یہ ہو کیا رہا ہے ؟

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
یوں تو سیاست میں نہ دوستی مستقل ہوتی ہے نہ دشمنی لیکن جس تیزی سے ہندوستان میں آجکل سیاسی وفاداریاں بدل رہی ہیں، یہ یاد رکھنا مشکل ہوگیا ہے کہ کون کس کے ساتھ ہے۔ناراض رہنما گھر واپیس لوٹ رہے ہیں، سیاسی رقابت اور نظریاتی مماثلت میں فرق ختم سا ہوگیا ہے۔
ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادو کانگریس کے دوست تھے، ان کا دعویٰ ہے کہ یہ دوستی برقرار ہے لیکن بہار میں انہوں نے رام ولاس پاسوان کو گلے لگا لیا ہے۔ پاسوان پسماندہ طبقات میں کافی مقبول ہیں اور لالو انہیں پسند نہیں کرتے لیکن اس وقت بہار میں انہیں وزیر اعلی نتیش کمار سے زیادہ خطرہ ہے۔
گانگریس برگشتہ ہے لیکن شاید بھول گئی ہے کہ چارہ گھپلے میں لالو کا نام کیوں آیا تھا۔ کانگریس چاہے کتنی بھی ناراض ہو، حکومت بنانی ہے تو انتخابات کے بعد لالو سے پھر ہاتھ ملانا ہی پڑے گا۔ اس کے علاوہ اور چارہ ہی کیا ہے؟

کانگریس کو پہلے سماج وادی پارٹی ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی۔ اس کا الزام تھا کہ سماجوادی پارٹی نے اتر پردیش میں اپنی حکومت بچانے کے لیے بی جے پی سے اندرونِ خانے مفاہمت کر رکھی تھی۔ پہلے سماج وادی اور لیفٹ پارٹیز میں بھی بہت یارانہ تھا۔ لیکن جب لیفٹ فرنٹ نے جوہری معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی تو ملائم سنگھ یادو نے ملک کے 'وسیع تر مفاد' میں یو پی اے حکومت کی حمایت کا اعلان کر دیا۔
سماج وادی کے رہنما ملائم سنگھ یادو اطالوی نژاد سونیا گاندھی کے پرستار بن گئے لیکن اتر پردیش میں سیٹوں کی تقسیم پر یہ دوستی دوبارہ ٹوٹ گئی ہے۔لیکن پوری طرح نہیں، فی الحال صو رتحال یہ ہے کہ کانگریس اور سماج وادی اترپردیش میں انتخاب الگ الگ لڑیں گے لیکن کانگریس ملائم سنگھ اور ان کے بیٹے کے خلاف اور سماجوادی پارٹی سونیا اور راہول گاندھی کے خلاف امیدوار کھڑے نہیں کرے گی۔
جن سیٹوں کے ہارنے کا کوئی امکان نہیں وہاں دوستی دکھانے سے کیا فائدہ ؟شاید انتخابات کے بعد دوستی بحال کرنے کے لیے دروازے کھلے رکھنا چاہتے ہیں۔

عہدِ رفتہ کے مشہور فلم سٹار شترو گھن سنہا کو شاٹ گن سنہا کیوں کہا جاتا تھا یہ اب سمجھ میں آیا۔ وہ بی جے پی کے لیڈر ہیں اور زمانے سے بہار کا وزیر اعلی بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اس خواب کے پورا ہونے کا امکان تو کم ہے ہی، اس بار پارٹی انہیں ٹکٹ دینے میں بھی آنا کانی کر رہی تھی۔ شترو گھن نے سماج وادی پارٹی سے رابطہ کیا، سماج وادی کے لیڈر امر سنگھ نے شترو گھن اور ٹی وی کیمروں کی موجودگی میں کہا کہ: جب کوئی تمہارا ہردے توڑ دے، تڑپتا ہوا کوئی تمہیں چھوڑ دے، تب تم میرے پاس آنا پریے، میرا در کھلا ہے کھلا ہی رہے گا تمہارے لیے ۔۔۔
امر سنگھ کبھی بھی ’انڈین آئیڈل‘ تو نہیں بن پائیں گے لیکن اس کے بعد بی جے پی نے شاٹ گن سنہا کو ٹکٹ دینے میں دیر نہیں لگائی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اڑیسہ میں بیجو جنتا دل کے سربراہ نوین پٹنائک گیارہ برس سے بی جے پی کے ساتھ تھے لیکن اب انہوں نے فرقہ پرست طاقتوں کو طلاق دے دی ہے کیونکہ عیسائیوں پر بی جے پی کی اتحادی جماعتوں کے حملے انتخابات میں انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔(اڑیسہ میں اسمبلی انتخابات بھی ہو رہے ہیں)
نوین پٹنائک اب تیسرے محاذ میں شامل ہوگئے ہیں جس کے تقریباً سبھی رہنما وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ یہاں نوین پٹنائک کے علاوہ آپکو ایچ ڈی دیوے گوڑا نظر آئیں گے جو سیکولر مزاج والی جماعتوں کی حمایت سے وزیر اعظم بنے تھے لیکن بعد میں انہوں نے کرناٹک میں بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنا لی۔

