دلہنوں کی دوشیزگی کے ٹیسٹ پر ہنگامہ

- مصنف, اویناش دت
- عہدہ, بی بی سی ، دلی
ہندوستان کی ریاست مدھیہ پردیش کی حکومت کی جانب سے مجموعی شادی کرانے سے قبل خواتین کی دوشیزگی کی جانچ کرانے کی سماج کے ایک طبقے اور خواتین کے قومی کمیشن نے سخت الفاظ ميں تنقید کی ہے۔
یہ واقعہ مدھیہ پردیش کے شہڈول ضلع میں پیش ہے۔ اور ریاستی حکومت نے اس قدم کو صحیح بھی ٹھہرایا ہے۔اسی طرح کا ایک اور معاملہ قبائیلیوں کے علاقے بڈہار پرکھنڈ ميں بھی سامنے آیا ہے۔حکومت کے مطابق اس قسم کی جانچ اس لیے کرنی پڑی تاکہ یہ پتا لگایا جا سکے کہ کہیں لڑکیاں حاملہ تو نہیں ہیں؟
ذرائع ابلاغ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے دو ہزار چھ ميں شروع کی گئی ’مکھیہ منتری کنیادان یوجن‘ کے تحت 26 جون کو اجتماعی شادی میں تقریباً ڈیڑ سو لڑکیوں کے کنوارے ہونے کی جانچ کرائی گئی جن ميں سے چودہ حاملہ عورتیں تھیں۔
پیر کو خواتین کے عالمی کمیشن کی صدر گرجہ ویاس نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے ریاستی حکومت سے فون پر جواب طلب کیا ہے کیونکہ یہ کافی سنجیدہ معاملہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے ميں انہوں نے حکومت کو ایک خط بھی لکھا ہے۔
گرجہ ویاس نے مزید کہا ’وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ دوشیزگی کی جانچ کرنے کے لیے نہيں تھا لیکن اس سے کوئی فرق نہيں پڑتا ہے، آپ کو شادی کے لیے پیسے دینے ہیں یا نہيں دینے لیکن آپ اس طرح سے خواتین کی توہین نہيں کر سکتے ہیں۔‘
مدھیہ پردیش حکومت کی ویب سائٹ کے مطابق اس منصوبے کے تحت غریب ، بیوہ ، طلاق شدہ عورتوں اور مردوں کی شادی کرائی جاتی ہے جن کے عمر کم از کم اٹھارہ برس ہوتی ہے۔اس منصوبے کے تحت شادی کا سارا خرچ ریاستی حکومت کی جانب سے کیا جاتا ہے اور نئے شادی شدہ جوڑے کو ایک مخصوص رقم دی جاتی ہے۔
اس عمل سے گزرنے والی لڑکیاں اسے شرمناک قرار دے رہی ہيں اور سماج کا ایک طبقہ اسے عورتوں کی توہین بتا رہا ہے وہیں بعض اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہا ہے۔
مدھیہ پردیش حکومت میں ایک وزیر اور حکومت کے ترجمان کیلاش وجےوگریہ سے جب بی بی سی نے اس سلسلے میں بات چیت کی تو پہلے تو انہوں نے اس سے انکار کیا لیکن جب انہیں یہ بتایا گیا کہ شہڈول کے ڈسٹرکٹ مجسٹر نے طبی جانچ کرائے جانے کی تصدیق کی ہے تو انہوں نے کہا ’اگر بعض افراد نے اس منصوبے کا غلط استعمال کیا ہے تو ان کی جانچ کرائے جانے میں کچھ غلط نہیں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وجے ورگیہ نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی غلط معلومات فراہم کرتا ہے تو غلطی اسی کی ہے نہ کہ افسر کی۔
جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا یہ ریاستی حکومت کی پالیسی ہے ؟ تو ان کا جواب تھا ’ایک دو مرتبہ جب اس قسم کے ٹیسٹ کرائے جائيں گے تو لوگوں کو پتا چلے گا اور وہ اپنے آپ جھوٹ بولنا بند کر دیں گے۔‘
دوسری جانب مدھیہ پردیش کی حکومت کی جانب سے کرائی گئی اس جانچ کی کانگریس کے سیئینر رہنما اور ریاست کے سابق وزیر اعلی دگوجے سنگھ نے سخت الفاظ ميں تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’کسی بھی خاتون کی دوشیزگي کی جانچ کرنا اس کی بے عزتی کرنا ہے اور اسے قطعی برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے۔‘




















