جنرل نے ٹریننگ دیکھی: قصاب

ممبئی حملوں کے ملزم اجمل قصاب نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ پاکستانی فوج کے ایک اعلی افسر نے انڈیا مشن پر بھیجے جانے سے پہلے ان کی عسکری تربیت کا جائزہ لیا تھا۔
ممبئی کی ایک عدالت میں وکیل استغاثہ نے ممبئی حملوں کے زندہ بچ جانے والے واحد ملزم کے مبینہ اقبالی بیان کے جو حصے پڑھ کر سنائے ہیں ان کے مطابق اجمل قصاب نے کہا کہ جب انہیں سرائے عالمگیر میں رکھا گیا تھا تو جماعت الدعوہ سے تعلق رکھنے والے لوگ مخلتف مقامات پر قائم عسکری تربیتی مرکزوں سے رابطے میں رہتے تھے۔ وکیل استغاثہ کا کہنا تھا کہ اجمل قصاب نے یہ اقبالی بیان اس سال فروری میں ایک میجسٹریٹ کے روبرو دیا تھا۔ عدالت میں پڑھا گیا بیان میجسٹریٹ اور اجمل قصاب کے درمیان سوال و جواب پر مبنی ہے۔
مبینہ اقبالی بیان کے مطابق اجمل قصاب نے بتایا کہ رمضان کی تیرہ تاریخ کو تربیت کے اختتام پر گروپ کی ملاقات ابوحافظ سعید، ذکی الرحمان لکھوی، مزمل عرف یوسف، ابو الکامہ، ابو حمزہ، ابو کہفہ اور ابو عمرسعید نامی افراد سے کرائی گئی۔ اجمل قصاب کے بقول اس موقع پر ابو حافظ سعید نے کہا اب جہاد کا وقت آگیا ہے اور ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ اب ہندوستان پر حملہ کیسے کیا جائے۔ ابو حافظ کے بعد ذکی الرحمان نے بھی گروپ سے بات چیت کی اور کہا کہ ممبئی انڈیا کا مالیاتی مرکز ہے اس لیے یہ اہم ہے کہ ہم ممبئی پر حملہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ تمام مجاہدین نے سمندر کی بھی اچھی تربیت حاصل کر لی ہے اور ہم سمندر کے راستے ممبئی پر حملہ کریں گے۔
اجمل قصاب کے مبینہ بیان کے مطابق اس موقع پر پاکستانی فوج کے ایک میجر جنرل بھی پہنچ گئے۔ انہوں نے امیر حافظ سعید اور ذکی الرحمان سے معانقہ کیا اور تینوں باتیں کرتے ہوئے ہم (گروپ) سے دور چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد جب یہ تینوں واپس آئے تو حافظ سعید نے کہا کہ میجر جنرل صاحب ہماری تیاری دیکھنا چاہیں گے۔
میجسٹریٹ کے سوالوں کے جواب میں اجمل قصاب نے مزید بتایا کہ میجر جنرل نے حافظ سعید کو گروپ کے ہر فرد کے لیے ایک ایک نشانہ سامنے رکھنے کو کہا جس کے بعد تمام لوگوں نے کلاشنکوف کی مدد سے اپنے اپنے نشانوں پر فائر کیے۔ اس موقع پر میجر جنرل نے پہلے ایک ایک گولی سے اور بعد میں مسلسل فائرنگ سے اپنے اپنے نشانوں پر گولیاں داغنے کو کہا۔
اجمل قصاب نے بتایا کہ بابر نامی مجاہد کے علاوہ تمام لوگوں نے ٹھیک نشانے پر فائر کیے جس پر میجر جنرل صاحب نے بابر کو ڈانٹا بھی۔ مسلسل فائرنگ کے سیشن کے بعد میجر جنرل نے پوچھا کہ نشانہ نمبر چار کس کا تھا۔ جب میں نے بتایا کہ نشانہ نمبر چار میرا ٹاگٹ تھا تو میجر جنرل صاحب نے کہا کہ وہ بہت خوش ہیں کیونکہ میں نے اپنے نشانے کو مکمل تباہ کر دیا تھا۔ تربیت کے معائنے کے بعد میجر جنرل صاحب نے باقی مجاہدین سے کہا ان کا نشانہ بھی میرے (اجمل قصاب) جیسا اچھا ہونا چاہیے اور انہیں بھی کم سے کم گولیوں میں اپنے نشانوں کو مکمل تباہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
