیا تھا۔ سنہ 2012 میں انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر کی دو قوم پرست سیاسی جماعتوں (ایم این ایس اور شیو سینا) نے دھمکی دی کی اگر اس شو میں پاکستانی امیدوار شریک ہوتے ہیں تو وہ شو ہونے نہیں دیں گے۔
شروع میں ان دھمکیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے آشا بھوسلے نے کہا کہ ’موسیقی امیر اور غریب، مذاہب یا سرحدوں میں فرق نہیں کرتی۔‘
تاہم اگلے برس اپنی مراٹھی فلم ’مائی‘ کے پرموشن کے دوران انھوں نے اپنی سابقہ رائے سے انحراف کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ہمیشہ پاکستانی فنکاروں کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن ان کا ملک ہمارے جذبات کی پرواہ نہیں کرتا۔ ہمیں ان کی میزبانی کرنا بند کر دینا چاہیے۔‘



























