پاکستان میں کشیدگی، ہند-پاک مذاکرات متاثر

عمر عبداللہ
،تصویر کا کیپشنعمر عبداللہ جموں و کشمیرکے مسئلے کے حل کے لیے خاموش سفارتکاری مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
    • مصنف, بینو جوشی
    • عہدہ, بی بی سی، جموں

ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں مشکل صورتحال کے سبب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا عمل سست ہوگیا ہے جو کشمیر کے حق میں نہیں ہے۔

جموں میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ' سچائی یہ ہے کہ پاکستان کے اندرونی حالات کا اثر جموں اور کشمیر پر پڑتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اپنے اندرونی حالات کو بہتر کرسکے تاکہ ہم دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا دور آگے لے جاسکیں'۔

انکا کہنا تھا کہ جموں و کشمیرکے مسئلے کے حل کے لیے خاموس سفارتکاری مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ ' ہم نے دیکھا ہے کہ جو مذاکرات میڈیا کی نظروں سے دور ہوتے ہیں وہ کامیاب رہتے ہیں چاہے وہ فلسطین ہو، آئیر لینڈ اور یا پھر شری لنکا'۔

جموں و کشمیر میں مرکزی حکومت کی جانب سے پریپیڈ سم کارڈز پر پابندی کے بارے میں انکا کہنا تھا ' حکومت کو سیدھے پابندی لگانے کے بجائے یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ کہاں نظر رکھنے کے ضرورت ہے تاکہ جو اس کا جائز استمعال کرنے والے ان کو پریشانی نہ ہو'۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ جموں و کشمیر میں پریپیڈ سم پرسیکورٹی خدشات کی وجہ سے پابندی لگائی گئی ہے تو انکا کہنا تھا ' جموں و کشمیر واحد ایسی ریاست نہیں ہے جہاں تشدد ہے، اور بھی ایسی ریاستیں جہاں تشدد ہے لیکن پابندی صرف یہاں کیوں'؟

واضح رہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے بھی پاکستان کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان اور افغانستان میں حالات اگر مستحکم نہیں ہوں تو اسکا براہ راست اثر ہندوستان پر پڑتا ہے۔

ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے رشتے تلخ ہوئے ہیں لیکن جہاں تک پاکستان میں جاری حالات کی بات ہے ہندوستان بار بار تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