جنگلات کے لیے ڈھائی سو کروڑ روپے

بھارت کی سپریم کورٹ نے جنگلات کی بحالی کے لیے مخصوص دو اعشاریہ پانچ بلین ڈالر کی رقم سے پابندی ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ اس رقم کا استعمال جنگلات اگانے کے لیے کیا جائے گا۔ حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ اس رقم کا استعمال پانچ صوبوں ميں پھیلے ہوئے ہوئے چھ لاکھ ہیکٹئر علاقے والے جنگلات اگانے کے لیے کیا جائے گا۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ماحولیات اور جنگلات کی وزارت کی ترجمان کلپنا پالکی والا نے بتایا ہے کہ’اس رقم کو خرچ کرنے کے لیے سپریم کورٹ نے اجازت دے دی ہے۔‘ دراصل یہ رقم گذشتہ سات برس سے اس لیے خرچ نہیں کی جا سکی کیونکہ ایک تو اس بات کا فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ اسے کس طرح خرچ کیا جائے اور اس پر ریاستی اور مرکزي حکومت کا کتنا کنٹرول رہے گا۔ بھارت دنیا کا چوتھا ایسا ملک ہے جو ماحول میں گیسوں کے ذریعے سب سے زیادہ آلودگی پھیلاتا ہے۔ وہيں دیگر ترقی پزیر ممالک کی طرح بھارت پر بھی اس طرح کے دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ماحول میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔ گلوبل وارمنگ کا باعث بننے والی گیس کاربن ڈائی آکسائڈ کو جنگلات ایک بڑی مقدار میں جذب کر لیتے ہیں۔ لیکن بھارت گیسوں کے اخراج کو کم کرنے پر رضامند نہیں ہوا ہے اور اس نے امیر ممالک سے اس قسم کے اخراج کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

















