انڈیا:جوہری سائنسدان کی لاش مل گئی

ایک جوہری پلانٹ
،تصویر کا کیپشنمہالنگم کیگا جوہری توانائی پلانٹ میں ملازم تھے

کیگا جوہری توانائی پلانٹ کے لاپتہ نیوکلیئر سائنسداں این مہالنگم کی لاش کو بحریہ کے غوطہ خوروں نے پلانٹ کے نزدیک واقع کالی دریا سے نکال لیا ہے۔

این مہالنگم گزشتہ چھ روز سے لاپتہ تھے اور ذرائع ابلاغ ميں ان کی گمشدگی سے متعلق قیاس آرئیاں کی جا رہی تھیں۔

پولیس کے مطابق نیوکلیئر سائنسداں آٹھ جون کی صبح سیر کرنےگئے تھے اور اس کے بعد سے لاپتہ تھے۔

خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کیا مہالنگم دریا ميں کسی حادثے کے سبب گرے یا پھر اس کے پیچھے کوئی سازش ہے۔

مقامی صحافی خالد کرناٹکی کے مطابق فی الوقت پولیس کے لیے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ جہاں یہ واقعہ پیش آیا ہے وہ ایک ہائی سکیورٹی والا علاقے ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس سلسلے میں پولیس مہالنگم کے گھر والوں سے بھی پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

مہالنگم کے لاپتہ ہونے کے بعد خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے سی ایس آئی ایس ایف اور مقامی پولیس نے اپنی کارروائی شروع کر دی تھی۔

پولیس نے بتایا ہے کہ جوہری پلانٹ کے اہلکاروں اور مہالنگم کے لواحقین نے لاش کی شناخت کر لی ہے۔

نیوکلیئر سائنسدان غائب ہونے کے بعد میڈیا ميں کئی طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں لیکن جوہری پلانٹ کے اہلکاروں نے یہ واضح کر دیا تھا کہ مہالنگم ایک ٹریننگ مرکز میں ملازم تھے اور ان کے پاس کوئی حساس اور اہم دستاویزات نہیں تھے۔

اس سے قبل مہالنگ چینئی کے نزدیک واقع کلپکّم کے مدراس جوہری توانائی پراجیکٹ (ایم اے پی پی) میں تعینات تھے۔

اہلکاروں کے مطابق مہالنگم ایم اے پی پی میں کام کرنے کے دوران بھی ایک غائب ہوگئے تھے لیکن کچھ روز بعد گھر واپس آ گئے تھے۔