ڈھٹائی ضروری ہے کیا؟

- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
جب تک سوویت یونین نے انیس سو اکسٹھ میں کیپٹن گیری پاورز کا یوٹو جاسوس طیارہ مار نہیں گرایا اور امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اعتراف نہیں کرلیا کہ یہ طیارہ پشاور سے اڑا تھا۔ ایوب خان کی حکومت کا محکمہ اطلاعات تردید ہی کرتا رہا کہ بڈابیر کا ایربیس امریکہ کے فوجی و جاسوسی استعمال میں ہے۔
جب تک ایر مارشل اصغر خان سمیت سابق فوجی جرنیلوں اور الطاف گوہر سمیت سابق بیوروکریٹس نے اپنے انٹرویو اور کتابوں میں یہ اعتراف نہیں کیا کہ انیس سو پینسٹھ کی لڑائی وزیرِ خارجہ بھٹو کے زائد از ضرورت پراعتماد مشوروں اور آپریشن جبرالٹر کی مہم جوئی کے سبب پاکستان کے سر پر تھوپی گئی اور لڑائی کے ایک ہفتے کے اندر اندر ہی گولہ بارود اور فاضل پرزوں کا کال پڑگیا تھا۔اس وقت تک پاکستان کی وزارتِ تعلیم بچوں کو یہی پڑھاتی رہی کہ پینسٹھ کی جنگ دراصل رات کے اندھیرے میں لاہور سیکٹر میں چوری چھپے بھارتی کاروائی کا نتیجہ تھی اور یہ جنگ پاکستان جیت گیا تھا۔
جب تک سولہ دسمبر انیس سو اکہتر کی سہہ پہر سرکاری خبررساں ایجنسی کے ٹیلی پرنٹر نے یہ دو سطریں پرنٹ نہیں کیں کہ بھارتی افواج آج ایک سمجھوتے کے تحت ڈھاکہ میں داخل ہوگئیں اور مشرقی پاکستان میں جنگ بندی ہوگئی ہے۔اس وقت تک یحیٰ خان حکومت کے سیکرٹری اطلاعات روئیداد خان کا محکمہ اخبارات کو یہی بتاتا رہا کہ مشرقی پاکستان میں سب اچھا ہے ۔بھارتی دستوں اور مکتی باہنی کے مٹھی بھر شرپسندوں کا بے جگری سے مقابلہ کیا جارہا ہے۔
ضیا الحق کی صادق اور امین حکومت آٹھ برس تک اس حقیقت کو سوویت ایجنٹوں کا پروپیگنڈہ کہہ کر مسترد کرتی رہی کہ افغان جنگ سی آئی اے کی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن ہے جس میں افغان مجاہدین محض ایک بساطی مہرہ ہیں۔جب چارلی ولسنز وار جیسی کتابوں سے مارکیٹ بھرگئی تو ضیا الحق کے زندہ حواری بھی اعتراف کرنے لگے کہ یہ محض افغان مجاہدین کی جنگِ آزادی نہیں تھی۔
بے نظیر بھٹو اگرچہ اپنے حکومتی زوال کا سبب انٹیلی جینس ایجنسیوں اور اسٹیبلشمنٹ کے دیگر مہروں کو قرار دیتی رہیں لیکن آخری دم تک یہ اعتراف کر کے نہیں دیا کہ افغان طالبان انکی حکومت اور اسکی ایجنسیوں کی ملی بھگت اور سعودی عرب کے توسط سے خاموش امریکی تائید سے وجود میں لائے گئے۔
ایمل کانسی کو صدر فاروق لغاری نے امریکی ایجنٹوں کے حوالے کیا یا وزیرِ اعظم نواز شریف نے ؟ جب بھی یہ سوال اٹھتا ہے تو فریقین ایک دوسرے پر الزامات کی مٹی اچھال کر سوال کنندہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کرگل آپریشن تب تک کشمیر میں لڑنے والی مجاہدین تنظیموں کی کارروائی قرار دیا جاتا رہا جب تک ناردرن لائٹ انفنٹری کے جوانوں کی لاشیں انکے گھر والوں نے وصول کرنا شروع نہیں کردیں۔
مشرف حکومت آخری وقت تک کہتی رہی کہ نائن الیون کے بعد امریکہ کو صرف راہداری کی سہولتیں دی گئی ہیں۔پسنی اور جیکب آباد ایر بیس اور شمشی کی فضائی پٹی کو امریکیوں کے حوالے نہیں کیا گیا۔لیکن آج نو برس بعد مشرف دور کے ریٹائرڈ جرنیل ٹی وی چینلوں پر کھل کے اس بات کا اعتراف کررہے ہیں۔اور وزیرِ دفاع احمد مختار گزشتہ ہفتے کہہ چکے ہیں کہ چھ ماہ پہلے تک یہ اڈے امریکہ کے زیرِ استعمال تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی سینٹ کی دفاعی کمیٹی سال بھر پہلے کہہ چکی ہے کہ ڈرون طیارے پاکستان کے اندر سے اڑتے رہے ہیں۔لیکن حکومتِ پاکستان آج بھی ان حملوں کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس کہہ چکے ہیں کہ بلیک واٹر عرف ایکس ای اور دیگر امریکی نجی کمپنیاں پاکستان میں کام کررہی ہیں۔لیکن اسلام آباد کا امریکی سفارتخانہ اپنے ہی وزیرِ دفاع کی بات کو جھٹلا رہا ہے۔اور وزیرِ داخلہ رحمان ملک آج بھی قائم ہیں کہ اگر پاکستان میں بلیک واٹر کا وجود ثابت ہوجائے تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔
کیا کاروبارِ حکومت جھوٹ یا ڈھٹائی کے بغیر واقعی نہیں چل سکتا؟







