جرمنی میں لاکھوں ہنرمند افراد کی قلت دور کرنے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟

ایشو گریا
    • مصنف, ٹم مینسل
    • عہدہ, بزنس رپورٹر، جرمنی
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

جرمنی کو ہنرمند افراد کی قلت کا سامنا ہے کیوں کہ عمر رسیدہ افراد ریٹائر ہو رہے ہیں اور ان کی جگہ لینے کے لیے نوجوان امیدواروں کی تعداد ناکافی ہے۔ اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے اب حکومت کو ملک سے باہر جانا پڑ رہا ہے۔

ہانڈرک وان کو فروری 2021 میں ایک ای میل موصول ہوئی تھی جو انڈیا سے آئی تھی۔ اس ای میل میں پیغام یہ تھا کہ ’ہمارے پاس بہت سے متحرک نوجوان ہیں جو تربیت چاہتے ہیں اور ہم جاننا چاہیں گے کہ کیا آپ اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘

ہانڈرک جنوب مغربی جرمنی میں فریبرگ چیمبر آف سکلڈ کرافٹس میں کام کرتے تھے جو مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ہنرمند ملازمین اور انھیں نوکری دینے والی کمپنیوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم ہے۔

انڈیا سے آنے والی یہ ای میل انھیں بہت اچھے وقت پر ملی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’بہت سے ایسے آجر تھے جن کو کوئی بھی کام کرنے کے لیے نہیں مل رہا تھا تو ہم نے اسے ایک موقع دینے کا سوچا۔‘

انھوں نے سب سے پہلے مقامی قصابوں کی تنظیم سے رابطہ کیا کیوں کہ جرمنی میں قصاب بہت مشکل وقت سے گزر رہے تھے۔ یہ شعبہ زوال پذیر ہو رہا تھا۔

ہانڈرک جنوب مغربی جرمنی میں فریبرگ چیمبر آف سکلڈ کرافٹس میں کام کرتے تھے
،تصویر کا کیپشنہانڈرک جنوب مغربی جرمنی میں فریبرگ چیمبر آف سکلڈ کرافٹس میں کام کرتے تھے

اس شعبے میں سنہ 2002 میں تقریبا 19 ہزار چھوٹے کاروبار تھے جو 2021 تک کم ہو کر 11 ہزار رہ چکے تھے۔

تنظیم کے سربراہ جوشیام کہتے ہیں کہ ’یہ محنت طلب کام ہے اور اسی لیے گزشتہ 25 سال سے نوجوان دوسرے شعبوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔‘

جرمنی سے ہزاروں میل دور انڈیا سے یہ ای میل ’میجک بلین‘ نامی ایک ایجنسی نے بھیجی تھی۔ 2022 کے موسم خزاں میں اس ایجنسی نے 13 نوجوان جرمنی بھیجے جنھوں نے چھوٹے قصبوں میں قصاب کا کام سیکھنے کا آغاز کیا۔ اس دوران انھیں کالج میں بھی وقت بتانا تھا۔

ان میں ایک 21 سالہ نوجوان خاتون بھی شامل تھیں جو پہلی بار انڈیا سے بیرون ملک پہنچی تھیں۔ انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں دنیا دیکھنا چاہتی تھی اور اپنی زندگی کو بھی بہتر بنانا چاہتی تھی۔‘ وہ جرمنی کے ایک ایسے قصبے میں پہنچیں جس کی سرحد سوئٹزرلینڈ اور فرانس سے ملتی ہے۔

تین سال میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔ ہانڈرک بھی اب اپنی ایک ایجنسی کھول چکے ہیں جس کا نام ہے ’انڈیا ورکس‘۔ انھوں نے میجک بلین کی ادیتی بنیرجی کے ساتھ شراکت میں مذید انڈین نوجوانوں کو جرمنی لانے کا کام شروع کر رکھا ہے۔ اب 200 انڈین جرمنی میں قصابوں کی دکانوں پر کام کر رہے ہیں۔

ادیتی بنیر جی
،تصویر کا کیپشن’میجک بلین‘ کی ادیتی بنیرجی
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

