اجمیر دھماکہ: ابھینو بھارت پر شک

راجستھان پولیس
،تصویر کا کیپشنابھینو بھارت کے بعض افراد کو مالیگاؤں دھماکے کے الزام میں پہلے ہی گرفتار کیا جاچکا ہے۔

ہندوستان میں سکیورٹی اور خفیتہ اداروں کا کہنا ہے کہ اجمیر کے بم دھماکے میں بھی ہندو شدت پسند تنظیم ’ابھینو بھارت‘ ملوث ہو سکتی ہیں۔

اجمیر کی درگاہ کے احاطے میں اکتوبر دو ہزار سات میں ہوئے بم دھماکے میں کئي افراد زخمی ہوئے تھے۔

مغربی ریاست راجستھان کے اینٹی ٹیررسٹ سکواڈ (انسداد دہشت گردی کے سکواڈ) کے سربراہ کپل گرگ نے کہا ہے کہ اجمیر دھماکے میں بھی ابھینو بھارت ملوث ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں تفتیش جاری ہے لیکن ابھی سب کچھ ابتدائی مراحل میں ہے۔

ابھینو بھارت کے بعض افراد کو مالیگاؤں دھماکے کے الزام میں پہلے ہی گرفتار کیا جاچکا ہے۔ اسی تنظیم سے منسلک ایک فوجی افسر کرنل پروہت کے ’نارکو انالیسس‘ ٹیسٹ سے پتہ چلا تھا کہ اجمیر دھماکے میں بھی ابھینو بھارت نامی تنظیم کے بعض افراد ملوث ہوسکتے ہیں۔

مالیگاؤں دھماکہ کے ایک ملزم کا تعلق ریاست گجرات سے ہے جو فرار ہیں اور راجستھان پولیس کے مطابق اگر اس شخص سے تفتیش کی جائے تو ممکن ہے کہ اجمیر دھماکہ کی تفتیش تیزی سے آگے بڑھ سکتی ہے۔

اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کے احاطے میں گیارہ اکتوبر دو ہزار سات کو افطار کے وقت دھماکہ ہوا تھا جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔

مالیگاؤں دھماکے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد اس طرح کی بھی خبریں آئیں تھیں کہ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے میں بھی ابھینو بھارت نامی تنظیم کا ہاتھ ہوسکتا ہے لیکن پولیس نے اس سے انکار کیا تھا۔