مودی کی اسرائیل آمد اور نیتن یاہو کا استقبال: انڈین وزیراعظم کا دورہ تنازعات کی زد میں کیوں؟

،تصویر کا ذریعہx
وزیرِاعظم نریندر مودی دو روزہ سرکاری دورے پر اسرائیل پہنچ چکے ہیں جہاں تل ابیب ایئرپورٹ پر ان کا استقبال خود اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کیا ہے۔
اس موقع پر مودی نے ایکس پر لکھا کہ انھیں اسرائیل آمد پر یہ اعزاز حاصل ہوا کہ ان کا استقبال وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ نے کیا۔
مودی نے کہا کہ اس دورے پر انڈیا اور اسرائیل کے درمیان دوستی کو مضبوط کرنے کے حوالے سے بات چیت ہو گی۔
اگرچہ اسرائیل میں انڈیا کے سفیر جے پی سنگھ نے وزیرِاعظم نریندر مودی کے دورۂ اسرائیل کو تاریخی قرار دیا ہے مگر ان کا یہ دورہ تنازعات میں گھرا ہوا ہے۔
اسرائیل کی اپوزیشن بُدھ کو پارلیمنٹ میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر کا بائیکاٹ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ واضح رہے کہ نریندر مودی پہلے انڈین رہنما ہوں گے جو اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے۔
جے پی سنگھ شاید اسی وجہ سے اسے تاریخی قرار دے رہے ہیں۔ اس دورے کے دوران انڈین وزیرِاعظم تل ابیب میں اپنے اسرائیلی ہم منصب جناب بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ متعدد امور پر بات چیت کریں گے اور یروشلم میں متعدد پروگرام بھی منعقد ہوں گے۔
فوربز انڈیا کے مطابق انڈیا اسرائیل کے ساتھ مجموعی طور پر 8.6 بلین ڈالر کے دفاعی معاہدے کرنے جا رہا ہے جن کے تحت سپائس 1000 پرسیژن گائیڈڈ بم، ہوا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل، بیلسٹک میزائل اور آئس بریکر میزائل سسٹم خریدے جائیں گے۔
دفاعی ماہر سنجیو سریواستو کا کہنا ہے کہ مودی کے دورے کے دوران اسرائیل کے ساتھ جن اہم دفاعی معاہدوں پر دستخط کیے جا سکتے ہیں، ان میں جدید ڈرونز کی خریداری بھی شامل ہو گی۔ ان معاہدوں کے تحت انڈیا اس بات پر زور دیے سکتا ہے کہ اسرائیلی ڈرون انڈیا میں تیار ہوں۔ دی ہندو اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا اسرائیل سے ہیرون ایم کے 2 ڈرونز کی اضافی مقدار خریدنے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایئرفورس ٹیکنالوجی ڈاٹ کام کے مطابق یہ ڈرون ایک وقت میں 45 گھنٹے تک مسلسل ہوا میں پرواز کر سکتا ہے۔ یہ ڈرون تقریباً 470 کلو گرام کا پے لوڈ لے جا سکتا ہے اور تقریباً 35,000 فٹ کی بلندی تک اڑنے کے علاوہ ہر قسم کے موسم میں اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم اب تک انڈیا کی حکومت کی جانب سے ان معاہدوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ معلومات شیئر نہیں کی گئیں۔
لیکن اس معاہدے سے زیادہ اس وقت یہ دورہ ایک اور تنازع میں گھر چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہx
وزیر اعظم مودی کے خطاب پر تنازع کیا ہے؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اسرائیلی نیوز ویب سائٹ ہارٹیز کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے سپیکر نے اس اجلاس کے سپریم کورٹ کے سربراہ جسٹس آئزک امیت کو خصوصی اجلاس میں مدعو نہیں کیا ہے۔
خصوصی اجلاس کے لیے عدلیہ کے سربراہ کو مدعو کرنے کی روایت ہے جس وجہ سے اپوزیشن احتجاج کر رہی ہے۔
اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے ’کان‘ کے مطابق کنیسٹ کے سپیکر امیر اوہانا نے کہا کہ اپوزیشن کے بائیکاٹ کی صورت میں وزیر اعظم مودی خالی پارلیمنٹ سے خطاب نہیں کریں گے اور اس وجہ سے وہ اب خالی نشستوں کو بھرنے کے لیے سابق قانون سازوں کو مدعو کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
جوڈیشل اتھارٹی کے ترجمان نے پیر کو ٹائمز آف اسرائیل کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے صدر آئزک امیت کو ابھی تک کنیسیٹ میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب کا دعوت نامہ موصول نہیں ہوا ہے۔ دعوت نامہ نہ بھیجے جانے کی تصدیق کنیسٹ سپیکر امیر اوہانا کے ترجمان نے بھی کی۔
