زرد پتوں کا بن جو مرا دیس ہے

سٹیج موومنٹ کے ساتھ گلوکاری اثر انگیز تھی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسٹیج موومنٹ کے ساتھ گلوکاری اثر انگیز تھی
    • مصنف, انور سِن رائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے دوسرے شہروں کی طرح کراچی میں بھی فیض احمد فیض کے صد سالہ یومِ پیدائش کی تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔

جمعرات کو کراچی آرٹس کونسل کے تھیٹر ہال میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) نے کراچی آرٹس کونسل کے تعاون سے ایک پروگرام کیا۔

’زرد پتوں کا بن جو مرا دیس ہے‘ کے عنوان سے کیا جانے والا یہ پروگرام موسیقی، نیم ڈرامہ اور رقص پر مشتمل تھا اور اس میں مختلف نظموں کے ذریعے فیض کے ہاں آئیڈیل ازم کے کھو جانے کے احساس، وطن کے لیے محبت، امید پرستی اور مستقبل کے بہتر ہونے پر بے پایاں یقین کو محسوساتی شکل دینے کی کوشش کی گئی تھی۔

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ شاعری اور خاص طور پر فیض جیسے شاعر کی شاعری کی ایسی کنکریٹ یا ٹھوس تجسیم بجا طور پر ایک دشوار کام ہے اور یہ دشوار کام کیا بھی جائے تو تمام تر صلاحیتوں کے باوجود اُن تجریدی پیکروں کی تمام جہتوں احاطہ کرنا ممکن نہیں ہو پاتا جو لفظوں کے پیچھے اور بالا رنگا رنگی اور کثرتِ معنی کے امکانات پیدا کرتے ہیں۔

یہ شاعر کی شخصیت کی پہلوداری ہے اور شاید شخصیت کی یہی پہلوداری ایک شاعر کو اس کے زمانے اور زبان کا بڑا شاعر بناتی ہے کیوں کہ وہ جس بات کو محسوس کرتا اور اظہار دیتا ہے وہ اس کی پہلوداری اور رنگارنگی کا عکس بن جاتی ہے۔

لیکن اس کے باوجود ایسا کرنے کی کوشش داد کی مستحق ٹھہرے گی۔

فیض احمد، پابلو نیرودا اور ناظم حکمت ہم عصر ہی نہیں تھے بلکہ دوستانہ مراسم بھی رکھتے تھے اور حسنِ اتفاق سے ان تینوں شاعروں کے ہاں محبوب، وطن اور انقلاب کا استعارہ باہم گندھا ہوا اور مدغم ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب وہ انقلاب کی بات کرتے ہیں تو اس میں محبوبانہ جذب اور کیف ہوتا ہے اور جب وطن کی بات کرتے تو اس میں بھی محبوبانہ دردانگیزی اور گداز ہوتا ہے۔

’زرد پتوں کا بن جو مرا دیس ہے‘ کے عنوان سے پیش کی جانے والی نظموں کو سٹیج کرنے کے تصور کی ہدایت کاری نوجوان ہدایت کار زین احمد نے کی۔

انھوں نے فیض کے ہاں پائے جانے والے دھیمے پن کو بخوبی محسوس کیا۔ لائٹنگ، ملبوسات کے رنگ اور موومنٹ متناسب اور ہم آھنگ تھے۔

نظمیں پڑھنے میں معمولی بھول چوک کے باوجود مجموعی طور پر پیشکش اچھی تھی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشننظمیں پڑھنے میں معمولی بھول چوک کے باوجود مجموعی طور پر پیشکش اچھی تھی

اس قدرے کوریوگرافک پیشکش کے ایگزیکٹو اور پروڈیوسر اور موسیقار ارشد محمود تھے جب کہ اس کی نگرانی یا ’سپرویژن‘ ستار نواز نفیس احمد نے کی۔

موسیقی سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کو دھنوں میں یکسانیت کا احساس ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دھنوں کی یکسانیت نے شاعری کی معنوی اور محسوساتی ہمہ جہتی کو متاثر کیا‘۔

اس پیشک کو پسند کرنے والے بھی کچھ زیادہ کی توقع لے کر آئے تھے۔

اس پیشکش میں گلوکار نادر عباس، احسان شبیر اور ارم نفیس وار اداکار علی رضوی، محسن علی، بختاور مظہر اور پارس مسرور شامل تھے۔

سٹیج موومنٹ کے ساتھ گلوکاری اثر انگیز تھی اور نظمیں پڑھنے میں معمولی بھول چوک کے باوجود مجموعی طور پر پیشکش اچھی تھی۔