سرینگر میں انتخابات

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
بھارتی لوک سبھا کے لیے سات مئ کو ہو رہے انتخابات کے چوتھے مرحلے میں ہندوستانی زیرانتظام کشمیر کی حساس ترین سرینگر۔بڈگام پارلیمانی سیٹ کے لیے بھی ووٹ ڈالے جائینگے۔
علیحدگی پسند سرگرمیوں کا گڑ ہونے کی وجہ سے اس حلقے کے تمام ایک ہزار چار سو چھیاسٹھ پولنگ مراکز کو حساس ترین قرار دیا گیا ہے اور شہر و دیگر قصبوں میں نیم فوجی عملے کی اضافی کمپنیوں کو تعینات کیا جارہا ہے۔
اس دوران سید علی گیلانی کی سربراہی والے حریت کانفرنس دھڑے نے پانچ مئی کی شام سے ہی پچاس گھنٹہ کی مکمل ہڑتال اور ووٹنگ کے بائیکاٹ کی کال دی ہے۔
حریت رہنما میرواعظ عمرفاروق نے بھی اعلان کیا ہے کہ اگر اگلے جمعہ کو حکومت نے جامع مسجد کا محاصرہ کیا اور نمازیوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی تو لوگ مزاحمت کرینگے۔
سرکاری ذرایع نے بتایا کہ ان اعلانات کے پیش نظر پولیس نے پولنگ سے پہلے ہی سیکورٹی پابندیاں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
واضح رہے پچھلے کئی ہفتوں سے پرانے سرینگر اور وادی کے دوسرے قصبوں میں ہر جمعہ کو مظاہرین اور پولیس کے مابین تصادم ہوتے رہے ہیں اور ان جھڑپوں میں کئی پولیس اہلکاروں سمیت درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔
گیلانی اور میرواعظ سمیت کئی حریت رہنما دو ہفتوں سے گھروں میں نظر بند ہیں۔
دریں اثنا صوبے کے پولیس سربراہ کُلدیپ کمار کھُڈا نے خبردار کیا ہے کہ ، 'امن و قانون میں بگاڑ پیدا کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائیگی۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بات قابل ذکر ہےتیس اپریل کو جنوبی کشمیر کی پارلیمنٹ سیٹ کے لیے ہوئے انتخابات کے دوران پولیس نے پوری وادی میں عوامی آمدورفت پر پابندی عائد کردی تھی۔
علیٰحدگی پسندوں کی طرف سے الیکشن مخالف مظاہروں کے منصوبے کے بعد سرینگر میں تناؤ کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سات مئی کو یہاں بھی سخت سیکورٹی پابندیا عائدہونگی۔
واضح رہے سرینگر، گاندربل اور بڈگام اضلاع پر مشتمل سرینگر پارلیمنٹ سیٹ کے لئے جمعرات کو ہورہے ان انتخابات میں گیارہ لاکھ دو ہزار چار سو اکاون ووٹر چار اہم امیدواروں کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ کرینگے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس نشت پر سابق وزیراعلیٰ اور حکمران نیشنل کانفرنس صدر فاروق عبداللہ کے مدمقابل ان کی سگی بہن اور سابق وزیراعلیٰ غلام محمد شاہ کی اہلیہ خالدہ عبداللہ شاہ ہیں۔ پی ڈی پی کے مولوی افتخار انصاری اور بی جے پی کے اشوک پنڈت بھی سرینگر کی حساس ترین سیٹ پر چناؤ لڑرہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ تیس اپریل کو جنوبی کشمیر کی اننت ناگ سیٹ کے لیے سخت سیکورٹی اور ہڑتال کے بیچ ہوئی پولنگ کی شرح صرف چھبیس فی صد رہی۔





















