کچے میں ’دہشت کی علامت‘ سمجھے جانے والے ڈاکو کا سرینڈر: ’یہ اندھڑ گینگ کا سب سے سفاک سربراہ تھا‘

،تصویر کا ذریعہPunjab Police
اینٹی ایئر کرافٹ گن کے ساتھ لمبے بالوں والا مخمنی سی جسامت کا ایک شخص کھڑا ہے جس کے ساتھ اس کا ایک دبلا پتلا ساتھی بھی موجود ہے جبکہ پنجاب پولیس رحیم یار خان کے سربراہ میڈیا کو بریفنگ دے رہے ہیں۔
یہ پنجاب پولیس کو درجنوں مقدمات میں مطلوب کچے کے علاقے میں سرگرم تنویر اندھڑ اور ان کے ساتھی ظفری جبھیل کے سرینڈر کی رُوداد ہے جن کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر تھی۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ رحیم یار خان میں ’کچے کے علاقے کے سب سے خطرناک ڈاکو‘ تنویر اندھڑ نے اپنے ساتھی ظفری جبھیل کے ہمراہ سرنڈر کر دیا ہے۔
رحیم یار خان پولیس کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) عرفان سموں کے مطابق سرینڈر کرنے والا ڈاکو ’اندھڑ گینگ کا سرغنہ ہے اور وہ قتل اور ڈکیتی سمیت درجنوں وارداتوں میں پولیس کو مطلوب تھا۔‘
پولیس کے مطابق رحیم یار خان میں سرینڈر کرنے والے ڈاکوؤں کی کل تعداد 229 ہو گئی ہے۔ پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اب تک آپریشن میں 69 ڈاکو ہلاک اور 97 ڈاکوؤں کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا ہے۔
ڈی پی او کے مطابق یہ گینگ ملتان موٹروے حملہ کیس، پانچ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت سمیت سنگین نوعیت کے 45 مقدمات میں مطلوب تھا۔
یاد رہے کہ اندھڑ گینگ اُس وقت شہ سرخیوں میں آیا تھا جب سنہ 2021 میں موٹر سائیکل پر سوار درجن بھر افراد نے صادق آباد کے ایک پیٹرول سٹیشن پر نو افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
پیٹرول پمپ پر پیش آنے والے اس اندوہناک واقعے کا منظر وہاں نصب سی سی ٹی وی کیمروں میں محفوظ ہو گیا تھا اور بعد میں سوشل میڈیا پر اس کی ویڈیوز گردش کرتی رہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی پولیس کے مطابق مسلح افراد کا تعلق اس علاقے میں گذشتہ کئی برسوں سے متحرک ’اندھڑ گینگ‘ سے تھا۔ گینگ کے سربراہ جان محمد عرف جانو اندھڑ بھی ان افراد میں شامل تھے۔

’یہ اس گینگ کا سب سے سفاک سربراہ تھا‘
تنویر اندھڑ کے سرینڈر سے متعلق بی بی سی کے لیے صحافی شیر علی خلطی کو مزید تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی پی او رحیم یار خان عرفان سموں کا کہنا تھا کہ تنویر اندھڑ، اندھڑ گینگ کا ’اب تک کا سب سے سفاک سربراہ تھا۔‘
اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ اب پنجاب کے نقشے پر کوئی ’نو گو ایریا‘ باقی نہیں رہا جبکہ کوئی منظم گینگ بھی موجود نہیں۔
ڈی پی او رحیم یار خان کے مطابق خود کو قانون کے سامنے خود کو سرینڈر کرنے والے ڈاکوؤں کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کر کے عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔
رحیم یار خان میں تعینات رہنے والے ایک سابق پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ تنویر اندھڑ متعدد پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث تھا۔
اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ایک سیاسی شخصیت کے کہنے پر تنویر اندھڑ نے سرینڈر کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی پنجاب اور سندھ کی سرحد پر واقع کچے کے علاقے میں اندھڑ گینگ کو ڈاکوؤں کے بڑے گینگز میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے۔
