’پاکستان کے ساتھ دوستی اہم ہے‘

ہندوستان نے ممبئی حملوں کے سبب پاکستان کے ساتھ کافی دنوں سے جاری کشیدگی کے بعد ایک بار پھر کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اس کے لیے دوستی اہم ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ پڑوس میں عد استحکام سے وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا '' میرے خیال سے ہمارے مفاد میں یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ امن کے لیے دوبارہ کوشش کی جائے جو بھارت کے حق میں ہے۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔''
منموہن سنگھ نے زور دیکر کہا کہ پڑوس میں عدم استحکام سے بھارت جس طرح کی ترقی کا خواب دیکھ رہا ہے وہ ممکن نہیں ہے۔ اس سمت میں بعض مشکلیں ضرور ہیں لیکن '' مجھے امید ہے کہ پاکستانی حکومت ایسا ماحول تیار کریگی جس میں یہ بات ممکن ہوسکتی ہے۔''
وزیراعظم نے کہا کہ وہ پر امید ہیں کہ پاکستانی حکومت ہندوستان کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال نا ہونے دینے کے لیے مضبوط، حوصلہ افزا اور موثر قدم اٹھائیگی۔
انہوں نے کہا '' ممبئی سمیت ماضی میں ایسے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے وہ تمام ذرائع استعمال کرے گا کہ انصاف ہو سکے۔ میرے خیال سے ہندوستان اور پاکستان کی عوام اس کا خیرمقدم کریگی۔''
ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کی لیڈر شپ اس پر امن راستے پر چلنے کو تیار ہو تو '' ہم آدھے سے بھی زیادہ راستہ چلنے کو تیار ہیں۔''
بھارتی وزیراعظم نے یہ باتیں صدر کے خطاب پر بحث کے اختتام پر جواب دیتے ہوئے کہیں۔ بھارت نے پاکستان کے ساتھ رشتے بہتر کرنے کی یہ باتیں ایک ایسے وقت کہیں ہیں جب وزیر اعظم روس کے دورے پر جانے جانے والے ہیں۔
ماسکو میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری بھی ہوں گے اور بعض ماہرین کے مطابق وہاں منموہن سنگھ اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان خصوصی ملاقات کا امکان ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















