مودی کےخلاف تحقیقات کاحکم

ذکیہ نے اپنی شکایت میں نریندر مودی اور ان کی حکومت کے کئی وزراء کا ذکر کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنذکیہ نے اپنی شکایت میں نریندر مودی اور ان کی حکومت کے کئی وزراء کا ذکر کیا ہے۔

سپریم کورٹ نےگجرات فسادات کےدوران ریاستی وزیراعلٰی نریندر مودی اور ان کے کئی سابق وزراء کے کردار کے خلاف شکایت کی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ حکم سابق رکن پارلیمان، احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ نسیم احسان اور سماجی کارکن تیستاسیتلواڈ کی عرضداشت پر سنایا ہے۔

جسٹس ارجت پسایت اور اشوک کمار گنگولی پر مشتمل بینچ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم اس شکایت کی تحقیق کرنے بعد تین ماہ کے اندر اندر اپنی رپورٹ پیش کرے۔

یہی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) گجرات فسادات سے متعلق دیگر معاملات کی تحقیقات بھی کر رہی ہے۔اس ٹیم کی قیادت سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر آر کے راگھون کر رہے ہیں۔احسان جعفری کانگریس کے سابق رکن پارلیمان تھے اور گجرات فسادات کے دوران احمد آباد کی گلبرگ سوسائٹی میں لگائی جانے والی آگ میں سینتیس دیگر افراد کے ہمراہ مارے گئے تھے۔

احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ نسیم احسان نے نومبر 2007 میں گجرات ہائی کورٹ میں بھی درخواست دی تھی لیکن عدالت نے اسے خارج کر دیا تھا۔جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ کادروازہ کھٹکھٹایا۔ سپریم کورٹ نے تین مارچ کو گجرات حکومت کو نوٹس بھی جاری کیا تھا۔

ذکیہ کلبرگ سوسائٹی سانحہ کی چشم دید گواہ ہیں اور اپنی شکایت میں انہوں نے نریندر مودی اور ان کی حکومت کے کئی وزراء کا ذکر کیا ہے۔

سنہ 2002 میں گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس ٹرین میں آگ لگنے کے سبب 59 ہندو مارے گئے تھے جس کے بعد گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے تھے۔ سرکاری اعددو شمار کے مطابق ان فسادات میں ایک ہزار سے زائد لوگ مارے گئے تھے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