افغانستان میں جلاوطنی، عمران خان سے دوریاں اور پھر قربتیں: محمود خان اچکزئی کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, اسد صہیب اور محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اُردو
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
سپیکر قومی اسمبلی کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے محمود خان اچکزئی کو قائدِ حزبِ اختلاف بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا نوٹیفکیشن قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے طریق کار 2007 کے قاعدہ 39 کے تحت جاری کیا گیا۔
تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان اور ارکانِ قومی اسمبلی جنید اکبر، سردار محمد لطیف خان کھوسہ سمیت دیگر نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے نوٹیفکیشن وصول کیا۔
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گذشتہ برس اگست میں نو مئی کے کیسز میں انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں سے سزائیں پانے والے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے نو اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دے دیا تھا، جن میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان بھی شامل تھے۔
اگست کے بعد سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ خالی تھا اور اس حوالے سے حکومت کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا تھا۔
محمود خان اچکزئی کے نوٹیفکیشن پر جہاں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اُنھیں مبارکباد دے رہے ہیں تو وہیں بعض مبصرین پاکستان تحریک انصاف کے 70 کے لگ بھگ ارکان اسمبلی کے باوجود محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر سوال بھی اُٹھا رہے ہیں۔
لیکن اس سے یہ سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ عمران خان نے محمود خان اچکزئی کا ہی انتخاب کیوں کیا؟ اس فیصلے کا پی ٹی آئی کو کتنا فائدہ ہو گا؟ کیا یہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین کسی مفاہمت کا نتیجہ ہے؟ یہ جاننے کے لیے ہم نے سیاسی مبصرین سے بات کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@NAofPakistan
کیا محمود اچکزئی کی تقرری سے پی ٹی آئی کو فائدہ ہو گا؟
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کے مطابق محمود اچکزئی کا تعلق تحریک انصاف سے نہیں لیکن عمران خان نے ہی اُنھیں اپوزیشن لیڈر بنانے کا فیصلہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُن کے بقول ایک وقت میں عمران خان، محمود خان اچکزئی کے حوالے سے بہت سخت موقف رکھتے تھے لیکن اب اُن ہی عمران خان نے اُنھیں اپوزیشن لیڈر بنایا۔
مظہر عباس کے بقول محمود اچکزئی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ’تحریک تحفظ آئینِ پاکستان‘ کے بھی سربراہ ہیں اور اُن کا شمار ملک کے قد آور سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ ’لہذا اس سے تحریک انصاف کو تو فائدہ ہو گا ہی بلکہ اس سے حکومت کی ساکھ بھی بہتر ہو گی۔‘
واضح رہے کہ سنہ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے اسلام آباد میں احتجاج اور دھرنوں کے دوران محمود اچکزئی نے اُس وقت کی نواز شریف حکومت کا ساتھ دیا تھا، جس پر عمران خان نے محمود اچکزئی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
محمود اچکزئی، عمران خان کی حکومت کے خلاف بننے والے پاکستان ڈیمو کریٹک الائنس (پی ڈی ایم) کا بھی حصہ تھے اور عمران خان پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔
لیکن سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی، مظہر عباس سے اتفاق نہیں کرتے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان غنی کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی کی تقرری سے تحریک انصاف کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
