’ٹرمپ ہیں، تو امن ہے‘: کیا ’بورڈ آف پیس‘ اقوام متحدہ کا متبادل بن سکتا ہے؟

- مصنف, لیز ڈوسیٹ
- عہدہ, بین الاقوامی نامہ نگار
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
’ہم اکھٹے دہائیوں کی تکلیف ختم کر سکتے ہیں، نسلوں کی نفرت اور خونریزی روک سکتے ہیں، خطے اور پوری دنیا کے لیے ایک خوبصورت، دیرپا اور عظیم امن قائم کر سکتے ہیں۔‘
ڈیووس اکنامک فورم کے موقع پر ’بورڈ آف پیس‘ کا افتتاح کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ وعدہ تھا۔ اور بہت سے لوگ شاید ان کی بات پر یقین کرنا چاہتے ہیں لیکن دنیا میں بہت سے حکام اور مبصرین کے نزدیک یہ ٹرمپ کی اس کوشش کا ایک اور ثبوت ہے کہ وہ ایسے نئے عالمی ادارے قائم کرنا چاہتے ہیں جن پر ان کا ہی غلبہ ہو۔
پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے سوشل میڈیا پر خبردار کیا کہ ’ہم کسی کو اپنے ساتھ کھیل نہیں کھیلنے دیں گے۔‘
تاہم یورپ میں ٹرمپ کے سب سے بڑے حامی، ہنگری کے وکٹر اوربان نے تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ٹرمپ ہیں، تو امن ہے۔‘
لیکن بورڈ آف پیس کیا کر سکتا ہے اور کیا یہ واقعی ایک چھوٹی سی اقوام متحدہ کی شکل اختیار کر سکتا ہے؟
بورڈ چیئرمین کی طاقت
یہ خیال گزشتہ سال غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں کے دوران پیدا ہوا تھا جو اب ایک زیادہ بڑی عالمی خواہش میں بدل چکا ہے اور اس کا مرکز خود ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔
بورڈ آف پیس کے لیک ہونے والے چارٹر کے مطابق ٹرمپ تاحیات اس کے چیئرمین ہیں۔ وہ امریکی صدر نہ رہیں تب بھی۔
اس چارٹر کے تحت ان کے اختیارات وسیع ہیں: وہ ممبر اراکین کو شامل کرنے یا نہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، ذیلی ادارے قائم کرنے اور ختم کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور جب وہ چاہیں اپنی جگہ کسی کو نامزد کر سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگر کوئی اور ملک کا بورڈ کا مستقل رکن بننا چاہتا ہے تو اسے ایک ارب ڈالر دینا ہوں گے۔
یہ سب ایک ایسے مہینے میں ہو رہا ہے جہاں پہلے ہی بہت کچھ بہت تیزی سے ہو چکا ہے۔ چند ہفتوں میں امریکہ نے وینیزویلا کے صدر کو حراست میں لیا، ٹرمپ نے ایران کے خلاف عسکری کارروائی کی دھمکی دی، اور گرین لینڈ حاصل کرنے کا مطالبہ کیا جس کی وجہ سے یورپ سمیت پوری دنیا میں ہلچل مچ گئی۔
ڈیووس میں 19 ممالک امن بورڈ میں شامل ہوئے اور بہت سے ممالک کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ شامل ہونے والے ہیں۔ ٹرمپ نے ڈیووس میں کہا کہ ’میں اس گروپ میں شامل ہر کسی کو پسند کرتا ہوں۔‘ لیکن بہت سے ممالک نے شائستگی سے انکار بھی کیا ہے۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ یوویٹ کوپر کے مطابق یہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس کے بارے میں ’ہمیں خدشات ہیں اور صدر پوتن کی شمولیت پر بھی جبکہ یہاں امن کی بات ہو رہی ہے۔‘ ٹرمپ کے مطابق روس امن بورڈ میں شامل ہونے پر رضامند ہے جبکہ ماسکو سے اب تک یہی پیغام سامنے آیا ہے کہ وہ ’مشاورت‘ کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
