ہر بھارتی شہری کے لیے ایک شناختی نمبر

ہندوستان دنیا کا ایسا سب سے بڑا ڈیٹا بیس تیار کرنے جا رہا ہے جس میں ملک کے ہر شہری کا ایک مخصوص شناختی نمبر یا ’یونیک آڈنٹیفکیشن نمبر‘ (یو آئی ڈي) ہو گا۔ یہ نمبر اس شخص کے بائیومیٹرک نمونوں کی بنیاد پر تیار کیا جائے گا۔
پروجکٹ کے سربراہ نندن نیلکانی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ خصوصی شناختی نمبر حاصل کرنے کے لیے تقریباً ایک ارب سے زیادہ افراد کی انگلیوں کے نشان اور تصاویر لی جائیں گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ بارہ سے اٹھارہ مہینے میں پہلے یو آئی ڈی نمبر جاری کر دیئے جائیں گے۔
نیلکانی کے مطابق اتنے بڑے پیمانے پر بائیومیٹرک ڈیٹا بیس تیار کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان اعدادو شمار یا ڈیٹابیس کو آن لائن رکھا جائے گا تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری طور پر ہر بھارتی کی شناخت کرنا ممکن ہو۔
فی الوقت نیلکانی کا دفتر آٹھ کروڑ انکم ٹیکس ادا کرنے والوں کی تفصیلات جمع کر رہا ہے جنہیں پرمانینٹ اکاؤنٹ نمبر یعنی پین حاصل ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً بیس کروڑ بینک کھاتے رکھنے والوں ، پچاس کروڑ موبائل فون رکھنے والوں کے علاوہ ان ساٹھ کروڑ لوگوں کے قوائف بھی حاصل کر رہا ہے جن کے پاس ووٹر کارڈز موجود ہیں۔

اس کے علاوہ ان کا دفتر پاسپورٹ کے ڈیٹابیس، غریبوں کے لیے خوراک فراہم کرنے والے پبلک ڈسٹریبیوشن سسٹم کارڈز اور رسوئی گیس کے صارفین کے ڈیٹا بھی جمع کر رہا ہے۔
نیلکانی نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ان اداروں سے حاصل کردہ اعدادوشمار میں گڑ بڑ کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا اس لیے اس کی بہت احتیاط سے جانچ پڑتال کی جائے گی۔
مسٹر نیلکانی کا کہنا ہے ’یہ منصوبہ غریبوں کے لیے ہے۔ مڈل کلاس اور دیگر طبقوں کے پاس کسی نہ کسی قسم کا شناختی کارڈ موجود ہے لیکن غریب طبقے کے پاس ایسی کوئی چیز نہيں ہوتی جس سے انہيں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
خصوصی نمبر کسی کارڈ کی شکل میں نہيں ہوگا بلکہ یہ ایک نمبر ہوگا جسے ووٹر کارڈ یا پھر پین کارڈز اور بینک اکاؤنٹ جیسے دستاویزات ميں شامل کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس منصوبے کا مرکزی ٹیکنالوجی سینٹر بنگلور میں قائم کیا جائے اور اس کے آٹھ علاقائی شاخیں یا ریجنل سینٹر ہوں گے۔






