اُن کے بقول محمود اچکزئی بھی عمران خان کی طرح اسٹیبلشمنٹ کے معاملے پر جارحانہ موقف رکھتے ہیں اور بظاہر پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی کے ارکان ایک متوازن پالیسی کے خواہاں ہیں۔
سلمان غنی کا دعویٰ ہے کہ تحریکِ انصاف کے ارکان نے نیم دلی کے ساتھ محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنایا۔
’محمود اچکزئی کے خیالات عمران خان سے ملتے ہیں، لہذا اُن کے اپوزیشن لیڈر بننے سے تحریک انصاف کے لیے مشکلات مزید بڑھیں گی۔‘
سلمان غنی کہتے ہیں کہ محمود اچکزئی، افغانستان اور خیبر پختونخوا کے معاملات پر ایک خاص موقف رکھتے ہیں اور جب وہ ایوان میں اس پر بات کریں گے تو اس سے تناؤ بڑھے گا۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مثال ہے، جس میں پارٹی لیڈر نے اپنی پارٹی کے ارکان اسمبلی کو نظرانداز کر کے ایک دوسری پارٹی کے رُکن اسمبلی کو اپوزیشن لیڈر بنا دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اپوزیشن لیڈر کی تقرری میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
مظہر عباس کہتے ہیں کہ پہلے سپیکر قومی اسمبلی نے یہ کہا کہ عمر ایوب کی نااہلی کا کیس زیر التوا ہے اور پھر اُنھوں نے کچھ تکنیکی بنیادوں پر اس معاملے میں دیر کی لیکن سب کچھ واضح ہو جانے کے باوجود اس معاملے میں غیر ضروری تاخیر ہوئی۔
اُن کے بقول ’یہ تقرری آج سے ایک ماہ پہلے بھی ہو سکتی تھی۔ بظاہر اس میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ پی ٹی آئی کے 70 سے زائد ارکان اپنے دستخطوں کے ساتھ محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے سپیکر کو لکھ کر دے چکے تھے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ اس تاخیر کی وجہ سے خوامخوہ ایک سیاسی کشیدگی کا ماحول بنا لیکن اب اگلے مرحلے میں اعلی عہدوں پر تعیناتیوں کے لیے کم از کم حکومت اور اپوزیشن کے مابین رابطوں کا سلسلہ شروع ہو گا اور سیاسی تلخیوں میں بھی کچھ کمی کی توقع کی جا سکتی ہے۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر اپنے عہدے کی میعاد پوری کر چکے ہیں، لہذا اب حکومت اور اپوزیشن اس معاملے پر مشاورت کے بعد اس اہم عہدے کے لیے تعیناتی کریں گے۔
سلمان غنی کے بقول سپیکر قومی اسمبلی نے عمر ایوب کے کیس کی وجہ سے اپوزیشن لیڈر کی تقرری میں تاخیر کی تھی لیکن یہ معاملہ حل ہونے کے بعد تقرری میں تاخیر کی کوئی وجہ نہیں تھی۔
اُن کے بقول ایک منتخب حکومت، ایوان میں اپوزیشن لیڈر نہ ہونے کی زیادہ متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کی وجہ سے اس کی ساکھ پر بھی سوال اُٹھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ حکومت نہیں چاہتی تھی کہ اپوزیشن لیڈر ایوان میں جارحانہ تقاریر کرے، اس لیے اس معاملے میں تاخیر ہوئی۔
سلمان غنی نے دعویٰ کیا کہ یہ تقرری بھی مشروط ہے۔ اُنھوں نے سپیکر قومی اسمبلی سے اپنی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’سپیکر ایاز صادق نے کہا ہے کہ اگر محمود اچکزئی نے فوج یا ریاستی اداروں کے خلاف سخت تقاریر کرنے کی کوشش کی تو انھیں بولنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا محمود اچکزئی کی تقرری حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کسی مفاہمت کا نتیجہ ہے؟
کیا محمود اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری حکومت اور اپوزیشن کے مابین کسی مفاہمت کا نتیجہ ہے یا کوئی برف پگھلی؟ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مظہر عباس کا کہنا تھا کہ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ برف پگھلی لیکن یہ ضرور ہے کہ اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن دونوں نے ذمے داری کا مظاہرہ کیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ محمود اچکزئی کس طرح پوری اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلتے ہیں اور وہ عمران خان کی توقعات پر کس حد تک پورا اُترتے ہیں۔