یہاں آندھرا پردیش کے چندر بابو نائیڈو بھی ہیں جنہوں نے وزیر اعلیٰ بننے کے لیے اپنے ہی سسر کی حکومت کا تختہ پلٹا تھا اور اب بی جے پی کی سربراہی والے قومی جمہوری اتحاد سے الگ ہوگئے ہیں، یہاں مایاوتی بھی ہیں جو یو پی میں بی جے پی سے ہاتھ ملانے اور پھر وعدہ وفا نہ کرنے سے گریز نہیں کرتیں، تمل ناڈو کی سابق وزیر اعلی جے للتا بھی ہیں جنہوں نے غصے میں آکر بی جے پی کی تیرہ مہینے کی (تیرہ دن کے بعد والی دوسری) حکومت گرائی تھی اور ظاہر ہے کہ ہر تیسرے مورچے میں دائیں بازو کی جماعتیں تو ہوتی ہی ہیں کیونکہ وہ کسی بھی قیمت پر بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے روکنا چاہتی ہیں۔
لیکن ہمیشہ کی طرح ایک طرف کنواں ہے دوسری طرف کھائی اور ساتھ میں وزرا اعظم ان ویٹنگ کی پوری ٹیم شاید صرف اس ٹیم سے بچنے کے لیے ہی انتخابات کے بعد لیفٹ فرنٹ ایک مرتبہ پھر خود کو کانگریس کی حمایت پر مائل کرتا نظر آئے مغربی اترپردیش کو الگ ریاست بنانے کا مطالبہ کرنے والے سابق وزیراعظم چرن سنگھ کے بیٹے اجیت سنگھ سب سے اتحاد کرتے ہیں لیکن ساتھ کسی کا نہیں دیتے۔ پہلے کانگریس پھر بی جے پی، پھر سماجوادی اور اب پھر بی جے پی ، فرقہ پرست ہو یا سیکولر، وہ کسی کا دل نہیں توڑتے یا شاید ان کے جانے سے اب کسی کا دل نہیں ٹوٹتا۔ اور آخر میں لال کرشن ایڈوانی، بہت انتظار کیا ہے انہوں نے لیکن ایسا لگ نہیں رہا کہ ان کا انتظار ختم ہونے کے قریب ہے۔ قومی جمہوری اتحاد میں شامل زیادہ تر جماعتوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا ہے، خود بی جے پی اندرونی چپقلش کا شکار ہے، دو سرکردہ رہنما راج ناتھ سنگھ اور ارون جیٹلی ایک دوسرے سے بات کرنے پر تیار نہیں اور اس تنازع میں اڈونی کافی لاچار نظر آرہے ہیں۔

آپ کو شاید یاد ہوگا کہ جب اڈوانی نے اپنی بدنام زمانہ رتھ یاترا کی تھی تو بہار میں داخل ہوتے ہی لالو پرساد یادو نے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔ لالو اس وقت بہار کے وزیر اعلی تھے۔ اڈوانی کی بے۔چارہ۔گی کے بارے میں سوچتا ہوں تو لالو یادو یاد آجاتے ہیں۔
لیکن ہندوستان کی سیاست کچھ ایسی ہے کہ یہاں کچھ بھی بعید از قیاس نہیں۔ ایچ ڈی دیوے گوڑا، نرسمہا راؤ، اندر کمار گجرال، چندر شیکھر، چرن سنگھ۔۔۔ حالات نے ان سبھی کو وزیر اعظم کی کرسی تک پہنچا دیا۔یکن لگتا ہے کہ اڈوانی کی قسمت اتنی زبر نہیں۔اب اڈوانی سے یہ پوچھا جا رہا ہے کہ کیا بی جے پی کانگریس کے ساتھ مل کر حکومت قائم کرسکتی ہے؟ ( کم سے کم ایک صحافی نے ان سے یہ سوال ضرور کیا ہے)
جواب تو آپ کو معلوم ہی ہوگا لیکن یہ ہو کیا رہا ہے؟





















