لنزے گراہم کی جنگ میں شامل نہ ہونے پر ’ریاض کو دھمکی‘: سعودی عرب امریکی و اسرائیلی فوجی کارروائی کا حصہ بننے سے کیوں گریز کر رہا ہے؟

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

متنازع بیانات کے لیے مشہور امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب پر سخت تنقید کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ اگر ریاض ایران کے خلاف جنگ میں عملی طور پر شریک ہونے کے لیے تیار نہیں تو پھر امریکہ کو اس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیوں کرنا چاہیے؟

سینیٹر گراہم نے کہا ہے کہ ’جب امریکہ خطے میں ایران کے خلاف کارروائیوں پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے اور امریکی شہری بھی اس تنازع کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، تو پھر یہ سمجھنا مشکل ہے کہ سعودی عرب، جسے امریکہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے، براہِ راست فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے کیوں گریز کر رہا ہے۔‘

امریکی سینیٹر کے اس بیان کو ناصرف سعودی اور عرب صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے بلکہ اس نے واشنگٹن اور ریاض کے تعلقات پر بحث چھیڑ دی ہے جس کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی محتاط حکمتِ عملی کیا خطے میں کسی بڑے تصادم سے بچنے کی کوشش ہے، یا ریاض واقعی اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دے رہا ہے؟

مگر اس سے قبل سینیٹر گراہم کے بیان اور اس پر ردِعمل پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

لنزے گراہم نے کیا کہا؟

x/LindseyGrahamSC

،تصویر کا ذریعہx/LindseyGrahamSC

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نیویارک ٹائمز کی یہ خبر کہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے سعودی عرب میں امریکی سفارتکاروں کو ملک چھوڑے کا حکم دیا ہے، شیئر کرتے ہوئے لنزے گراہم نے لکھا کہ ریاض میں امریکی سفارتخانہ خالی کیا جا رہا ہے کیونکہ ایران کی جانب سے سعودی عرب پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔

انھوں نے لکھا ’میری سمجھ کے مطابق، سعودی عرب اپنی مضبوط فوجی صلاحیتوں کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے سے انکار کر رہا ہے کہ وہ اس بربریت اور دہشت گردی پر مبنی ایرانی حکومت کو ختم کرے، جس نے پورے خطے میں دہشت پھیلائی اور سات امریکی شہریوں کو ہلاک کیا۔‘

امریکی سینیٹر نے سوال کیا کہ ’امریکہ کو ایسے ملک کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیوں کرنا چاہیے جو مشترکہ مفاد کی لڑائی میں حصہ لینے کے لیے تیار نہ ہو؟‘

لنزے گراہم نے سعودی عرب پر تنقید کرتے ہوئے کہا ’امریکی شہری ہلاک ہو رہے ہیں اور امریکہ اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے تاکہ وہ اس دہشت گرد ایرانی حکومت کو ختم کرے جو خطے کے لیے خطرہ ہے۔ مگر اس دوران، سعودی عرب بظاہر کچھ بیانات جاری کر رہا ہے اور پسِ پردہ محدود اقدامات کر رہا ہے۔۔۔ لیکن ایران کے دہشت گردانہ تسلط کا خاتمہ کرنے کے لیے فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے گریز کر رہا ہے۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یاد رہے سعودی عرب امریکہ کو اپنا بنیادی دفاعی پارٹنر سمجھتا ہے۔ نومبر 2025 میں دونوں ممالک نے ایک تاریخی سٹریٹجک دفاعی معاہدے (ایس ڈی اے) پر دستخط کیے، جو طویل المدتی، 80 سالہ سکیورٹی شراکت کو مستحکم کرتا ہے۔ یہ معاہدہ خطے میں دفاعی توازن مضبوط کرنے اور امریکہ کے اخراجات کم کرنے کے لیے کیا گیا اور اس میں جدید ہتھیار (ایف-35 لڑاکا طیارے، ٹینک)، مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی، سول نیوکلیئر تعاون اور بڑھتی ہوئی سکیورٹی ذمہ داریاں شامل ہیں۔

