اربوں سے کھربوں کا سفر، آئی پی ایل کی دو ٹیموں کی مالیت میں 19 سال کے دوران کتنا اضافہ ہوا

آر سی بی دفاعی چیمپیئن ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآدتیہ برلا گروپ کے مطابق ان کی سربراہی والے کنشورشیم نے آر سی بی کو 16500 کروڑ روپے میں خریدا ہے
    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

کرکٹ کی سب سے امیر لیگ آئی پی ایل میں پہلی بار کی چیمپیئن ٹیم راجستھان رائلز (آر آر) اور موجودہ فاتح رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) ریکارڈ قیمتوں میں فروخت ہوئی ہیں۔

اگرچہ انڈین پریمیئر لیگ اور اس کو چلانے والے ادارے انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن انڈین میڈیا میں اس حوالے سے اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔

آر سی بی کو آدتیہ برلا گروپ کی سربراہی میں خریدنے والے کنسورشیم کے مطابق یہ ڈیل تقریبا 16500 کروڑ روپے (1.78 ارب ڈالر) میں ہوئی ہے۔ جبکہ انڈین میڈیا کے مطابق امریکی کاروباری شخصیت کل سومانی کی سربراہی میں ایک کنسورشیئم نے راجستھان رائلز کو خریدنے کے لیے 1.63 ارب ڈالر کی کامیاب بولی لگائی۔

’450 کروڑ کی سرمایہ کاری 16500 کروڑ میں بدل گئی‘

آر سی بی خریدنے والے گروپ آدتیہ برلا گروپ کی ویب سائٹ کے مطابق ’آدتیہ برلا گروپ، ٹائمز آف انڈیا گروپ، بولٹ وینچرز، اور بلیک سٹون کی مستقل پرائیوٹ ایکویٹی سٹریٹیجی، بی ایکس پی ای (بلیک سٹون) نے آر سی بی کا 100 فیصد مالکانہ حق حاصل کرنے کے لیے ایک حتمی معاہدے پر دستخط کیا ہے۔‘

اس معاہدے کے تحت مردوں کی انڈین پریمیئر لیگ فرنچائزی اور ویمنز یونائیٹڈ لیگ کے لیے برطانوی کمپنی ڈیاجیو پی ایل سی کی ذیلی کمپنی یونائٹڈ سپرٹس لمیٹڈ (یو ایس ایل) سے 100 فیصد حصہ حاصل کر لیا ہے۔‘

دوسری جانب آر سی بی کے سابقہ مالک اور ارب پتی تاجر وجے مالیہ (جو مفرور ہیں اور کئی برسوں سے انھیں انڈیا لانے کی کوششیں جاری ہیں) نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اس کے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے نئے مالکان کو مبارکباد دی ہے۔

انھوں نے لکھا: ’میرا ایک جنون رائل چیلنج برانڈ بنانا تھا اور اسی کے پیش نظر میں نے فرنچائز کا نام آر سی بی رکھا۔ مجھے اپنی 450 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو 16،500 کروڑ روپے تک بڑھتے ہوئے دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔

’آر سی بی ہمیشہ میرے ڈی این اے کا حصہ رہے گی جس میں انمٹ یادیں شامل ہیں جس میں نوجوان وراٹ کوہلی کا انتخاب بھی شامل ہے جو اب دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔‘

اگر وجے مالیہ کے حساب سے دیکھا جائے تو 19 سال میں آر سی بی کی قیمت میں 36 گنا اضافہ ہوا ہے۔

ہم نے بی سی سی آئی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا کے دفتر سے ہمیں یہ جواب ملا کہ جیسے ہی اس کے متعلق دستاویزات ان کے پاس آئیں گی وہ اس کے متعلق ہمیں مطلع کریں گے۔

اس سے قبل انڈیا میں آئی پی ایل کو متعارف کرانے والے اور آئی پی ایل کے پہلے چیئرپرسن للت مودی (جو مفرور ہیں) سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ان کا ابھی تک جواب نہیں آیا ہے۔

آئی پی ایل کا پہلا ایڈیشن راجستھان رائلز نے شین وارن کی قیادت میں حیرت انگیز طور پر جیت لیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآئی پی ایل کا پہلا ایڈیشن راجستھان رائلز نے شین وارن کی قیادت میں حیرت انگیز طور پر جیت لیا تھا

