کوئی سیکھنے والا تو ہو!

- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
امریکی اسٹیبلشمنٹ کی ایک ادا یہ بھی ہے کہ جس سوال کا جواب مفت میں مل سکتا ہے اسکے لیے بھی وہ لاکھوں ڈالر خرچ کردیتی ہے۔ مثلاً یہی کہ زیادہ تر مسلمان امریکی پالیسیوں سے ناخوش کیوں ہیں اور انکے دلوں میں نرم گوشہ کیسے پیدا ہوسکتا ہے۔اس سادہ سے سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے کئی برس سے باقاعدہ ایک تنخواہ دار پروجیکٹ شروع ہے۔ حالانکہ اس کا بنیادی جواب صرف ایک جملے میں مل سکتا ہے۔یعنی مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل!
مگر امریکی اسٹیبلشمنٹ بوجوہ یہ جواب تسلیم کرنے سے قاصر ہے۔
انیس سو سڑسٹھ تک مشرقِ وسطی سے متعلق امریکی پالیسی تیل کی وجہ سے کسی حد تک مساویانہ تھی اور یہ خیال رکھا جاتا تھا کہ اسرائیل اور عربوں سے تعلقات کے پلڑے برابر رہیں۔اسرائیل کو سب سے زیادہ فوجی امداد امریکہ سے نہیں بلکہ فرانس سے ملتی تھی۔اسرائیل کا جوہری پروگرام بھی فرانس کا مرہونِ منت تھا۔اکا دکا فلسطینی مزاحمتی گروہ اس دور میں بھی تھے۔ لیکن الفتح سمیت کوئی تنظیم دھشت گردی کی امریکی فہرست میں نہیں تھی۔
جب سن چھپن کی جنگِ سویز میں اسرائیل نے برطانیہ اور فرانس کی مدد سے مصر کے جزیرہ نما سینائی پر قبضہ کیا تو یہ صدر آئزن ہاور کا ہی الٹی میٹم تھا جس کے سبب اسرائیل کو دنوں کے اندر یہ قبضہ چھوڑنا پڑا۔ لیکن جب جون انیس سو سڑسٹھ میں اسرائیل نے صرف پانچ دن میں مصر شام اور اردن کو ایک ساتھ فیصلہ کن شکست دی تو امریکی اسٹیبلشمنٹ نے واشنگٹن اور نیویارک کی اسرائیلی لابی کی طاقت کو بھی تسلیم کرنا شروع کیا۔
اسرائیلی لابی نے ہمدرد صحافیوں، اعلی تعلیمی ماہرین ، مقامی انتخابات میں اسرائیل نواز ووٹ کے موثر اجتماعی استعمال، اپنے حامی ارکانِ کانگریس اور صدارتی امیدواروں کے لیے انتخابی چندہ جمع کرنے کی انتھک کوششوں اور مخالفین کے خلاف اشتہاری مہم سمیت تمام ہتھیاروں کا موثر استعمال سیکھ لیا۔
امریکن اسرائیل پبلک افئیرز کمیٹی کا نام تو ہر کسی کو معلوم ہے۔ لیکن یہ کتنے لوگ جانتے ہیں کہ ہر اہم امریکی ریاست میں اسرائیل نواز پریشر گروپس موجود ہیں جن کا کام ہی یہ ہے کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں کی اس وقت عقلی و فکری مدد کریں جب انہیں مشرقِ وسطی پر کوئی بیان یا ووٹ دینا ہو۔اور جن پالیسیوں کو مخالفانہ سمجھا جائے انہیں بدلنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں ای میلوں اور ذرائع ابلاغ میں اپنے حامیوں کے قلم کا مؤثر اور فوری ہتھیار استعمال کیا جائے تاکہ ہر رکنِ کانگریس کو یہ احساس رہے کہ اسے سیاسی و انتخابی مشکلات سے بچنے کے لیے کیا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا۔
سوال یہ ہے کہ جب امریکی نظامِ سیاست میں لابنگ ایک جائز عمل ہے تو پھر ایک بڑی تعداد ہونے کے باوجود امریکی عربوں یا مسلمانوں کی لابی کہاں ہے؟
اسرائیلی لابی کی طاقت کا ایک بنیادی محرک یہ آسانی ہے کہ اسے واشنگٹن میں صرف ایک ملک اور گروہ کی سیاسی، اقتصادی اور فوجی حمایت کو یقینی بنانا ہے۔ جبکہ عرب لابی کی دشواری یہ ہے کہ وہ کس ملک یا گروہ کی وکالت کی بنیاد پر متحد ہو۔وہ اسرائیلی لابی کے برعکس امریکی اسٹیبلشمنٹ کو کیسے یہ سمجھائے کہ عدم جمہوریت، باہمی نفاق اور تہذیبی فرق کے باوجود یہ بات امریکہ کے حق میں ہے کہ وہ اسرائیل اور عربوں میں کوئی فرق نہ کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک مؤثر لابی کی تشکیل تو دور کی بات ہے اب تک تو یہ بھی نہیں ہوپایا کہ کانگریس اور صدار ت کے امیدوار عرب اور دیگر مسلمان امریکی شہریوں کے ووٹ کی اجتماعی طاقت کو محسوس کرسکیں۔ان حالات میں مسلمان ممالک کو کروڑوں ڈالر سالانہ صرف کرکے واشنگٹن میں پیشہ ور لابی ماہرین کی خدمات حاصل کرنی پڑتی ہیں۔پھربھی نتیجہ ڈھاک کے تین پات ہی رہتا ہے۔
اسکے برعکس درجنوں گروہوں اور افراد پر مشتمل اسرائیلی لابی اپنے اخراجات اور یک نکاتی حکمتِ عملی میں خود کفیل ہے۔اسرائیل اس لابی کو کوئی پیسہ نہیں دیتا بلکہ الٹا اربوں ڈالر کی فوجی اور اقتصادی امداد یقینی بنانے کے لیے اس لابی کا شکر گذار رہتا ہے۔اسرائیلی لابی جو تیل اور اسلحہ ساز کمپنیوں کی لابی سے بھی زیادہ مضبوط و منظم ہے۔اس سے سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔لیکن کوئی سیکھنے والا بھی ہو۔تب نا !





















