بہار: سیلاب سے ایک لاکھ افراد متاثر

سیلاب کا پانی (فائل فودٹو)
،تصویر کا کیپشنمظفرپور- سیتا مڑی قومی شاہرہ پر جگہ جگہ پانی بھرا ہوا ہے جس کے سبب دونوں اضلاع کے درمیان آوا جاہی ميں رخنہ پڑ گیا ہے
    • مصنف, منی کانت ٹھاکٹر
    • عہدہ, بی بی سی ، پٹنہ

ہندوستان کی ریاست بہار کے سیتا مڑی ضلع میں باگمتی دریا پر بنایا گیا بند ٹوٹنے سے سو سے زیادہ گاؤں کے تقریًبا ایک لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

متاثرہ افراد کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس کے نوے جوانوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ تقریًبا بیس ہزار متاثرہ افراد باگمتی دریا کے ساحل پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔

اتوار کی صبح سے پانی میں پھنسے ہوئے لوگوں کو باہر نکال کر محفوظ مقامات پر لے جایا جا رہا ہے۔

ضلع کے رني صیدپور علاقے میں دو امدادی کیمپ لگائے گئے ہیں لیکن یہ کیمپ دور ہونے کے سبب وہاں تک کم لوگوں کی رسائی ممکن ہے۔

مظفرپور ۔سیتا مڑی قومی شاہرہ پر جگہ جگہ پانی بھرا ہوا ہے۔

اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہی اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر یہ بند ٹوٹا کیسے؟ سرکاری اہلکار یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس بند کو رات کے اندھیرے میں چند غیر سماجی عناصر نے توڑا ہے۔

بعض اہلکار اس سلسلے ميں ماؤنواز باغیوں پر بھی الزام عائد کر رہے ہیں۔

دوسری جانب مقامی افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے باگمتی دریا پر پانی کا دباؤ بن رہا تھا۔ ان کے مطابق پہلے پانی رسنا شروع ہوا اور پھر دریا کے تیز بہاؤ نے وہاں کی مٹی کو بہا دیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی حکام کو اس بارے میں معلومات فراہم کی گئی تھی لیکن ان کی لاپرواہی کے سبب بند کو وقت پر بچایا نہ جا سکا۔

باگمتی پراجیکٹ کے ٹھیکے داروں پر بھی یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ تقریبًا آٹھ کروڑ روپے خرچ کر کے بنائے گئے اس بند میں جو مواد استعمال کیا گیا اس کے باعث یہ کمزور ثابت ہوا۔