مظہر عباس کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی کا پہلا امتحان آٹھ فروری کو دی جانے والی احتجاج کی کال ہو گی اور بطور اپوزیشن لیڈر عمران خان اُن سے توقع کریں گے کہ وہ اس احتجاج کو کامیاب بنانے کے لیے کام کریں۔
’وہ تحریک تحفظ آئین کے بھی سربراہ ہیں اور اپوزیشن نے آٹھ فروری کو ملک گیر احتجاج کی کال دی ہوئی، تو دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا وہ اس حوالے سے کیا حکمت عملی تیار کرتے ہیں۔‘
مظہر عباس کہتے ہیں کہ چیف الیکشن کمیشن، چیئرمین نیب اور اس نوعیت کی اعلی تقرریوں کے لیے حکومت کے لیے اپوزیشن لیڈر سے مشاورت لازمی ہے۔ کیونکہ آنے والے دنوں میں کچھ تقرریاں کی جانی ہیں تو حکومت کے لیے بھی اپوزیشن لیڈر کی تقرری ضروری تھی۔
اُن کے بقول جب حکومت اور اپوزیشن قومی معاملات پر ایک ساتھ بیٹھیں گے تو اس سے سیاسی تلخی بھی کم ہو گی۔
سلمان غنی بھی مظہر عباس سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ کسی مفاہمت کا نتیجہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر پاکستان کی سیاست میں اس وقت کوئی مفاہمت ہونی ہے تو وہ جیل میں بیٹھے عمران خان اور ملک کی اسٹیبلشمنٹ کے مابین ہونی ہے۔
’اُمید ہے کہ وہ عمران خان کا اعتماد نہیں توڑیں گے‘
محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے معاملے پر پارٹی میں اختلافات کے تاثر کو رد کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف گوہر خان نے کہا کہ اس حوالے سے پارٹی میں کوئی دو رائے نہیں۔
قومی اسمبلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ ’محمود اچکزئی کے فارم پر ہم سب نے سائن کیے، اس حوالے سے پارٹی کے اندر کوئی دو رائے نہیں۔‘
رہنما تحریک انصاف ذلفی بخاری نے ایکس پر لکھا کہ ’میں محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بننے پر مبادکباد پیش کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ عمران خان کے اعتماد کو نہیں توڑیں گے۔‘
قومی اسمبلی میں سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے ایکس پر لکھا کہ اپوزیشن لیڈر بننا اعزاز کی بات ہے اور مجھے اُمید ہے کہ وہ بہترین انداز میں اپنی ذمے داریاں پوری کریں گے۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ 77 سالہ محمود خان اچکزئی کئی دہائیوں سے پاکستان کی سیاست میں سرگرم ہیں۔
بلوچستان کے علاقے قلعہ عبداللہ میں پیدا ہونے والے محمود اچکزئی متعدد بار رُکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں جبکہ ملک میں چلنے والی متعدد تحریکوں میں بھی پیش پیش رہے ہیں۔
محمود خان اچکزئی کون ہیں؟
محمود خان اچکزئی 14 دسمبر 1948 کو بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان میں پیدا ہوئے تھے۔
انھوں نے ابتدائی تعلیم گلستان کے اسکول سے حاصل کی جبکہ ایف ایس سی سائنس کالج کوئٹہ سے کرنے کے بعد ان کا داخلہ انجنیئرنگ یونیورسٹی پشاور میں ہوا، جہاں سے انھوں نے مکنیکل انجنیئرنگ میں گریجویشن کی۔
چونکہ سیاست ان کو ورثے میں ملی تھی اس لیے انھوں نے زمانہ طالب علمی سے ہی سیاست کا آغاز کیا اور انجنیئرنگ کو بطور پروفیشن نہیں اپنایا۔
جب ان کے والد خان عبدالصمد خان اچکزئی کو 1973 میں قتل کیا گیا تو محمود خان اچکزئی کو پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کا چیئرمین منتخب کرلیا گیا۔
بعد میں مزدور کسان پارٹی سے انضمام کے بعد اس پارٹی کا نام تبدیل کرکے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی رکھ دیا گیا اور وہ تب سے اب تک اس کے چیئرمین منتخب ہوتے چلے آرہے ہیں۔
افغانستان جلاوطنی
جب سابق فوجی آمر جنرل ضیا الحق نے پاکستان میں مارشل لا نافذ کیا تو محمود خان اچکزئی نے نہ صرف اس کی مخالفت کی بلکہ اس کے خلاف عملی جدوجہد کی۔
7 اکتوبر 1983کو کوئٹہ میں جب مارشل لا کے خلاف محمود خان اچکزئی اور دیگر سیاسی قائدین کی قیادت میں جلوس نکالا گیا تو مسجد روڈ پر جلوس پر پولیس نے مبینہ طور فائرنگ کی جس میں پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چار کارکن زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس واقعے کے بعد زندگی کو خطرات کے پیشِ نظر پارٹی کے قائدین کی مشاورت سے محمود خان اچکزئی افغانستان گئے اور وہاں جلاوطنی اختیار کی۔
تاہم ضیا الحق کے طیارہ حادثے میں مارے جانے کے بعد جب پاکستان میں جہموریت بحال ہوئی تو وہ واپس پاکستان آئے۔
شروع میں مخالفت اور بعد میں نواز شریف سے اتحاد
محمود خان اچکزئی اور ان کی جماعت اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دینے پر نواز شریف اور ان کی جماعت مسلم لیگ کے شدید مخالفین میں شامل رہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نواز شریف جب بھی کوئٹہ آتے تو پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے ان کا سیاہ پرچموں سے استقبال کیا جاتا رہا۔
تاہم پہلی حکومت کے خاتمے کے بعد جب نواز شریف کے رویے میں اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں تبدیلی آئی تو محمود خان اچکزئی کا ان کے ساتھ اتحاد ہوا۔
محمود خان اچکزئی نے آئین سے 58 ٹو بی کو نکالنے اور سابق آمر جنرل ضیا کے دیگر اقدامات کے خاتمے میں نواز شریف اور پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا۔
محمود خان اچکزئی 1990، 1993، 2002، 2013 اور 2024 کے عام انتخابات میں بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔
جنرل مشرف کے مارشل لا کی مخالفت
جب سابق آمر جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کو ختم کرکے پاکستان میں مارشل لا لگایا تو محمود خان اچکزئی اور ان کی جماعت نے پہلے دن سے ہی اس کی مخالفت کی۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مطابق اسی مخالفت کی وجہ سے محمود خان اچکزئی اور ان کے قریبی لوگو ں کے خلاف مبینہ انتقامی کاروائیاں شروع کی گئیں۔
پشتونخوا میپ کا الزام ہے کہ مارشل لا کی مخالفت کی وجہ سے بلوچستان میں سب سے پہلے پارٹی کی اہم شخصیت محمد یوسف عرف گران کی گرفتاری کے لیے رات کی تاریکی میں ان کے گھر چھاپہ مارا گیا، جس میں پارٹی کے رہنما کے بعض قریبی رشتہ دار اور محافظ مارے گئے۔
تاہم سرکاری حکام کے مطابق اس چھاپے کے دوران پارٹی کے رہنما کے مسلح محافظوں کی جانب سے فائرنگ سے ایک فوجی اہلکار مارا گیا جبکہ پولیس اور انتظامیہ کے بعض اہلکار زخمی ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 2000 کے اوائل میں محمود خا ن اچکزئی نے قوم پرست جماعتوں کی اتحاد پونم یعنی پاکستان کے محکوم اقوام کی تحریک بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
جب صحت کی وجہ سے سردار عطااللہ مینگل پونم کی سربراہی سے دستبردار ہوئے تو محمود خان اچکزئی کو اس کا سربراہ بنا دیا گیا۔
نواز لیگ سے دوری
جب تحریک انصاف اور علامہ طاہرالقادری کی جانب سے نوازشریف کی حکومت کے خلاف لانگ مارچ اور دھرنا دیا گیا تو محمود خان اچکزئی نے اسے اسٹیبلشمنٹ کی سازش قرار دے کر نواز شریف کا بھرپور ساتھ دیا۔
تاہم 2018 کے عام انتخابات کے بعد جب تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں میاں شہباز شریف کی حکومت بنی تو محمود خان اچکزئی اس کا حصہ نہیں بنے بلکہ وہ شہباز شریف کے بعض اقدامات کی مخالفت کرتے رہے، کیونکہ مبصرین کے مطابق ان اقدامات کو وہ نوازلیگ کی ووٹ کو عزت دو کے نعرے کو ترک کرنے کے مترادف سمجھتے رہے۔
2024 کے عام انتخابات کے بعد نہ صرف محمود خان اچکزئی حزب اختلاف کا حصہ بنے بلکہ تحریک انصاف کے ساتھ مل کر تحریک تحفظ آئین پاکستان کے نام سے موجودہ حکومت کے خلاف ایک محاذ قائم کیا جس کا محمود خان اچکزئی کو اتفاق رائے سے سربراہ مقرر کیا گیا۔
اکثریت میں ہونے کے باوجود 2024 میں تحریک انصاف نے پارٹی سے تعلق رکھنے والی کسی شخصیت کی بجائے محمود خان اچکزئی کو پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار نامزد کیا۔