2024 کی ایک تحقیق کے مطابق جرمنی کو ہر سال دو لاکھ 88 ہزار غیر ملکی افراد کی ضرورت ہے ورنہ 2024 تک ہنرمند افراد کی مجموعی تعداد 10 فیصد تک کم ہو جائے گی۔ یہ تحقیق برٹلزمین فاؤنڈیشن تھنک ٹینک کی ہے۔

دوسری جانب شرح پیدائش میں کمی کی وجہ سے ریٹائر ہونے والے افراد کی جگہ لینے والے نوجوان کم ہیں۔ لیکن انڈیا میں نوجوانوں کی کمی نہیں ہے۔

بینر جی کا کہنا ہے کہ ’انڈیا میں 25 سال سے کم چھ کروڑ لوگ ہیں۔ ہر سال صرف ایک کروڑ 20 لاکھ لوگوں کو کام ملتا ہے۔‘

’انڈیا ورکس‘ رواں سال کے دوران 775 نوجوان انڈین شہریوں کو جرمنی لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ مکینک، بیکری اور سڑکیں تیار کرنے والے شعبوں میں کام کریں گے۔

جرمنی اور انڈیا نے 2022 میں ’مائگریشن اینڈ موبیلیٹی‘ پارٹنر شپ معاہدہ کیا تھا جس کی وجہ سے ہنرمند افراد کا انڈیا سے جرمنی آنا آسان ہوا۔ 2024 میں جرمنی نے اعلان کیا تھا کہ سالانہ 20 ہزار سے اب انڈین شہریوں کے لیے ورک ویزا بڑھا کر 90 ہزار تک لے جایا جائے گا۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2024 میں 136670 انڈین شہری جرمنی میں کام کر رہے تھے۔ 2015 میں یہ تعداد 23320 تھی۔

انڈیا سے جرمنی آنے والے مختلف وجوہات بیان کرتے ہیں جن میں اپنے ملک میں روزگار تلاش کرنے میں مشکلات، جرمنی میں زیادہ بہتر تنخواہ شامل ہیں۔ 20 سالہ ایشو گریا ہائی سکول کے بعد یونیورسٹی ڈگری حاصل کرنے کا سوچ رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں اپنا پیسہ ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا کہ ڈگری لوں اور پھر کم تنخواہ پر کام کروں۔‘

اسی لیے انھوں نے دلی چھوڑ کر جرمنی کے بلیک فارسٹ خطے میں ایک چھوٹے سے گاؤں کو چنا جہاں وہ بیکری میں کام سیکھ رہے ہیں۔

انھیں صبح تین بجے تک کام کرنا ہوتا ہے اور سردی بھی بہت زیادہ ہے لیکن وہ خوش ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہاں تنخواہ زیادہ ہے تو میں اپنے خاندان والوں کی مدد کر سکوں گا۔‘ انھیں جرمنی کی صاف آب و ہوا بھی بہت پسند آئی ہے۔

25 سالہ اجے کمار حیدرآباد سے فریبرگ نامی شہر کے باہر ایک گاؤں میں پہنچے
،تصویر کا کیپشن25 سالہ اجے کمار حیدرآباد سے فریبرگ نامی شہر کے باہر ایک گاؤں میں پہنچے

25 سالہ اجے کمار حیدرآباد سے فریبرگ نامی شہر کے باہر ایک گاؤں میں پہنچے۔ ان کے پاس مکینیکل انجینیئرنگ کی ڈگری تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا میں نوکری حاصل کرنا بہت مشکل تھا۔‘ وہ ابھی یہاں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ سات انڈین نوجوانوں کو کام دینے والے لیڈرر کہتے ہیں کہ نئے لوگوں نے ان کا کاروبار بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ 35 سال پہلے ’جب میں نے کام شروع کیا تو دس کلومیٹر کے اندر آٹھ ایسی دکانیں تھیں لیکن اب صرف میں بچا ہوں۔ انڈیا نہ ہوتا تو میں بھی کاروبار نہ کر رہا ہوتا۔‘

ول ام رین نامی قصبے کی میئر ڈیانا سٹوکر کہتی ہیں کہ ’ہم نے جرمنی بھر سے اساتذہ کو تلاش کیا لیکن نہیں ملے۔‘ وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں ملک سے باہر ہی دیکھنا ہو گا، یہ واحد حل ہے۔‘