کامن ویلتھ گیمز کے لیے تیاری میں تاخیر

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنکامن ویلتھ گیمز کے لیے کئی پروجیکٹز میں کافی تاخیر ہے

ہندوستان میں محکمہ کھیل کے حکام کا کہنا ہے کہ دو ہزار دس میں دولت مشترکہ کے کھیلوں کی میزبانی کرنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری رندھیر سنگھ نے کہا ہے کہ کھیلوں کے لیے کی جا رہی تیاریوں کے متعلق جن تشویشات کا اظہار کیا گیا ہے ان میں سے کچھ درست ہیں۔

رندھیر سنگھ کا یہ بیان کامن ویلتھ کھیلوں کے سربراہ کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کھیل کروانے کے لیے بھارت کے منصوبے اپنے مقررہ وقت سے کہیں پیچھے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کامن ویلتھ کھیلوں کی فیڈریشن کے سربراہ مائک فینیل نے خبردار کیا تھا کہ کھیلوں کے لیے بھارت کی تیاریوں میں بہت تاخیر ہے۔ ان کے بقول ’ اس نتیجہ پر پہنچنا درست ہے کہ موجودہ حالات دوہزار دس میں ہونے والے دولت مشترکہ کھیلوں کے لیے شدید خطرہ بن سکتے ہیں‘۔

رندھیر سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ مسٹر فینیل کے بعض خدشات درست ہیں اور ’اس کو کسی بھی طرح درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا بہت کچھ نہیں جسے ہمیں بنانا پڑے لیکن چیزوں کو حرکت میں لانے کی ضرورت ہے‘۔

مسٹر سنگھ کا کہنا تھا کہ کھیل کے لیے بنایا جانے والا بنیادی ڈھانچہ تاخیر کے باوجود وقت پر تیار ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے کل تیئس کمیٹیاں ہیں جو اس کے مختلف پہلوؤں کی نگرانی کرتی ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ ان کمیٹیوں کے چیرمین کی آپس میں ملاقات نہیں ہوتی ہے اور اس میں تال میل کی ضرورت ہے۔

چند ماہ قبل مرکزی حکومت نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ کھیلوں کے لیے زیرتعمیر انیس مقامات میں سے تیرہ اپنے مقررہ وقت سے پیچھے ہیں۔

دو ہزار دس کےکامن ویلتھ گیمز دارالحکومت دلی میں ہونے ہیں جس کے متعلق بہت تنازعات ہوچکے ہیں۔ ان کے لیے جو بھی مقامات تیار ہورہے ہیں اس میں تاخیر کے علاوہ سب سے بڑا مسئلہ دنیا بھر سے آنے والے کھلاڑیوں کی سکیورٹی کا ہے۔