ان سے جب طے شدہ پروٹوکول کے مطابق دعوت نامے بھیجنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ یہ ’کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘
اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیر اعظم یائر لیپڈ نے 23 فروری کو ایکس پر لکھا کہ ’میں وزیر اعظم نیتن یاہو سے کہوں گا کہ وہ پارلیمنٹ کے سپیکر کو ہدایت دیں کہ وہ سپریم کورٹ کے صدر کا بائیکاٹ نہ کریں اور اپوزیشن کو انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے اعزاز میں منعقدہ رسمی اجلاس میں شرکت کی اجازت دیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم سیشن میں ہوں، وزیر اعظم نیتن یاہو کو پارلیمنٹ میں شرکت کی اجازت دینی چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بائیکاٹ کی دھمکی پر تنازع
ہاریٹز اخبار کے مطابق سپریم کورٹ کے صدر آئزک امیت کو مدعو نہ کرنے کا فیصلہ نیتن یاہو حکومت کی سپریم کورٹ کے صدر اور اٹارنی جنرل کے اختیار کو چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے اختیارات میں ترامیم سے متعلق قانون سازی متعارف کرانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
یائر لیپڈ نے گذشتہ ہفتے مجوزہ بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’جسٹس آئزک امیت کا بائیکاٹ دراصل اپوزیشن کا بائیکاٹ کرنا ہے اور اس طریقے سے وہ ہمیں اجلاس میں شرکت کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔‘
ہاریٹز کے مطابق جمعرات کو کنیسٹ میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حزب اختلاف 'ڈیڑھ ارب آبادی والے ملک کے رہنما کو آدھی خالی پارلیمنٹ کے سامنے کھڑا کر کے انڈیا کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتی۔' یائر لیپڈ نے دعویٰ کیا کہ اس صورتحال پر انڈین سفارت خانہ سہما ہوا ہے۔
امیر اوہانا نے 18 فروری کو یائر لیپڈ کی دھمکی کو سیاسی محاذ آرائی میں ایک غیر قانونی ہتھیار قرار دیا تھا۔
انھوں نے سابق وزیر اعظم سے اپیل کی کہ وہ دنیا کی اہم ترین طاقتوں میں سے ایک کے ساتھ اسرائیل کے بین الاقوامی تعلقات کو خراب نہ کرے۔
امیر اوہانا نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’یائر لیپڈ کو انڈین سفارت خانے کے ساتھ اپنی اگلی بات چیت میں وضاحت کرنی چاہیے کہ انھوں نے صدر جیویر ملی اور صدر ٹرمپ کے اعزاز میں منعقدہ خصوصی اجلاسوں کا بائیکاٹ کیوں نہیں کیا حالانکہ جسٹس آئزک امیت کو ان میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن اب وہ انڈیا کے وزیر اعظم کا بائیکاٹ کرنا چاہتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ کے صدر کا بائیکاٹ
آئزک امیت کے جنوری 2025 میں عدلیہ کے صدر منتخب ہونے کے بعد وزیر انصاف یاریو لیون نے ان کے اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور بعد ازاں ان سے ملنے، عدالت کے سربراہ کے طور پر خطاب کرنے یا ان کی تقرری کو ریاستی گزٹ میں شائع کرنے سے انکار کر دیا۔
کچھ دوسرے حکومتی ارکان نے بھی اس موقف کی حمایت کی اور سمندر پار اسرائیلیوں کے امور کے وزیر امیہائی چکلی نے وزیر مواصلات شلومو کارہی کے ساتھ مل کر کئی مواقع پر حکومت سے اہم عدالتی احکامات اور فیصلوں کی تعمیل نہ کرنے کی اپیل کی۔
اس بائیکاٹ کے نتیجے میں آئزک امیت کا نام کنیسٹ کے کئی پروگراموں سے خارج کر دیا گیا جس میں انھیں روایتی طور پر مدعو کیا جاتا ہے، جیسے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنماؤں کی تقاریر کے دوران بھی کیا گیا تھا۔
گذشتہ سال اکتوبر میں کنیسٹ کے 2025 کے سرمائی قانون ساز اجلاس کے آغاز کے دوران سپیکر امیر اوہانا نے آئزک امیت کو چیف جسٹس کے بجائے محض ایک جج کے طور پر مخاطب کیا، جس پر صدر آئزک ہرزوگ نے اعتراض کیا۔
دو ہفتے قبل اپوزیشن نے آئزک امیت کے مدعو کرنے سے انکار پر احتجاجاً پارلیمنٹ کے 77ویں سالگرہ کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ یائر لیپڈ واحد اپوزیشن رکن تھے جنھوں نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو کے عدالتی صدر کے ساتھ برتاؤ پر تنقید کی۔