سویڈن کا جواب یہ تھا کہ ’موجودہ تحریری معاہدے کو دیکھتے ہوئے ہم اس میں شامل نہیں ہو رہے۔‘ ناروے کا سفارتی جواب تھا کہ اس سے ’ایسے سوال اٹھے ہیں جن پر واشنگٹن سے مذید بات چیت کی ضرورت ہے۔‘
سات مسلمان ممالک کے گروپ نے، جس میں ترکی اور انڈونیشیا سمیت چھ عرب ممالک شامل ہیں، نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ غزہ میں منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے شامل ہوئے ہیں۔ لیکن چارٹر میں غزہ کا ذکر نہیں ہے۔
ٹرمپ کے چند ناقدین کے مطابق یہ ایک ایسے صدر کا منصوبہ ہے جو اس خواہش کو چھپاتے بھی نہیں کہ انھیں امن کا نوبل انعام درکار ہے جو 2009 میں صدر اوباما کو مل چکا ہے۔ عالمی رہنما جانتے ہیں کہ اس نئے کلب میں شامل نہ ہونے کی قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔
ٹرمپ نے فرانسیسی صدر کو جواب دیا کہ ’میں ان کی شراب پر 200 فیصد ٹیرف لگا دوں گا اور وہ شامل ہو جائیں گے لیکن انھیں شامل ہونے کی ضرورت نہیں۔‘ صرف سلووینیا ایک ایسا ملک ہے جس نے کھل کر موقف پیش کیا۔ وزیر اعظم روبرٹ گولوب نے کہا کہ ’یہ بورڈ بین الاقوامی نظام میں خطرناک مداخلت ہے۔‘
ٹرمپ نے بھی اس خدشے پر کھل کر جواب دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ایک بار جب یہ بورڈ مکمل ہو جائے گا تو ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں اور اقوام متحدہ سے مل کر کریں گے۔‘
لیکن وہ چاہتے ہیں کہ دنیا اندازہ لگاتی رہے۔ ایک دن قبل جب فاکس ٹی وی کے صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کیا یہ بورڈ اقوام متحدہ کا متبادل ہو گا تو انھوں نے کہا کہ ’ہو بھی سکتا ہے۔ اقوام متحدہ بہت زیادہ فائدہ مند نہیں ہے۔‘
پھر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں اقوام محتدہ کا بہت بڑا حامی ہوں لیکن وہ توقعات پر پورا نہیں اتری۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اقوام محتدہ ہر اس جنگ کو ختم کرواتی جسے میں نے ختم کروایا۔‘
ایک نیا امیدوار؟
193 ممالک پر مشتمل اقوام متحدہ نے اب تک امن قائم کرنے والے سب سے بڑے ادارے کے طور پر کام کیا ہے۔ 2016 میں جب انتونیو گوتیریز نے بطور سیکرٹری جنرل عہدہ سنبھالا تو انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ’امن کے لیے سفارت کاری میں تیزی لائیں گے۔‘
گزشتہ دہائی کے دوران اقوام محتدہ کی کوششیں سکیورٹی کونسل کی وجہ سے ناکام رہیں جبکہ امریکہ سمیت دنیا کی بڑی طاقتوں کے سامنے بتدریج یہ اپنا مقام کھوتی چلی گئی۔
اقوام محتدہ کے لیے کام کرنے والے مارٹن گرفتھ کا کہنا ہے کہ ’جنگیں ختم کروانے لیے ٹرمپ کی کوششوں کو سراہنا چاہیے جو اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل کی ناکامی ظاہر کرتی ہیں۔‘
خود گویتریز نے حال ہی میں کہا تھا کہ ’کچھ لوگ مانتے ہیں کہ قانون کی طاقت کی جگہ طاقت کا قانون لاگو ہونا چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