راجستھان رائلز کی فروخت

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

دوسری جانب انڈین اخبارات ’دی ہندو‘ اور ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکہ میں مقیم کاروباری شخصیت کل سومانی کی قیادت میں ایک کنسورشیم نے راجستھان رائلز کی بولی جیت لی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ کنسورشیم برلا گروپ کی حمایت والی بولی اور ٹائمز آف انڈیا گروپ کے خلاف مقابلہ کر رہا تھا۔

خیال ہے کہ اس نے تقریباً 1.63 ارب ڈالر یعنی تقریبا 15،300 کروڑ روپے کی بولی لگائی اور مالکانہ حقوق حاصل کر لیا ہے لیکن ملکیت میں تبدیلی پر جون میں عمل در آمد کی امید کی جا رہی ہے۔

دی ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں مقیم تاجر منوج بڈالے نے جے پور کی ٹیم راجستھان رائلز کو 67 ملین امریکی ڈالر (تقریبا 620 کروڑ روپے) میں خریدا تھا۔ یعنی 19 سال میں اس کی قیمت میں تقریبا 24 گنا اضافہ نظر آ رہا ہے۔

واضح رہے کہ مسٹر سومانی پہلے سے ہی راجستھان رائلز کے سرمایہ کاروں میں سے ایک رہے ہیں۔ وہ ایڈ ٹیک، ڈیٹا پرائیویسی، مصنوعی ذہانت اور کھیلوں کی ٹکنالوجی پر محیط کاروبار میں دخل رکھتے ہیں۔

انھوں نے اپنے لنکڈاِن پروفائل پر راجستھان رائلز میں اپنی سرمایہ کاری کا ذکر کر رکھا ہے۔

اس کنسورشیم کو وال مارٹ فیملی کے روب والٹن اور ہیمپ فیملی کی بھی حمایت حاصل ہے، جو ڈیٹرائٹ لائنز کی اکثریت ملکیت رکھتا ہے۔

فورڈ خاندان سے تعلق رکھنے والی شیلا فورڈ ہیمپ بھی اس گروپ سے وابستہ ہیں۔ فورڈ فیملی فورڈ موٹرز کمپنی میں اہم حصہ رکھتی ہے۔

مسٹر سومانی کی کھیلوں کے ساتھ وابستگی اس بات سے واضح ہے کہ وہ موٹر سٹی گالف کلب کی شریک ملکیت کے ساتھ ٹی ایم آر ڈبلیو سپورٹس اور ٹی جی ایل گالف لیگ جیسے منصوبوں کے ابتدائی مرحلے کی سرمایہ کاری میں بھی شامل رہے ہیں۔

شین وارن راجستھان رائلز کی مالکان میں سے ایک اداکارہ شلپا شیٹی کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنشین وارن راجستھان رائلز کی مالکان میں سے ایک اداکارہ شلپا شیٹی کے ساتھ

شین وارن کی وراثت

اسی دوران یہ خبر بھی انڈین میڈیا میں گردش کر رہی ہے کہ آسٹریلیا کے مایہ ناز سپنر شین وارن نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد راجستھان رائلز میں شمولیت کے لیے اگرچہ سالانہ فیس کم رکھی تھی لیکن انھوں نے 0.75 فیصد سالانہ شیئر کیا مطالبہ کا تھا۔

راجستھان رائلز کی فروخت کے بعد انڈین میڈیا میں اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ سپن کے بادشاہ نے اصل کاروباری صلاحیت آر آر کے ساتھ معاہدے میں دکھائی۔

وہ چار سیزن تک اس ٹیم کے ساتھ وابستہ رہے اور انھوں نے اس طرح تین فیصد حاصل کیا جو کہ 460 کروڑ روپے بنتے اور یہ رقم ان کے وارثین کو ملیں گی کیونکہ سنہ 2022 میں ان کی وفات ہو گئی۔

بعض میڈیا ہاؤسز نے ان کی کمائی کا موازنہ 18 سیزن کھیلنے والے وراٹ کوہلی، روہت شرما اور مہیندر سنگھ دھونی کی کمائی سے کیا ہے جن کی کمائی بالترتیب 230 کروڑ روپے، 211 کروڑ اور 192 کروڑ سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

راجستھان رائلز یا بی سی سی آئی کی جانب سے شین وارن کی جانب سے ایسے کسی معاہدے کی تصدیق نہیں ہے۔

آئی پی ایل کے پہلے چیئرپرسن للت مودی کے ساتھ کولکتہ نائٹ رائڈرز کے مالکان میں سے ایک اداکار شاہ رخ خان اور کنگز الیون پنجاب کی مالکان میں سے ایک پریتی زنٹا

