'عزت کا طوق صرف عورتوں کے گلے میں کیوں'

،تصویر کا ذریعہTwitter
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان اور رنبیر کپور کی تصاویر پر کافی کچھ کہا جا رہا ہے۔ ان تصویروں کی بنیاد پر کچھ اخبارات نے تو ان کے درمیان رشتوں کی عجیب و غریب کہانیاں گڑھنی شروع کر دی ہیں اور ساتھ ہی ماہرہ اور رنبیر کی ایک پرانی ویڈیو بھی چلائی جا رہی ہے جس میں دونوں کے درمیان کچھ بحث ہو رہی ہے تو کیا ایک عام سی ویڈیو اور تصاویر سے دو انسانوں کے درمیان رشتوں کی قیاس آرائی کرنا درست ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
جہاں تک سوشل میڈیا پر ان تصاویر کے حوالے سے بحث کی بات ہے تو کچھ کمنٹس پڑھنے کے بعد احساس ہوا کہ بیمار ذہن کس طرح سوچتا ہے اور یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ سگریٹ پینے یا مغربی لباس پہننے سے پاکستان کا نام کیسے مٹی میں مل سکتا ہے۔ کیا کسی ملک کی عزت یا وقار اس ملک کی خواتین کے لباس اور کھانے پینے کا محتاج ہوتا ہے۔ عزت کا طوق صرف عورتوں کے گلے میں ہی کیوں پہنایا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہINSTAGRAM
فلسماز روہت شیٹی کی گول مال سیریز کی اگلی کڑی 'گول مال ریٹرن' کا پہلا ٹریلر سامنے آچکا ہے۔ ٹریلر سے فلم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اجے دیوگن اینڈ ٹیم میں کچھ نئے چہرے ہیں جن میں کرینہ کی جگہ پرنیتی چوپڑہ کے ساتھ تبو بھی شامل ہیں۔
تبو کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے ہی اس سیریز کا حصہ بننا چاہتی تھیں اور جب انھیں اس فلم کی آفر آئی تو انھوں نے سکرپٹ تک نہیں پڑھا کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ سنیل شیٹی نے ان کے لیے اچھا رول ہی رکھا ہوگا۔ ویسے تبو آج کل بڑے پردے پر کم ہی نظر آتی ہیں اب ایسے میں سنیل شیٹی کی گول مال سیریز میں کام ملے تو سکرپٹ سن کر کرنا بھی کیا ہے۔ گول مال ریٹرن دیوالی کے موقع پر ریلیز ہو رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہINSTAGRAM TABU
فلم کے بارے میں روہت شیٹی کا کہنا ہے کہ گول مال کی اس قسط کی کہانی کے لیے انھیں بہت وقت لگا کیونکہ وہ خراب کہانی لکھ کر لوگوں کو دھوکا نہیں دینا چاہتے تھے۔ اب کوئی روہت شیٹی کو سمجھائے کہ انھوں نے کوئی دھوکہ نہیں دیا، دھوکہ تو اس وقت ہوتا جب فلم میں کوئی کہانی ہوتی۔

،تصویر کا ذریعہRAINDROP MEDIA
اداکار راج کمار راؤ کا کہنا ہے کہ ان کی نئی فلم 'نیوٹن' کی ٹیم اور ان کے لیے جشن کا موقع ہے۔ ایک تو اس ہفتے ریلیز ہونے والی ان کی اس فلم کو اچھا ریسپانس مل رہا ہے دوسرے سب سے بڑی خوشخبری اور خوش قسمتی یہ ہے کہ اس فلم کو آسکر ایوارڈز میں انڈیا کی آفیشل اینٹری مل گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہRAINDROP MEDIA
راج کمارراؤ بہت خوش ہیں جو اس فلم میں مرکزی کردار نبھا رہے ہیں۔ یہ ایک بلیک کامیڈی ہے اور ایک ایسے سرکاری کلرک کی کہانی ہے جو بھارت کے علاقے چھتیس گڑھ میں الیکش ڈیوٹی پر تعینات ہے یہ ماؤنوازوں کے غلبے والا علاقہ ہے۔ یہ فلم پہلے ہی کئی فلم فیسٹیول کی زینت بن چکی ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ آسکرز میں یہ فلم کتنا آگے جا سکتی ہے۔