سنہ 2021 میں صوبہ پنجاب کی اسمبلی کے سابق رکن ممتاز چانگ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’یہ گینگ ایک فوجی آپریشن میں چند برس قبل ختم کیے جانے والے چھوٹو گینگ سے کہیں بڑا ہو چکا تھا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اندھڑ گینگ کے افراد پنجاب کی تحصیل صادق آباد کے چوک ماہی کے علاقے میں واقع ’60 فیصد سے زیادہ دکانوں اور کاروباری افراد سے ماہانہ بھتہ بھی وصول کرتا تھا۔‘
’انکار کرنے والوں کو اغوا کر لیا جاتا ہے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔‘
ان کے مطابق اس گینگ کو ختم کرنے میں پولیس کے لیے وسائل کے ساتھ ساتھ دوسرا بڑا چیلنج یہ تھا کہ کچے کے جس علاقے میں ڈاکو چھپے ہوئے تھے وہ دو صوبوں یعنی پنجاب اور سندھ میں پھیلا ہوا تھا۔
’اگر ایک علاقے کی پولیس ان کا تعاقب کرتی تھی تو وہ دوسرے علاقے کی طرف فرار ہو جاتے تھے اس لیے پولیس کے لیے ان کے پیچھے جانا مشکل ہو جاتا تھا۔‘
10 برس قبل ہونے والا ’پولیس آپریشن‘، خانو اور جانو اندھڑ کی ہلاکت
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
مقامی پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ کہانی سنہ 2016 سے شروع ہوتی ہے۔ اُس برس جولائی کے مہینے میں رحیم یار خان پولیس نے اندھڑ گینگ کے سات ڈاکوؤں کو ایک مبینہ آپریشن کے بعد ہلاک کرنے کا دعوٰی کیا تھا۔
یہ واقعہ اس وقت کے اخبارات میں بھی رپورٹ ہوا تھا جس میں پولیس کے آپریشن کے حوالے سے دعوؤں پر سوالات بھی اٹھائے گئے تھے۔
پولیس اہلکار نے دعویٰ کیا کہ ان سات ڈاکوؤں کو درحقیقت کشمور میں ایک پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا اور اس کے بعد رحیم یار خان پولیس اُن کی لاشوں کو چوک ماہی میں لے آئی تھی۔
یاد رہے کہ چوک ماہی کا علاقہ پنجاب اور سندھ کی سرحد پر واقع ہے اور ڈاکو زیادہ تر دونوں صوبوں کے کچے کے علاقے میں چھپ کر رہتے ہیں۔
پولیس اہلکار کے مطابق ’چوک ماہی میں ان ڈاکوؤں کی لاشوں کو سرعام سڑک پر رکھا گیا تھا۔ اس وقت وہاں جمع ہونے والے عوام نے اس کارروائی پر پنجاب پولیس زندہ باد کے نعرے بھی لگائے تھے۔‘
مارے جانے والے ان ڈاکوؤں میں ’اندھڑ گینگ‘ کے اُس وقت کے سرغنہ خانو اندھڑ بھی شامل تھے جو گینگ کے اُس وقت کے سربراہ جانو اندھڑ کے بھائی تھے۔
پولیس نے سنہ 2023 میں جانو اندھڑ کو ایک مشترکہ آپریشن میں ان کے پانچ ساتھیوں سمیت ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ جانو اندھڑ کی ہلاکت کے بعد تنویر اندھڑ کو گروہ کا سربراہ بنایا گیا تھا۔
اُس وقت کے ڈی پی او رحیم یار خان رضوان عمر گوندل کے مطابق مارے جانے والے ڈاکو گذشتہ چار برس کے دوران پنجاب اور سندھ پولیس کے دس سے زیادہ افسران اور اہلکاروں کے قتل میں بھی پولیس کو مطلوب تھے۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
کچے کا علاقہ کیا ہے؟
دریائے سندھ جیسے جیسے جنوب کی جانب بڑھتا ہے اس کی موجوں کی روانی سست اور اس کی وسعت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ جنوبی پنجاب کے قریب اس کی وسعت اسے ایک بڑے دریا سے کئی ندی نالوں میں تبدیل کر دیتی ہے جن کے درمیان کئی چھوٹے چھوٹے جزیرے نمودار ہوتے ہیں جن تک رسائی ریتلی زمین اور سڑکوں کی عدم موجودگی میں مشکل ہوتی ہے۔
اسی مشکل کو ڈاکو اپنی آسانی میں بدل کر یہاں پناہ گاہیں بنا کر آس پاس کے علاقوں میں دہشت پھیلاتے ہیں اور پولیس کی دسترس سے دور یہاں پناہ بھی لیتے ہیں اور وقت پڑنے پر قانون نافذ کرنے والوں کا مقابلہ بھی کرتے ہیں۔
یہ ساحلی پٹی جنوبی پنجاب، بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے سنگم پر واقع ہے اور نوآبادیاتی دور سے ڈاکوؤں اور آزادی کے لیے لڑنے والے جنگجوؤں کے لیے چھپنے کا ٹھکانہ رہا ہے۔ یہ علاقہ مختلف عملداریوں کے درمیان واقع ہے جس کی وجہ سے یہاں تک قانون کی رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔