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنآئی پی ایل کے پہلے چیئرپرسن للت مودی کے ساتھ کولکتہ نائٹ رائڈرز کے مالکان میں سے ایک اداکار شاہ رخ خان اور کنگز الیون پنجاب کی مالکان میں سے ایک پریتی زنٹا

آئی پی ایل کی کُل مالیت

ان خریداریوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ کھیلوں کی دنیا میں کتنی اہمیت کی حامل ہے اور اس میں منفعت کی کتنی امید رکھی جا رہی ہے۔

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سپورٹس اینڈ مینجمنٹ اور دی ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹس کے مطابق گذشتہ سال تک آئی پی ایل کی مجموعی قیمت کا تخمینہ 18.5 ارب ڈالر لگایا گیا تھا جبکہ اس کے ریوینو کا تخمینہ 9.5 ارب ڈالر لگایا گیا۔

دی اکانومک ٹائمز نے انویسٹمنٹ بینک ہالیہان لوکی کی ایک رپورٹ کے حوالے سے لکھا ہے آئی پی ایل کی مالیت میں سالانہ تقریبا 13 فیصد کا اضافہ دیکھا گيا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق لیگ کی برانڈ ویلو 3.9 ارب ڈالر ہے جو کہ فی میچ اسے دنیا کی دوسری سب سے قیمتی ليگ بناتی ہے۔ اس کے اوپر صرف این ایف ایل (نیشنل فٹبال لیگ) ہی ہے۔

دوسری جانب آئی پی ایل کی آمدن کا سب سے بڑا حصہ اس کے میڈیا رائٹس سے آتا ہے۔ سنہ 2023 سے 2027 تک کے لیے اسے 6.2 ارب ڈالر میں فروخت کیا گیا ہے۔

راجستھان رائلز کے ویبھو سوریہ ونشی نے گذشتہ سال 14 سال کی عمر میں اپنی تیز بیٹنگ سے سب کی توجہ اپنی جانب مرکوز کی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنراجستھان رائلز کے ویبھو سوریہ ونشی نے گذشتہ سال 14 سال کی عمر میں اپنی تیز بیٹنگ سے سب کی توجہ اپنی جانب مرکوز کی تھی

دو دن بعد یعنی 28 مارچ سے شروع ہونے والے آئی پی ایل کے اس 19 ویں سیزن میں دس ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں اور اس میں کل 84 میچز ہوں گے جو کہ اب تک کی ریکارڈ تعداد ہے۔ اس میں ہر ٹیم دوسری ٹیم سے دو دو میچز کھیلے گی۔

سنرائزرس حیدرآباد نے اپنی ٹیم میں سب سے زیادہ تبدیلی کی ہے جبکہ رشبھ پنت اب تک کے سب سے مہنگے خریدے جانے والے کھلاڑی ہیں لکھنؤ سپر جانئٹس نے 27 کروڑ روپے میں ان کی خدمات حاصل کی ہیں۔

بیرونی کھلاڑیوں میں شاہ رخ خان کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائڈرز نے کمیرون گرین کی 25 کروڑ 20 لاکھ روپے میں خدمات حاصل کی ہیں۔ اسی ٹیم نے سری لنکن کھلاڑی متھیسا پتھیرانا کی خدمات 18 کروڑ میں حاصل کی ہیں۔

ان کیپڈ کھلاڑیوں میں چینئی سپر کنگز (سی ایس کے) نے ہر ایک پرشانت ویر اور کارتک شرما کو 14 کروڑ 20 لاکھ میں خریدا ہے۔ یہ کسی بھی ان کیپڈ کھلاڑی کے لیے لگائی گئی آج تک کی سب سے بڑی بولی ہے۔

انڈیا کے سابق کپتان اور سی ایس کے کے اب تک رہنے والے کپتان مہیندر سنگھ دھونی کا اس ٹورنامنٹ میں کیا کردار ہوگا یہ ابھی واضح نہیں ہے کیونکہ ان کی جگہ رتوراج گائکواڈ کو سی ایس کے کا مستقل کپتان بنا دیا ہے، لیکن ان کے کھیلنے کی امید کی جا رہی ہے۔ وہ 44 سال کے ہیں اور آئی پی ایل میں شرکت کرنے والے سب معمر کھلاڑی ہیں جبکہ بہار کے ویبھو سوریہ ونشی 15 سال کے ہیں اور سب سے کم عمر ہیں۔ انھوں نے گذشتہ سال 14 سال 23 دن کی عمر میں اپنا ڈیبو کیا تھا۔