انڈیا: پنجاب میں سکھوں میں تصادم

جالندھر میں تشدد
،تصویر کا کیپشنجالندھر میں پورے شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے

آسٹریا کے دارلحکومت وینا کے ایک گرودوارے میں ہوئے تصادم میں مذہبی رہنما کے قتل کا اثر ہندوستان میں بھی نظر آ رہا ہے۔ ریاست پنجاب کے کئی علاقوں میں قتل کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔

وینا میں دلتوں سے تعلق رکھنے والے ڈیرا سچا کھنڈ کے ایک گرو دوارے ميں داخل ہو کر بعض مسلح افراد نے ایک مذہبی پیشوا کو قتل کر دیا۔ اس تشدد میں سولہ افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

اس حادثے کے بعد وینا میں تو سکھ برادری میں خاصا تناؤ دیکھنے کو ملا ہے وہيں ہندوستان کے پنجاب میں بھی کئی مقامات پر مظاہرے اور پر تشدد احتجاج ہو رہے ہیں۔

ڈیرا سچّا کھنڈ کے حامیوں نے ریاست کے کئی مقامات پر پر تشدد مظاہرے کیے ہیں۔ مظاہرین ہزاروں کی تعداد ميں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

تشدد اور مظاہروں کے سبب ریاست کے شہروں جالندھر، ہوشیار پور، نواں شہر، دوآبہ، گڑھ شنکر، لدھیانہ ، بہرام اور پھگواڑہ متاثر ہوئے ہیں۔

پھگواڑہ ميں دلی - جالندھر ریل راستے پر ایک ٹرین کے انجن کو توڑنے کی کوشش کی گئی وہيں جالندھر میں راما منڈی علاقے سے بھی آتش زنی اور گاڑیوں کو جلائے جانے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔

جالندھر ميں حالات کافی خراب ہيں اور اس لیے پورے شہر ميں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہوشیار پور اور کپور تھلہ میں بھی کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

کئی علاقوں ميں بارڈر سکیورٹی فورس کے جوانوں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ وہیں فوج کی سکھ رجیمنٹ کی ایک کمپنی لامبڑا اور مخسودہ کے علاقوں میں مارچ کر رہی ہے۔

ایک مقامی صحافی کے مطابق مظاہرین نے ایک آئی جی اور ایس پی اور ایک تحصیلدار کی گاڑیوں کو آگ لگا دی ہے۔

اس واقعہ پر ردے عمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا ہے کہ ’ہم حالات پر نظر رکھیں ہوئے ہیں۔ ہندوستان کی حکومت ویانا کے اعلی اہلکاروں اور ہندوستان کے سفارت خانے سے رابطہ قائم کیے ہوئے ہے۔‘