میریلِن رابنسن کے لیے اورنج ایوارڈ

امریکی خاتون ناول نگار میریلِن رابنسن نے سال دو ہزار نو کے لیے فکشن کا اورنج ایوارڈ جیت لیا ہے۔
میریلِن رابنسن کو یہ ایوارڈ ان کے تیسرے ناول ’ہوم‘ پر دیا گیا۔ انہیں تیس ہزار پاؤنڈ مالیت کا یہ ایوارڈ لندن کے رائل فیسٹیول ہال میں ہونے والی ایک تقریب میں دیا گیا۔
اورنج ایوارڈ حاصل کرنے کے لیے میریلِن رابنسن نے اپنی ہم وطن ایلن فیلڈمین اور پاکستانی نژاد کاملہ شمسی سمیت پانچ ناول نگاروں کو مات دی۔ اورنج ایوارڈ کے سلسلے میں ایلن فیلڈمین کو اپنے ناول ’سکاٹسبورو‘، کاملہ شمسی کو ’برنٹ شیڈوز‘، سمنتھا ہاروی کو ’دی وِلڈرنیس‘، سمنتھا ہنٹ کو ’دی انوینشن آف ایوری تِھنگ ایلس‘ اور دیئدرے میڈن کو ’مولی فوکسز برتھ ڈے‘ کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔
اورنج ایوارڈ کا آغاز سن انیس سو چھیانوے میں کیا گیا تھا اور اس کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں خواتین کے لکھے ہوئے افسانوی ادب کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔
فرانسیسکا کے کو سال دو ہزار نو کے لیے نئے ادیب کا ایوارڈ دیا گیا۔ انہوں نے یہ ایوارڈ اپنے پہلے ناول ’این ایکویئل سٹِل نس‘ پر حاصل کیا۔

اس سال اورنج ایوارڈ کے لیے جو جیوری تشکیل دی گئی تھی اس کی سربراہ براڈ کاسٹر فی گلور تھیں جنہوں نے میریلِن رابنسن کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔
’ہوم‘ میریلن رابنسن کا تیسرا ناول ہے۔ ان کے سن انیس سو اکیاسی میں چھپنے والے ناول ’ہاؤس کیپنگ‘ کو نہ صرف برطانوی اخبار آبزرور کے دنیا کے سو بہترین ناولوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا بلکہ یہ پُلٹزر پرائز کے لیے بھی نامزد ہوا تھا۔
میریلِن رابنسن کے سن دو ہزار چار میں شائع ہونے والے ناول ’جائلیڈ‘ کو نہ صرف پُلٹزر ایوارڈ کا مستحق قرار دیا بلکہ میریلن رابنسن کو اسی ناول پر نیشنل بُک کرِٹکس سرکل ایوارڈ بھی ملا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















