’سچ کا سامنا‘متنازع اور مقبول شو

- مصنف, خدیجہ عارف
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان کی نجی ٹی وی چینلز پر ان دنوں ریالیٹی شوز کی بھرمار ہے اور ان میں سے بیشتر مقبول بھی ہیں جن میں عام آدمی سے لے کر سیلبریٹیز تک حصہ لے رہے ہیں اور نام اور پیسہ بھی کما رہے ہیں۔ لیکن ان دنوں سٹار پلس پر نشر ہونے والے ایک شو کی دھوم پارلیمان تک ہے۔
سٹار پلس پر نشر ہونے والے شو 'سچ کا سامنا' پر گزشتہ روز ایوان بالا میں اس بات پر بحث چھڑی کہ اس شو میں عام آدمی اور سیلیبریٹیز کو بلا کر ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں ایسے سوال پوچھے جاتے ہیں جو ہندوستانی تہذیب کے خلاف ہیں۔
سماج وادی پارٹی کے نوجوان ممبر پارلمیان کمال اختر نے راجیہ سبھا یا ایوانِ بالا میں یہ سوال اٹھایا کہ یہ شو ہندوستانی تہذیب کے خلاف ہے اور لوگوں کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی ہے۔
کمال اخترکے اس سوال کے ساتھ نہ صرف راجیہ سبھا میں بحث چھڑی بلکہ ذرائع ابلاغ اور عوام میں یہ بھی یہ بحث جاری ہے کہ سچ کا مطلب کیا ہے؟ کیا کسی بھی انسان کی زندگی کا سچ صرف اس کی جنسی زندگی تک محدود ہے اور پروگرام سے پہلے کیے گئے پالی گرافی ٹیسٹ کی کیا صداقت ہے؟
دراصل 'سچ کا سامنا' امریکی شو 'مومنٹس آف ٹرتھ' پر مبنی ہے جس کی میزبانی بالی وڈ ادکار راجیو کھنڈیلوال کرتے ہیں۔
شو میں ٹی وی ادارکار، کھلاڑیوں اور عام لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے جو ایک کروڑ روپے جیتنے کے لیے اکیس سوالوں کا جواب دیتے ہیں۔ جواب میں انہیں پوچھے گئے سوالوں کا سچ سچ جواب دینا ہوتا ہے۔
پروگرامز سے پہلے حصہ لینے والوں یا شرکا کا پولی گرافی ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور ان کے جواب اسے ٹیسٹ کے نتیجے سے ملائے جاتے ہیں۔ اگر جواب ٹیسٹ کے نتیجے سے ملتے ہیں تو کھیل جاری رہتا ہے ورنہ کھیل ختم۔
پارلیمان میں ہنگامہ اس وجہ سے ہوا کہ پروگرام کا مقصد ایک شخص کی زندگی کی سچائی جاننا ہے نہ کہ ان کی ذاتی زندگی سے جڑے ایسے پہلو کو سامنے لانا ہے جو نہ صرف شرکا کی ذاتی زندگی میں پریشانی پیدا کرسکتے ہوں بلکہ دیکھنے والوں کو بھی خاص طور جب دیکھنے والے بچے ہوں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پارلیمان میں ہنگامے کے بعد حکومت نے سٹار پلس کو نوٹس جاری کردیا ہے۔ راجیہ سبھا کی سابق چیئر پرسن، نجمہ طلحہ کا کہنا ہے کہ 'سچ دکھانے کا کیا مطلب ہے ، یہ صرف پیسے کا چکر ہے، کون سا پالی گراف ٹیسٹ ہے، کس نے دیکھا ہے، یہ سب ڈرامہ ہے کوئی سچ نہیں دکھا رہے ہیں۔ ٹی وی کو بچے دیکھتے ہیں۔ بزرگ دیکھتے ہيں۔ نوکر دیکھتے ہیں۔کیا ساڑھے دس بجے کے بعد کچھ بھی دکھایا جا سکتا ہے؟ یہ کس کا قانون ہے اگر ایسا کوئی قانون ہے تو وہ غلط ہے۔ فلموں کے لیے ایک سرٹیفکٹ بنتا ہے۔ لیکن یہ تو گھر کے اندر بغیر اجازت پروگرام دکھایا جا رہا ہے۔ ہم اندھادھند مغربی ممالک کی نقل کر رہے ہيں۔ مجھے اس پر اعتراض ہے'۔
وہیں میڈیا نقاد سدھیش پچوری کا کہنا ہے کہ 'ہمارے سماج میں ابھی اتنا کھلا پن نہیں ہے کہ اس طرح کے کھلے موضوع کے پروگرامز کو آسانی سے سمجھا اور دیکھاجا سکے۔ پہلے ہمیں اپنی زمینی حقائق کو سمجھنا ہوگا'۔
سچ کا سامنا شو نے بے شک ایک متنازع شو بن گیا ہے لیکن عام لوگوں میں تو یہ شو دوسرے ہفتے میں کافی مقبول ہوگیا ہے۔
کویتا کشواہا یہ شو روزانہ دیکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے 'شو میں جس طرح کے سوالات پوچھے جاتے ہیں وہ بہت ذاتی ہیں اور آپ کو ان کمفرٹیبل محسوس کرتے ہیں۔ میں یہ سوچتی ہوں کہ ابھی تک تو شو میں جن لوگوں نے حصہ لیا وہ یا تو ٹی وی اداکار تھے یہ پھر کرکٹر یعنی جانے پہنچانے لوگ تھے اس لیے ہمیں ان کی زندگی کے ان چھپے پہلو اور ذاتی زندگی میں بڑا انٹرسٹ ہے لیکن اگر عام لوگ اس شو میں آئے تو کس طرح کے سوالات آڈینس کی دلچسپی بنائے رکھنے میں مدد گار ہونگیں؟'۔
وہیں فاطمہ کا کہنا ہے کہ 'مجھے اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں کہ کسی شخص نے کتنی خواتین کے ساتھ جنسی رشتے بنائے اور کون اداکارہ پیسے کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہے۔ میرے خیال سے ہندوستان میں اور بھی بہت سنجیدہ اشوز ہے جس پر دھیان دینے کی ضرورت ہے'۔

گزشتہ دنوں اسی شو پر ہندوستان کے سابق کرکٹ کھلاڑی ونود کامبلی نے کہا تھا کہ ان کا کرکٹ کرئیر بچانے میں سچن تندلکر نے انتی مدد نہیں کی جتنی وہ کرسکتے تھے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سچن کی ان کی دوستی شعلے فلم جے ویرو جیسی ہے۔ کامبلی کے ان بیانات پر ذرائع ابلاغ میں بحث چھڑ گئی تھی۔
'سچ کا سامنا' شو اگر جاری رہا اور اس میں اسی طرح سے سیلبریٹیز اپنی زندگی کی پوشیدہ سچائیوں کا اعتراف کرتے رہے تو دو باتیں طے ہیں ایک تو یہ کہ پروگرام کی ٹی آر پی (ٹیلی ویثرن ریٹنگ پوائنٹ) بڑھتی ہی رہے گی اور دوسرا یہ کہ ذرائع ابلاغ کو روزانہ بحث کے لیے ایک نیا موضوع ضرور ملتا رہے گا۔
اطلاعات اور نشریات کی مرکزی وزیر امبیکا سونی کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر پارلمیان میں باقاعدہ بحث ہوگی۔




