امریکی سینیٹر نے مزید کہا کہ ’امید ہے خلیج تعاون کونسل کے ممالک اس لڑائی میں زیادہ فعال کردار ادا کریں گے کیونکہ یہ تنازع ان کے بہت قریب ہو رہا ہے۔‘

مگر ساتھ ہی انھوں نے سوال کیا کہ ’اگر آپ اب بھی اپنی فوج استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، تو کب تیار ہوں گے؟‘

امریکی سینٹیر نے امید ظاہر کی کہ یہ صورتحال جلد بدل جائے گی۔۔۔ اور ساتھ ہی متنبہ کیا کہ ’اگر نہیں، تو اس کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔‘

یاد رہے سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ 28 فروری 2026 سے ایران کی جانب سے اس کی سرزمین پر متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جن میں ریاض اور مشرقی صوبے پر حملے بھی شامل ہیں۔

سینیٹر کے بیان پر ایکس نے سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے عرب نیوز کا ایک مضمون لنک کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’سعودی عرب حملوں کی صورت میں اپنے علاقے کا دفاع کرتا ہے لیکن بیرونِ ملک جارحانہ کارروائیوں میں شامل نہیں ہوتا اور نہ ہی وسیع جنگ کا آغاز کر رہا ہے۔‘

اس نوٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ امریکہ-اسرائیل کشیدگی کو شروع کرنے میں سعودی عرب کا کوئی کردار نہیں ہے اور ’یہ دعویٰ کہ ’امریکی سعودی عرب کے لیے مر رہے ہیں‘ درست نہیں ہے، کیونکہ امریکہ نے یہ جنگ نیتن یاہو کی خواہش پر شروع کی ہے۔‘

خیال رہے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سنیچر کے روز خلیجی ہمسایہ ممالک سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ جب تک کہ ایران پر حملے ان کی سرزمین سے شروع نہ ہوں، تہران حملے روک دے گا۔

انھوں نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں کہا: ’میں ذاتی طور پر ان ہمسایہ ممالک سے معافی چاہتا ہوں جو ایران کے اقدامات سے متاثر ہوئے۔‘

تاہم، ایران کی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی نے کہا ہے کہ ایران ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانے سے صرف اس صورت میں گریز کرے گا جب ان کی سرزمین ایران پر حملے کے لیے استعمال نہ ہو۔

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب میں امریکی سفارت خانہ

’جب بادشاہت فوجی اقدام کرنے کا فیصلہ کرے گی، تو یہ اس کا اپنا فیصلہ ہوگا، نہ کہ دوسروں کے مطالبے پر‘

سوشل میڈیا پر سینیٹر گراہم کی ٹویٹ پر سخت ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

سعود بن سلمان الدوسری نیویارک میں سعودی عرب کے اقوامِ متحدہ مشن میں اتاشی ہیں۔ انھوں نے ایکس پر لکھا کہ بین الاقوامی معاملات میں شراکت داری مشترکہ ذمہ داری اور احترام پر قائم ہوتی ہے۔

’بادشاہت اپنے شراکت داروں کو تنہا نہیں چھوڑتی، اور نہ ہی اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹتی ہے۔۔۔ لیکن شراکت داری باہمی ہوتی ہے۔‘

سعود بن سلمان الدوسری نے کہا کہ ’سعودی عرب اپنے مفادات کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ یہ کوئی ماتحت ریاست نہیں بلکہ ایک خودمختار طاقت اور عرب و اسلامی دنیا کی رہنما مملکت ہے۔‘

