بُکر ادبی انعام کے امیدوار

ادب کا ’مان بُکر‘ انعام 2009 جیتنے والے مصنف کا اعلان منگل چھ اکتوبر کو کیا جا رہا ہے۔
جیتنے والے مصنف کو نہ صرف پچاس ہزار پاؤنڈ کا انعام ملے گا بلکہ عالمی شہرت بھی۔
اس سال کے حتمی مرحلے کی فہرست پر دو ایسے مصنف شامل ہیں جو پہلے بھی یہ انعام جیت چکے ہیں۔ اے ایس بائیٹ نے یہ انعام 1990 میں جتا تھا جبکہ جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے مصنف جے ایم کوٹزی کو اس انعام سے دو مرتبہ نوازا گیا ہے۔
اس انعام کے لیے جج حتمی فہرست میں شامل چھ کتابوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کر رہے ہیں۔
کتاب: دا چِلڈرنز بُک مصنف: اے ایس بائیٹ

اس کتاب کی کہانی اٹھارہ سو پچانوے سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں ایک مشہور مصنف اپنے ہر بچے کے لیے ایک پرائیویٹ کتاب لکھتا ہے۔ ان بچوں نے اپنے لیے ایک کہانی نما ماحول بنایا ہوا ہے لیکن عالمی سیاست اور حالات ان کی زندگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
تہتر سالہ اے ایس بائیٹ کو ان کی کتاب ’پوزیشن‘ کے لیے انیس سو نوے میں بکر انعام ملا تھا۔
کتاب: سمر ٹائم، مصنف: جے ایم کوٹزی

’سمر ٹائم‘ مصنف کی اپنی زندگی کے بارے میں ہے۔ اس میں ایک انگریز بائیوگرافر ایک معروف ’مرحوم‘ مصنف جے ایم کوٹزی کی زندگی پر تحقیق کرتا ہے اور تحقیق کے ذریعے اسے جنوبی افریقہ میں اس مصنف کی جوانی کی کہانی پتہ چلتی ہے۔
انہتر سالہ جے ایم کوٹزی کو انیس سو ننانوے میں ان کی کتاب ’ڈِسگریس‘ کے لیے اور انیس سو تراسی میں’دا لائف اینڈ ٹائمز آف مائکل کے‘ کے لیے بکر انعام مل چکا ہے۔ اگر انہیں تیسری متربہ یہ انعام ملا تو یہ بکر کی تاریخ میں ریکارڈ ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کتاب: دا کوِکننگ میز، مصنف ایڈم فولڈز

کتاب کی کہانی تاریخی واقعات پر مبنی ہے۔ یہ شاعر جان کلیئر کی کہانی ہے جو کثرتِ شراب اور ڈیپریشن کے شکار ہونے کے بعد ایپنگ فارسٹ میں واقع ذہنی مریضوں کے ایک ہسپتال میں داخل کرا دیے جاتے ہیں۔ شاعر ایلفریڈ ٹینیسن اس علاقے میں رہنے آتے ہیں تو ان کا کلیئر اور ہسپتال کے ڈائریکٹر سے واسطہ پڑتا ہے۔
چونتیس سالہ ایڈم فولڈز اس شارٹ لِسٹ میں شامل سب سے کم عمر مصنف ہیں۔ ان کا پہلا ناول ’دا ٹروتھ اباؤٹ دیز سٹرینج ٹائمز‘ دو سال پہلے شائع ہوا تھا۔
کتاب: وولف ہال، مصنف ہیلری مینٹیل

’وولف ہال‘ بھی ایک تاریخی شخصیت کی کہانی ہے۔ یہ انگلینڈ کے بادشاہ ہینری دی ایئٹتھ کے با اثر مشیر تھامس کرامویل کی کہانی ہے جسے آخر میں بادشاہ اس سے ناراض ہو کر سزائے موت سنا دی تھی۔ کرامویل کی یہ کہانی ایسی لکھی گئی ہے کہ اس کا پورا منظر پڑھنے والے کے سامنے آجاتا ہے۔ ہیلری مینٹل کے اس ناول کو بکر انعام جیتنے کےلیے ’فیورِٹ‘ سمجھا جا رہا ہے۔
کتاب: دا گلاس روم، مصنف سائمن ماور

یہ کتاب چیکوسلوواکیا میں ایک خاندان اور ایک گھر کی کہانی ہے۔ دوسرے جنگ عظیم کے بعد یہ گھر چیک، نازی اور پھر روسی حکومت کی ملکیت ہو جاتا ہے اور بعد میں یہ اس کو تعمیر کرنے والے خاندان کو واپس مل جاتا ہے۔
اس کتاب سے پہلے سائمن ماور نےسات ناول لکھے ہیں جن میں ’دا گوسپیل آف جوڈاس‘ اور دا فال‘ شامل ہیں۔ ماور کا انگلینڈ سے تعلق ہے لیکن وہ اٹلی کے شہر روم میں رہتے ہیں۔
کتاب: دا لِٹل سٹرینجر، مصنف سارا واٹرز

اس کتاب میں زمانے کے سماجی طبقات میں فرق کی بدلتی ہوئی حالت کو بڑے دلچسپ انداز میں دکھایا گیا ہے۔ ڈاکٹر فیراڈے نامی کردار کو اس شاندار گھر میں بلایا جاتا ہے جہاں تیس برس پہلے وہ اپنی والدہ کے ساتھ گئے تھے جب ان کی والدہ وہاں نوکرانی تھیں۔
پینتالیس سالہ سارا واٹرز کو دو مرتبہ پہلے بھی شارٹ لِسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ دو ہزار دو میں ان کا ناول ’فنگر سمتھ‘ اور دو ہزار چھ میں ’دا نائٹ واچ‘ کو انعام کے لیے نازمد کیا گیا تھا۔





