حال ہی میں بی بی سی کے ایک پروگرام میں جب گویتریز سے ٹرمپ کی جانب سے آٹھ جنگیں رکوانے کے دعوے پر سوال ہوا تو انھوں نے کہا کہ یہ ’جنگ بندی‘ تھی۔
ان میں سے کچھ مقامات پر جنگ بندی قائم نہیں رہی۔ روانڈا اور ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو میں عارضی امن زیادہ دیر قائم نہیں رہا، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ میں الزامات کی لڑائی پھر شروع ہو گئی اور انڈیا نے پاکستان سے جنگ بندی میں ٹرمپ کے کردار کی تردید کی ہے۔
لیکن ٹرمپ کی کوششوں نے ہی اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کو رکوایا۔
ان کی ذاتی کوششوں کی وجہ سے غزہ میں جنگ بندی ہوئی اور اسرائیلی یرغمالی رہا ہوئے۔ لیکن اس امن بورڈ کا پہلا امتحان ہی بہت کڑا ہے۔ اس بورڈ میں نتن یاہو بھی شامل ہیں جو فلسطینی ریاست کے قیام کے مخالف ہیں جبکہ عرب رہنما کہتے ہیں کہ پائیدار امن کے لیے فلسطینی ریاست ناگزیر ہے۔
یورپ اور امریکہ کے لیے یوکرین میں جاری جنگ بھی اہم ہے۔ صدر زیلینسکی نے ماسکو کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھنے کے امکان پر کچھ زیادہ جوش و خروش نہیں دکھایا ہے۔
اس بورڈ میں ایگزیکٹیو بورڈ کے علاوہ ایک ’غزہ کا ایگزیکٹیو بورڈ‘ ہے اور ’نیشنل کمیٹی برائے غزہ ایڈمنسٹریشن‘ بھی شامل ہے۔ ان میں جو لوگ شامل ہیں ان میں سینئر امریکی حکام بھی ہیں اور ارب پتی افراد بھی۔ اس کے علاوہ سیاست دان اور سابق سفیر بھی ہیں اور عرب وزرا اور خفیہ اداروں کے سربراہان بھی۔ چند فلسطینی ٹیکنوکریٹ بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ٹرمپ کے چند بڑے ناقدین نے بھی اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے ایک پرانی لڑائی کو مزاکرات کی میز تک لانے میں کامیابی حاصل کی ہے اور وہ سکیورٹی کونسل کی اصلاح ہے جو شاید ہر خطے میں بڑی طاقتوں کے سیاسی نقشے سے میل نہیں کھاتی اور موجودہ مقاصد کے لیے ناکافی ہے۔
مارک میلوچ براون اقوام متحدہ کے سابق ڈپٹی سیکرٹری ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’شاید غیر ارادی طور پر یہ معاملات انٹرنیشنل ایجنڈا میں ابھر کر سامنے آئیں گے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم اقوام متحدہ کی کمزور قیادت کے دور سے نکل رہے ہیں اور شاید اب عملی طور پر کچھ ہو۔‘
یاد رہے کہ حال ہی میں انتونیو گوتیریز کے متبادل پر بات چیت ہو رہی ہے جو رواں سال اپنی دوسری مدت مکمل کر رہے ہیں۔
تاہم ٹرمپ کو بھی ایک سال میں اندازہ ہوا ہے کہ جس طرح انھوں نے ایک دن میں یوکرین کی جنگ ختم کروانے کا دعوی کیا تھا وہ آسان نہیں ہے۔
لیکن انھوں نے ایک ایسے مشرق وسطی کی بات کی جہاں ان کے مطابق اب صرف ’کچھ چھوٹی آگ‘ لگی ہوئی ہے۔ انھوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ یوکرین میں بھی معاملہ حل ہونے والا ہے۔ ٹرمپ نے عالمی امن کمانڈر ان چیف کے طور پر خود کو پیش کرتے ہوئے کہا ’یہ دنیا کے لیے ہے۔‘