’ریاض نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ سفارت کاری کو ترجیح دی جائے اور صرف ضرورت پڑنے پر ہی دباؤ ڈالا جائے اور طاقت صرف اس وقت استعمال کی جائے جب بالکل ناگزیر ہو۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’جب بادشاہت فوجی اقدام کرنے کا فیصلہ کرے گی، تو یہ اس کا اپنا فیصلہ ہوگا، اپنے مفادات کے دفاع میں، نہ کہ دوسروں کے مطالبے پر۔‘

x/MaxBlumentha

،تصویر کا ذریعہx/MaxBlumentha

’آپ نے آگ بھڑکائی اور اب آپ ناراض ہیں کہ ہم اپنے گھر کو آپ کے لیے نہیں جلا رہے؟‘

سعودی صارف ابو دانتي - ماجد الحربي نے لنڈسے گراہم کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ ’ایسا اس لیے ہے کیونکہ ’انھیں (سعودی عرب) امریکی پشت پناہی پر بالکل بھروسہ نہیں۔ یہ آپ کی جنگ ہے، ہماری نہیں۔‘

’آپ نے خلیج کے ممالک سے مشورہ کیے بغیر یہ تنازع شروع کیا حالانکہ آپ بخوبی جانتے تھے کہ سب سے زیادہ ردِعمل انھی (خلیجی ممالک) کو سہنا پڑے گا۔‘

انھوں نے لکھا کہ ’امریکہ نے اسرائیل کی فضائی حدود کی حفاظت کے لیے جان کی بازی لگا دی، لیکن خلیج کے ممالک کو بالکل تنہا چھوڑ دیا۔۔۔۔ اب یہ خطہ امریکہ پر بھروسہ کیوں کرے؟ 2019 کے آرامکو حملوں کے بعد آپ نے کچھ نہیں کیا اور سب نے دیکھا کہ امریکہ نے کردوں کو مکمل طور پر دھوکہ دیا۔‘

’خلیج کے ممالک نے سفارت کاری پر برسوں لگا دیے اور چین کے ذریعے امن معاہدہ کیا تاکہ ایران کے ساتھ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور آج جیسے منظرنامے سے بچا جا سکے۔ انھوں (خلیجی ریاستوں) نے یہ تنازع شروع نہیں کیا، اس لیے وہ صرف اپنی سرحدوں اور فضائی حدود کے تحفظ کے لیے دفاعی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔‘

ابو دانتي نے مزید لکھا کہ ’آپ لوگوں نے آگ بھڑکائی، اور اب آپ ناراض ہیں کہ ہم اپنے گھر کو آپ کے لیے نہیں جلا رہے۔ امریکہ توقع کرتا ہے کہ خلیج انسانی ڈھال بنے لیکن اس کی حفاظت کے لیے بس معمولی کوشش کرنا چاہتا ہے۔‘

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

’ریاض جیسے طاقتور اتحادی کے بغیر مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟‘

صحافی مہدی حسن کا کہنا ہے کہ ’ایک ایسی جنگ شروع کرنے میں مدد کرنے کے بعد جس کے نتیجے میں سعودی عرب پر بمباری ہوئی، گراہم اب عوامی طور پر سعودی عرب کو دھمکی دے رہے ہیں کہ وہ امریکہ-اسرائیل کی جنگ میں شامل نہیں ہو رہا۔‘

ترک چینل ٹی آر ٹی کے ایڈیٹر نے سینیٹر گراہم کی ٹویٹ پر تبصرہ کیا کہ ’سعودی عرب اس وقت امریکہ کی جنگ کی وجہ سے بمباری کا نشانہ بن رہا ہے اور اپنے آپ کو ایک غیر ضروری جنگ میں نہیں گھسیٹنا چاہتا۔ اور اب اس ملک، جس کی وجہ سے ریاض کو یہ تباہی جھیلنی پڑ رہی ہے، کا سینیٹر سوال کر رہا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کی حفاظت کیوں کرے؟‘

