جامعہ انکاؤنٹر: یو این ایچ آر سی پر سوال

بٹلہ ہاؤس تصادم
،تصویر کا کیپشنجامعہ سولیڈارٹی گروپ نے این ایچ آر سی کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔
    • مصنف, خدیجہ عارف
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

گزشتہ برس انیس ستمبر کو جامعہ نگر کے علاقے بٹلہ ہاؤس میں ہوئے متنازع انکاؤنٹر یا پولیس مقابلے پر انسانی حقوق کے قومی کمیشن یو این ایچ آر سی کی جانب سے پولیس کو کلین چٹ یا بے گناہ قرار دیے جانے پر سوالات اٹھنے شروع ہوگئے ہیں۔

بٹلہ ہاؤس تصادم کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ اور تصادم میں ہلاک اور گرفتار کیےگئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا کے حقوق کی لڑائی لڑنے والے جامعہ سولیڈارٹی گروپ نے این ایچ آر سی کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔

گروپ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظمییں اور خود جامعہ سولیڈارٹی گروپ کی جانب سے معاملہ کی آزادانہ تفتیش کے مطالبے کے باوجود پہلے تو این آچ آر سی نے آزادانہ تقتیش نہیں کی بلکہ ہائی کورٹ کے حکم پر اس نے تقتیش کرنے کا فیصلہ کیا اور اب اس نے متاثرہ کے خاندان اور آزاد تنظیموں سے بات چیت کیے گئے بغیر پولیس کو کلین چٹ دے دی ہے۔

گروپ کا کہنا ہے کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کمیشن نے کن حقائق کی بنیاد پر پولیس کو کلین چٹ دی ہے۔ گروپ نے الزام عائد کیا ہے این ایچ آر سی نے اپنی تحقیق کو خفیہ طریقے سے انجام دیا ہے۔

گروپ کی سربراہ منیشا سیٹھی کا کہنا ہے کہ' کمیشن نے اپنی تحققیات خفیہ طریقے سے انجام دی ہیں۔ رپورٹ تیار کرنے سے پہلے کمیشن ایک بار بھی متاثرہ افراد کے گھر والوں سے نہیں ملا ہے اور نہ ہی اس معاملے کی پیروی کرنے والی تنظیمیوں سے کمیشن نے کوئی رابطہ کیا'۔

منیشا سیٹھی کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ کمیشن نے اپنی رپورٹ پولیس کے ساتھ مل کربنالی۔

واضح رہے کہ گزشتہ چار مہینے پہلے جامعہ ٹیچرز سولیڈارٹی گروپ نے انکاؤنٹر سے متعلق ایک رپورٹ پیش کی تھی جس میں انکاؤنٹر کے طریقہ کار سے متعلق تمام سوال اٹھائے گئے تھے۔

جامعہ سولیڈارٹی گروپ بار بار حکومت سے معاملہ کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

گروپ کے ایک اور ممبر عادل مہدی کا کہنا تھا 'جس طرح این آچ آر سی نے کسی بھی آزادانہ تنظیم کو سنے بغیر رپورٹ پیش کی ہے اس سے انسانی حقوق کے کمیشن کی ساکھ پر سوال اٹھتے ہیں'۔

وہیں معاملے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرنے والے سپریم کورٹ کے سرکردہ وکیل پرشانت بھوشن کا کہنا ہے چار آزاد تنظیموں نے تصادم پر رپورٹ شائع کی ہیں اور پولیس کے رول پر سوال اٹھائے اور اس سب کو نظر انداز کرکے کمیشن نےدلی پولیس کے حق میں رپورٹ دی ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ 'اس معاملے میں پولیس کا موقف صحیح ہوہی نہیں سکتا کیونکہ کمیشن اس بات کی وضاحت کیسے کرے گا کہ انکاؤنٹر میں ہلاک ہونے والے عاطف امین کی کمر چھلی ہوئی تھی اور ساجد کے سر کے اوپر سے چار گولیاں ماری گئیں۔ کیونکہ انکاؤنٹر میں ایسا نہیں ہوسکتا'۔

گزشتہ برس تیرہ ستمبر کو دلی میں سلسلہ وار دھماکوں کے بعد 19 ستمبر کو دلی پولیس نے جامعہ نگر کے بٹلہ ہاؤس علاقے میں دو مشتبہ شدت پسندوں کو ایک تصادم میں ہلاک کردیا تھا جب کہ پولیس کے مطابق دو مشتبہ شدت پسند وہاں سے فرار ہوگئے تھے۔ اس واقعہ میں انسپکٹر موہن چند شرما بھی ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کا تعلق مبینہ شدت پسند تنظیم انڈین مجاہدین سے تھا۔

بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر سے پولیس کی کاروائی سے متعلق تمام سوال اٹھے تھے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومت سے معاملے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