بیان میں اجمل قصاب نے بتایا کہ فوجی افسر کے معائنے سے پہلے انہیں اکیس دن تک جہلم کے پاس سرائے عالمگیر کے مقام پر ایک کیمپ میں رکھا گیا تھا جہاں انہیں جسمانی ورزش، دوڑنے، پہاڑوں پر چڑھنے کے علاوہ ایک کے 47 رائفل کے پرزے الگ کرنے، انہیں جوڑنے اور رائفل چلانے کی تربیت بھی دی گئی۔ مبینہ بیان کے مطابق اجمل قصاب نے بتایا کہ عسکری تربیت ڈھائی ماہ پر محیط تھی جس کے دوران زیر تربیت دس افراد کو دو دو کی ٹولیوں میں تقسیم کیا تھا اور یہ کہ انہیں اور اسماعیل نامی شخص کو اکٹھے رکھا گیا۔ اجمل کا کہنا تھا کہ انہیں سٹیلائیٹ فون، جی پی ایس سسٹم، نقشے پڑھنے اور ساٹھ گھنٹے تک بھوکا رہنے کے بعد کمر پر بھاری وزن باندھ کر پہاڑوں پر چڑھنے کی تربیت بھی دی گئی۔
مبینہ اقبالی بیان کے مطابق عسکری تربیت اتنی سخت تھی کہ دس مجاہدین کیمپ سے بھاگ گئے۔ عسکری تربیت کے بعد پندرہ لوگ باقی بچے تھے جنہیں مرید کے میں مرکزطیبہ لے جایا گیا جہاں انہیں مزید ایک ماہ تک تربیت دی گئی۔ اس دوران انہیں اس بات کی تربیت دی گئی کہ ایک خفیہ ادارہ کیسے کام کرتا ہے۔ اجمل قصاب نے بتایا کہ انہیں خفیہ معلومات جمع کرنے، اپنے نشانے پر نطر رکھنے، اس کا پیچھا کرنے، وغیرہ کی تربیت دی گئی۔ پکڑے جانے کی صورت میں اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے اور غلط شناخت دیکر جُل دینے کی تربیت بھی پروگرام کا حصہ تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

مرید کے کے بعد انہیں سمندر پر لے جا کر بھی تربیت دی گئی، جس دوران گروپ کو نقشے پڑھنے، سمندر کی گہرائی کا اندازہ لگانے، جی پی ایس کی مدد سے سمندر میں اپنے راستے کا تعین کرنے، بحری جہاز چلانے کے علاوہ مچھیروں کے جال استعمال کرنے کی بھی تربیت دی گئی۔
اجمل قصاب کے مبینہ بیان کے مطابق سمندر کے راستے ممبئی روانگی سے قبل ابوحافظ سعید اور ذکی الرحمان نے آخری ہدایات دیں اور کہا کہ گروپ کا نشانہ ممبئی ہوگا کیونکہ ممبئی انڈیا کا مالیاتی مرکز ہے اور وہاں بہت سے غیر ملکی بھی ہوتے ہیں۔ گروپ سے کہا گیا کہ وہ ایسے مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے جہاں غیر ملکیوں کا آنا جانا زیادہ ہو، تاہم وہ دوسری جگہوں کو بھی نشانہ بنائے۔
اجمل قصاب کے بقول اس موقع پر امیر حافظ سعید نے کہا کہ تمام مجاہدین کو کشمیر کی آزادی کے لیے جہاد کرنا ہے۔ حافظ سعید کے علاوہ ذکی الرحمان نے بھی انہیں جہاد کی تلقین کی اور کہا کہ ان کے لوگ گزشتہ پندرہ سال سے کشمیر میں جہاد کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود بھارتی حکومت نے کشمیر کو آزادی نہیں دی۔ ذکی الرحمان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم انڈیا کے ساتھ جنگ کریں اور کشمیر واپس لیں۔
اجمل قصاب نے میجسٹریٹ کو مبینہ طور پر بتایا کہ اس موقع پر ذکی الرحمان نے گروپ سے پوچھا کہ آیا وہ انڈیا کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہیں، جس پر ہم سب نے کہا کہ ہم تیار ہیں۔ اجمل کے بقول ذکی الرحمان نے مزید کہا کہ ہمیں انڈیا کے ساتھ جنگ کا آغاز کرنا ہے تا کہ وہ اندر سے کھوکھلا ہو جائے اور ہمارے اس مشن میں جو بھی مارا گیا اسے جنت ملے گی۔



