انھوں نے سینٹیر کی ٹویٹ کو سعودی عرب کو اکسانے کی کوشش قرار دیا۔

محمد نامی سعودی صارف نے سینیٹر پر کڑی تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’سعودی عرب کو ہمت یا خطے کے دفاع کے بارے میں کوئی سبق دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ’ہم طویل عرصے سے عالمی توانائی کے استحکام کی بنیاد رکھتے آئے ہیں، جبکہ واشنگٹن ایران کے ساتھ سودے کرنے اور ہمارے دفاعی ہتھیاروں کو روکنے کے درمیان جھولتا رہا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’معاہدے پر سوال کرنے کے بجائے خود سے پوچھیں: ریاض جیسے طاقتور اتحادی کے بغیر مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟‘

X/HamadAlMajidi

،تصویر کا ذریعہX/HamadAlMajidi

قیس نامی سعودی صارف نے لکھا ’آپ نے اسرائیل کے لیے جنگ شروع کی اور یہ آپ کا مسئلہ ہے۔ اسرائیل ہمیں آپ کی طرح کنٹرول نہیں کرتا، ہم اپنی جنگیں اپنی شرائط پر شروع کرتے ہیں۔۔۔ ہمیں دھمکانے سے کچھ نہیں بدلے گا۔‘

خنجر نامی سعودی صارف نے لکھا ’سعودی عرب کسی ایسی جنگ میں دھوکے سے شامل نہیں ہوگا جو نیتن یاہو نے شروع کی ہو اور جس میں بعد میں واشنگٹن کے سیاستدان اسے تنہا چھوڑ دیں۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’سعودی بادشاہت اپنے قومی مفاد اور اپنے عوام کی سلامتی کے لیے اقدامات کرے گی، نہ کہ امریکی سینیٹرز کے مطالبات کے مطابق۔‘

سعودی عرب ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں براہِ راست حصہ لینے سے کیوں گریز کر رہا ہے؟

اس سوال کے جواب میں کہ لنڈسے گراہم جیسے امریکی سیاستدانوں کے دباؤ کے باوجود سعودی عرب ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں براہِ راست حصہ لینے سے کیوں گریز کر رہا ہے، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والی اور واشنگٹن میں مقیم پالیسی تجزیہ کار تقیٰ نصيرات کہتی ہیں کہ ’سعودی عرب ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی میں اس لیے شامل نہیں ہونا چاہتا کیونکہ اس جنگ کا آغاز اس نے نہیں کیا اور نہ ہی وہ خود کو اس میں گھسیٹنا چاہتا ہے۔‘

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’سعودی عرب کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ دوبارہ سیاحوں اور کاروباری افراد کو متوجہ کرنے اور اپنی معیشت کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کر سکے۔‘

تقیٰ کا ماننا ہے کہ ’سینیٹر گراہم کا دباؤ تضحیک آمیز ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ سعودی-امریکی تاریخی تعلقات سے مکمل طور پر نابلد ہیں۔‘

سعودی عرب کا یہ گریز صرف ایران کی طرف سے انتقامی کارروائی سے بچنے کے لیے ہے، یا اس میں امریکی سیکیورٹی ضمانتوں پر شک اور وسیع تر علاقائی جنگ سے بچنے کی خواہش بھی شامل ہے؟

اس حوالے سے تقیٰ نصيرات کہتی ہیں کہ ’صدر ٹرمپ کی جانب سے خطے کو ایک وسیع تر جنگ میں دھکیلتے دیکھنے کے بعد، سعودی عرب یقینی طور پر امریکی سیکیورٹی ضمانتوں پر شک کر رہا ہے، خاص طور پر جب وہ اپنے ملک کو ایرانی میزائلوں کی بارش سے بچانے کی جدوجہد کر رہا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’جو کچھ بھی سعودی عرب نے امریکہ کو فراہم کیا چاہے وہ سفارتی سہارا ہو، خفیہ معلومات ہوں یا کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری۔۔۔ یہ سب اس توقع کے ساتھ کیا گیا تھا کہ جب سعودی عرب خطرے میں ہوگا تو امریکہ اس کی مدد کو موجود ہوگا، نہ کہ یہ کہ اسے مدعو کیا جائے اور خطے میں تیزی سے پھیلتی ہوئی آگ میں مزید ایندھن ڈالنے کے لیے کہا جائے۔‘