چڑیل کے شبہ میں خواتین کی بےعزتی

ہندوستان کی ریاست جھارکھنڈ میں چڑیل ہونے کے شبہ میں گاؤں والوں نے پانچ خواتین کو برہنہ کرکے سر عام پریڈ کرائی، ان کی پٹائی کی اور انہیں زبردستی انسانی فضلہ کھانے پر مجبور کیا۔
پولیس کا کہنا ہے جن خواتین کے ساتھ یہ زیادتی کی گئی وہ مسلم بیوائیں تھیں جنہیں ایک مقامی مولوی نے چڑیل قرار دیا تھا۔
اتوار کے روز یہ واقعہ ضلع دیوگڑھ کے ایک دور دراز گاؤں میں پیش آيا ہے۔
جھارکھنڈ، بہار اور اڑیسہ جیسی ریاستوں کے قبائیلی علاقوں میں اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں جہاں چڑیل بتاکر خواتین کے ساتھ ظلم و زیادتی کی جاتی ہے لیکن اس واقعے کی فوٹیج دیکھ کر لوگوں میں زبردست غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
پولیس نے اس معاملے میں گیارہ افراد کے خلاف کیس درج کیا ہے اور چار کو گرفتار کیا ہے۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس مراری لال مینا نے بی بی سی کوبتایا ہے کہ اتوار کے روز ’ان خواتین کو ایک کھیل کے میدان میں لے جایا گیا جہاں اس شرمناک واقعہ کو دیکھنے کے لیے سینکڑوں لوگ جمع ہوئے تھے۔ تماشائیوں میں سے ان خواتین کی مدد کے لیے کوئی بھی آگے نہیں بڑھا جنہیں سر عام برہنہ کر کے مارا پیٹا گيا۔‘
متاثرہ خواتین اب پولیس کی حفاظت میں ہیں۔ ایک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ گاؤں والوں کے من یہ بات آگئی کہ ان خواتین میں بری روحیں سرایت کرگئی ہیں جس سے علاقے میں حالات خراب ہورہے ہیں۔ اسی شبے میں بعض لوگ ان خواتین کی جھونپڑیوں میں گھس کر انہیں زبردستی نکال کر باہر لے آئے اور ان کی پٹائی شروع کر دی۔
ہندوستان میں چڑیل کے شبے میں اس طرح کے واقعات میں سینکڑوں خواتین کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے بیشتر واقعات بیواؤں کے ساتھ ہوتے ہیں کیونکہ اس کا مقصد ان کی زمین اور مال و دولت پر قبضہ کرنا ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی




















