تیسرا محاذ ایک متبادل: بردھن

ہندوستان میں آئندہ انتخابات کے لیے بائیں بازو کی جماعتوں اور دیگر مختلف علاقائی پارٹیوں کی جانب سے تیسرے محاذ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

جمعرات کو اس محاذ کی ایک ریلی جنوبی ریاست کرناٹک کے بنگلور شہر میں منعقد کی گئی تھی۔

ریلی میں محاذ تشکیل دیے جانے کا اعلان کرتے ہوئے مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری پرکاش کرات نے کہا کہ سبھی جمہوری، سیکولر اور بائیں بازو جماعتوں کا تیسرے محاذ کے لیے ایک ساتھ ہونا ایک تاریخی موقع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تیسرا محاذ عوام کے لیے فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف سیکولرزم کی لڑائی کے لیے کھڑا رہے گا اور غریب طبقے کے لیے لڑے گا۔

کرات نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ کسی بھی قسم کا سمجھوتا نہيں کیا جائے گا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کمیونسٹ پارٹی آف انڈيا یعنی سی پی آئی کے جنرل سیکرٹری اے بی بردھن نے کہا کہ یہ ایک نیا متبادل رہے گا جس میں نہ تو کانگریس رہے گی اور نہ ہی بی جے پی۔ لوگوں اور پارٹیوں کو ماضی کا تجربہ ہو چکا ہے کہ اس لیے اقتصادی پالسیوں، عوام کے سوالات اور بیرونی پالسیوں پر ہم سبھی جماعتیں ایک ساتھ رہیں گے۔

گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور جنتا دل سیکولر یعنی جے ڈی ایس کے سربراہ ایچ ڈی دیوی گوڑہ نے تیسرا محاذ تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔ دیوی گوڑا کا کہنا تھا کہ تیسرے محاذ میں بائيں بازو کی جماعتوں سمیت آٹھ پارٹیاں شامل ہوں گی۔

امید کی جا رہی ہے کہ بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی)، مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم)، فارورڈ بلاک، رپبلکن پارٹی آف انڈیا (آر پی آئی)، تلگودیشم پارٹی (ٹی ڈی پی)، تیلنگانہ راشٹریہ سمیتی (ٹی آر ایس)، انّنا ڈرمک (اے آئی ڈی ایم کے) بہوجن سماج پارٹی اور جنتا دل سیکولر تیسرے محاذ میں شامل ہوں گے۔

حالانکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس نے اس محاذ سے پیدا ہونے والے کسی بھی طرح کے خطرے کو خارج کیا ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سیما مسطفی کے مطابق تیسرے محاذ کا قیام ایک مثبت قدم ہے اور اس بات کا احساس ہو رہا ہے۔ ملک میں کانگریس اور بھارتیہ جنتا مخالف جذبات پیدا ہو رہے ہیں اور اس لیے علاقائی جماعتیں ایک ساتھ آ گئی ہیں۔