’جناح‘ پر پابندی، مودی کو نوٹس

جسونت سنگھ کی کتاب
،تصویر کا کیپشنگجرات حکومت نے جسونت سنگھ کی کتاب پر پابندی عائد کردی ہے۔

ہندوستان کی سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کو جسونت سنگھ کی کتاب ’جناح تقسیم ہند‘ پر پابندی لگانے پر ایک نوٹس جاری کیا ہے۔

عدالت نے یہ قدم جسونت سنگھ کی اپیل پر کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ریاست میں ان کی کتاب پر پابندی ان کے خیالات اظہار کرنے کی بنیادی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے جسونت سنگھ کی اپیل سنتے ہوئے نریندر مودی کو ایک ہفتے کا وقت دیتے ہوئے کہا ہےکہ وہ یہ بتائے کہ ان کے یکطرفہ فیصلے سے کتاب پر پابندی عائد کیسے کی جاسکتی ہے۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت کے لیے آٹھ ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے اپنی ریاست میں اس کتاب پر پابندی عائد کر دی ہے۔

سپریم کورٹ میں مقدمہ کتاب کے مصنف جسونت سنگھ اور کتاب کے ناشر ’روپا اینڈ کمپنی‘ کی طرف سے دائر کیا گیا ہے۔ہندوستان کے معروف وکیل فالی ناریمن سپریم کورٹ میں جسونت سنگھ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

تقسیم کے حوالے سے اپنی کتاب میں مسٹر سنگھ نے اپنی ریسرچ کی بنیاد پر لکھا ہے کہ تقسیم ہند کے ذمہ داروں میں بھارت کے سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل بھی شامل تھے۔

اس کتاب میں بھارت میں رائج اس عام تصور کو مسترد کردیا گیا ہے کہ بانی پاکستان محمد علی جناح صرف مسلمانوں کے مسیحا اور ہندوؤں کے دشمن تھے بلکہ مسٹر سنگھ نے لکھا ہے کہ محمد علی جناح سیکولر شخصیت کے مالک تھے اور ملک کی تقسیم نہرو اور پٹیل کی غلطیوں کے سبب ہوئي۔

جسونت سنگھ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر رہنماؤں میں سے ایک ہیں لیکن اس کتاب میں ان کے ان ہی خیالات کے اظہار کی پاداش میں انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔

مبصرین کے مطابق اس کتاب میں سردار پٹیل کے کردار پر بھی نکتہ چینی کی گئی ہے اسی لیے نریندر مودی نے اس پر پابندی عائد کی ہے۔

سردار پٹیل کا تعلق گجرات سے تھے اور سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیمیں آزادی کے دور کے رہنماؤں میں سے صرف انہیں کے ساتھ اپنے آپ کو منسلک کرتی ہیں۔