قصاب کیس: ویڈیو اور تصاویر پر پابندی

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
ممبئی حملوں کی سماعت کے لیے نامزد جج ایم ایل تہیلیانی نے ٹیلی ویژن اور پرنٹ میڈیا کو حملوں کی ریکارڈ کیسٹ دکھانے اور تصاویر شائع کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
انہوں نے یہ فیصلہ ممبئی کرائم برانچ کی اس اپیل کے جواب میں دیا ہے جس میں پولیس نے کہا تھا کہ ٹی وی چینلز اور پرنٹ میڈیا جو فوٹیج نشر کر رہے ہیں وہ پولیس کی تفتیش کا اہم حصہ ہے اس لیے اس کے نشر کرنے پر پابندی عائد کی جائے۔
دریں اثناء ممبئی حملوں کے کیس کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت کی تجدید کاری کا کام ابھی مکمل نہیں ہو سکا ہے اس لیے یہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ تیئس مارچ کو اس کیس کی سماعت خصوصی عدالت کے کمرے میں کیے جانے کے بجائے سیشن کورٹ میں ہو گی اور اجمل قصاب کے ساتھ دیگر دو مقامی ملزمین صباح الدین اور فہیم انصاری سے جج ایم ایل تہیلیانی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ گفتگو کریں گے۔
سینٹرل آرتھر روڈ جیل میں عدالت کے کمرے کی دیواروں کو اونچا کیا جا رہا ہے۔ کمرے کو بم پروف بنایا جا رہا ہے تاکہ اس پر کسی طرح کے حملے کا کوئی اثر نہ ہو۔ اس کے علاوہ اس کمرے کی کھڑکیاں توڑ کر اب کمرے کو مکمل طور پر ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں تبدیل کرنے کا کام جاری ہے۔
عدالتی ذرائع کے مطابق ابھی یہ کام چونکہ مکمل نہیں ہو سکا ہے اس لیے آئندہ سماعت یہاں ہونا ممکن نہیں ہے۔ جب تک عدالت کی تجدید کاری کا کام مکمل نہیں ہو جاتا ممبئی حملوں کے کیس کی سماعت اسی طرح ویڈیو کانفرنسگ کے ذریعہ کی جائے گی۔
پولیس نے جیل کے اطراف رہنے والے لوگوں سے تفتیش کا کام شروع کر دیا ہے۔ وہاں تقریبا پندرہ ہزار افراد رہتے ہیں اور چند دکانیں ہیں۔ ممبئی پولیس وہاں رہنے والوں کے راشن کارڈ اور دیگر دستاویزات کی جانچ کر رہی ہے۔
کیس کی سماعت جب شروع ہو گی تب اس گلی میں جانے پر پولیس رکاوٹیں کھڑی کر دے گی اس لیے وہاں کوئی گاڑی نہیں جا سکےگا۔ جس کی گاڑی ہو گی اسے پولیس شناختی کارڈ جاری کرے گی اس کے بغیر وہاں اندر کسی کو بھی اپنی گاڑی لے جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ دکانوں میں کام کرنے والے نوکروں کو شناختی کارڈ دیے جائیں گے اس کے بغیر وہ اندر داخل نہیں ہو سکیں گے۔یہاں کے مکین پولیس کی اس سخت کارروائی سے ناراض ہیں لیکن کسی سے کچھ کہنے کی ہمت نہیں کر پا رہے ہیں۔
پولیس ہر میڈیا ہاؤس کے نمائندے کے لیے شناختی کارڈ جاری کر رہی ہے اس شناختی کارڈ کے بغیر کوئی بھی نمائندہ جیل کی حدود میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ ٹیلی ویژن چینل کی او بی وین کو بھی اب جیل کی حدود کے اطراف بھی کھڑا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ممبئی جوائنٹ پولیس کمشنر راکیش ماریا کا کہنا ہے کہ اجمل کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے اس لیے پولیس کسی طرح کا کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتی ہے۔
کیس کی سماعت سے قبل ہی جیل کے اطراف پولیس کا گشت بڑھ گیا ہے۔کیس شروع ہونے کے بعد پورے علاقہ کو ایک قلعہ میں تبدیل کر دیا جائے گا جیسا سن ترانوے کے بم دھماکہ کیس کے وقت کیا گیا تھا لیکن اس وقت پولیس زیادہ چاق چوبند ہے۔مقامی پولیس کے علاوہ سریع الحرکت فورس کا عملہ بھی متعین کیا جائے گا۔
گزشتہ برس چھبیس نومبر کو ممبئی پر شدت پسند حملے ہوئے تھے۔پاکستان سے آئے مبینہ دس شدت پسندوں میں سے پولیس نے ایک حملہ آور اجمل امیر قصاب کو زندہ گرفتار کر لیا تھا۔پولیس نے گزشتہ ماہ اس کیس کی فرد جرم عدالت میں داخل کر دی جس میں پولیس نے پینتیس مفرور مبینہ پاکستانی باشندوں سیمت سینتالیس افراد کے نام شامل کیے ہیں۔



















