جسونت کی برخاستگی

جسونت سنگھ
،تصویر کا کیپشنجسونت سنگھ گذشتہ تیس برس سے بی جے پی میں شامل تھے

بھارتیہ جنتا پارٹی ’بی جے پی‘ کے سینیئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ کو بانیء پاکستان محمد علی جناح کی ستائش کرنے کی پاداش میں بی جے پی نے پارٹی سے نکال دیا ہے۔

جسونت کی پارٹی کی ابتدائی رکنیت کی منسوخی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حالیہ پارلیمانی اور اسمبلی اجلاس میں زبردست شکست اور پارٹی قیادت میں تبدیلی کے اہم سوالوں کا جائزہ لینے کے لیے بی جے بی کے سینیئر رہنماؤں نے غور خوض شروع کیا ہے۔

پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ کے بیان سے ظاہر ہے کہ جسونت سنگھ کے اخراج کا فیصلہ کل ہی کر لیا گیا تھا۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کل ہی ’آر ایس ایس‘ کے سربراہ موہن بھاگوت نے ایک انٹرویو میں بی جے پی کے اندر نظریاتی اختلافات اور ڈسپلن شکنی پر نکتہ چینی کی تھی اور کہا تھا کہ پارٹی کو ایسے رہنماؤں کے خلاف فوراً کارروائی کرنی چاہئیےجو پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

محمد علی جناح کی ستائش سے متعلق تمام پہلوؤں سے بی جے پی نے واضح طور پر لاتعلقی ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ یہ سنگھ کے اپنے ذاتی خیالات ہیں ۔ لیکن ایک دن بعد اچانک انہیں پارٹی سے نکالا جانا واضح طور پر پارٹی کی نظریاتی کشمکش کا عکاس ہے۔

تقسیم اور جناح ہندوستان میں بہت حساس موضوع رہے ہیں اور یہاں تاریخ کی کتابوں اور تعلیمی نصابوں میں جناح کے ’دو قومی نظریے‘ کو تقسیم کا ذمے دار قرار دیا گیا ہے اور انہیں تقسیم کے ایک ’ویلین‘ کے طور پر ہی پیش کیا جاتا رہا ہے۔

اس ماحول میں جسونت سنگھ کا یہ کہنا کہ ’محمد علی جناح ایک عظیم انسان تھے‘ اور یہ کہ ’تقسیم برصغیرکا ایک بہت بڑا واقعہ تھا اور اس کے لیے ہمیں ایک ڈیمن (برے کردار ) کی ضرورت تھی سو ہم نے جناح کی شکل میں ایک ویلن تخِلیق کر لیا‘ ہندوستان میں مروجہ تصورات سے زبردست انحراف تھا۔

ظاہر ہے کہ جسونت سنگھ کے اس طرح کے خیالات بی جے پی اور ’ار ایس ایس‘ میں کسی کے لیےقابل قبول نہیں ہیں۔

جسونت کے اخراج سے ایک بار پھر یہ واضح ہو گیا ہے پارٹی پر آر ایس ایس کی گرفت بہت مضبوط ہے اور بی جے پی کے اندر سخت گیر عناصر کا کنٹرول بڑھتا جا رہا ہے ۔

راج ناتھ سنگھ کا تعلق پارٹی کے سخت گیر دھڑے سے ہے اور اعتدال پسند سمجھے جانے والے جسونت سنگھ کو نشانہ بنا کر انہوں نے پارٹی کے اندر ان عناصر کو وارننگ دی ہے جو پارٹی کو اعتدال پسندی کی طرف لے جانے کے حق میں ہیں ۔

جسونت سنگھ اور جارج فرنانڈس
،تصویر کا کیپشنجسونت سنگھ نے حال ہی میں اپنی کتاب کا اجراء کیا تھا

پارٹی کی اس ’چنتن بیٹھک‘ یعنی غور خوض کے اجلاس میں جب پارٹی کی شکست کے اسباب پر غور کیا جائے گا تو ہندتو ا کے نظریے پر بھی بات ہو گی۔

نریند مودی اور راج ناتھ سنگھ جیسے پارٹی کے رہنما پارٹی کے ہندوئیت کے کردار کو برقرار رکھنے پر زور دیتے رہے ہیں ۔جبکہ اعتدال پسند دھڑے کا خیال ہے کہ پارٹی کے مسلم مخالف تاثر سے پارٹی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے اور بدلتے ہوئے حالات میں بی جے پی کو بھی تبدیل ہونے کی ضرورت ہے ۔

لیکن اس تصور کی آر ایس ایس اور بی جے پی کے پرانے رہنماؤں کی طرف سے شدیر مزاحمت کی جا رہی ہے ۔ بی جے پی کے اندر یہ بحث ایک عرصے سے چل رہی ہے جس کے نتیجے میں پارٹی میں اندورنی طور پر پھوٹ بھی پڑی ہے ۔

جسونت کے اخراج سے فوری طور پر ‎سخت گیر رہنما حاوی ہو جائیں گے ۔ لیکن پارٹی کی شناخت کی کشمکش مزید گہری ہو جائے گی ۔

جسونت سنگھ نے اپنے اخراج کے بعد کہا کہ اس بات پر انہیں افسوس ہے کہ انہیں ایک کتاب لکھنے کی پاداش میں اس پارٹی سے نکال دیا گیا جس کے وہ تیس برس سے رکن تھے ۔ انہوں نے کہا کہ جس دن ہندوستان کی سیاسی جماعتوں میں لکھنے ، پڑھنے اور بحث و مباحثے ککا سلسلہ بند ہو جائے گا وہ دن ملک کی سیاست کےلیے بہت برا دن ہو گا۔

بی جے پی کا تین روزہ تجزیاتی اجلاس شملہ میں ہو رہا ہے اور اس میں پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ ، سینیر رہنما ایل کے اڈوانی اور نریندر مودی سمیت بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں کے سبھی وزراء اعلی اور پار لیمانی پارٹی کے اعلی رہنما شرکت کر رہے ہیں۔ یہ اجلاس بند کمرے میں ہو رہا ہے اور اس کی تفصیلات میڈیا کو نہیں دی جائیں گی ۔

جسونت کے اخراج کے بعد اس بات کے امکان کم ہی ہیں کہ اس اجلاس میں شکست کے اسباب اور قیادت کے سوال پر کو ئی معروضی بحث ہو پائے گی۔

پارٹی میں قیادت کے سوال پر بھی زبردست کشمکش چل رہی ہے اور اب یہ کشمکش اور بھی شدت اختیار کرے گی ۔ لیکن فی الوقت بی جےپی پوری طرح آر ایس ایس کی گرفت میں ہے اور ہو گا وہی جو آر ایس ایس چاہے گی ۔