انڈیا ڈائری

    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

لالو کی قربانی سب سے زیادہ

لالو پرساد یادو
،تصویر کا کیپشنلالو پرساد یادو نےکہا ہے کہ وہ حکومت سے حمایت واپس لے سکتے ہیں۔

ہندوستان کے ریاستی اور وفاقی قانون ساز اداروں میں ایک تہائی نشستیں خواتین کے لیے مختص کرنے والے مجوزہ قانون کی سب سے زیادہ مخالفت لالو پرساد یادو کر رہے ہیں۔

اس بات پر مجھے بہت حیرت ہے۔ لالو جی، جیسا سونیا گاندھی نے بھی آپکو یاد دلایا، آپ کی تو اپنی سات بیٹیاں ہیں جو ظاہر ہے کہ اس بل کے حق میں ہوں گی۔ اور آپ کی اہلیہ رابڑی دیوی، وہ آپ کے بارے میں کیا سوچیں گی؟

خواتین کے حقوق کے لیے آپ کی قربانیاں سب سے زیادہ ہیں۔ کیا آپکو یاد نہیں کہ جب چارہ گھپلے کی وجہ سے آپ کے لیے بہار کے وزیر اعلی کی کرسی پر فائز رہنا ممکن نہیں رہا، تو آپ نے رابڑی دیوی کو وزیر اعلی بنا دیا تھا۔ آپ اپنی جماعت کے کسی بھی با صلاحیت مرد کو یہ عہدہ امانتاً سونپ سکتے تھے لیکن آپ نے ایک خاتون کے حق میں فیصلہ کیا۔۔۔امور خانہ داری میں مصروف ایک ایسی خاتون جن کے پاس نہ سیاست کا تجربہ تھا اور نہ زیادہ تعلیم۔

آپ تو خواتین کے ’ایمپاورمنٹ' کے بانیوں میں سے ایک ہیں!

جہاں تک مجھے معلوم ہے، اس ملک میں ایسی کوئی دوسری مثال نہیں ہے۔

لیکن میں آپ کا اعتراض بھی سمجھ سکتا ہوں۔ اس بات کا کافی امکان ہے کہ پہلے کچھ انتخابات میں وہ عورتیں زیادہ بڑی تعداد میں منتخب ہوں گی جنہیں بہار میں آپ کے حریف لیکن بل کی مخالفت میں آپ کے ساتھی شرد یادو ’پر کٹی’ کہتے ہیں۔( شاید ان کی مراد ان فیشنیبل عورتوں سے ہے جو سماج کے بالائی طبقے سے تعلق رکھتی ہیں۔)

یہ واقعی ایک بڑا خطرہ ہے۔ اس لیے نہیں کہ ’پر کاٹنے' کا صلاحیت سے کوئی لینا دینا ہے، بلکہ اس لیے کہ فی الحال منتخب ہونے والی بہت سی خواتین کسی بڑے سیاست دان یا پرانے راجہ مہاراجہ کی بہو بیٹیاں ہی ہوتی ہیں۔

جو جو نشست عورتوں کے لیے محفوظ ہوگی، وہاں سے موجودہ مسٹر ممبر پارلیمنٹ کی جگہ ان کی مسز یا کوئی اور قریبی رشتہ دار میدان میں اتریں گی، جیسا کہ بلدیاتی انتخابات میں ہوتا رہا ہے۔ اور ان کا نقطہ نگاہ بھی ہم سمجھ سکتے ہیں۔

کسی بااثر شخص کی بہو بیٹی ہونا سیاست میں کوئی ڈسکوالیفیکیشن نہیں ہے۔ انہیں انتخابی میدان میں تو اتارا جاسکتا ہے، لیکن انتخاب کا فیصلہ تو عوام کے ہاتھوں میں ہی ہوتا ہے۔

لیکن لالو جی، میں آپ کی بات سمجھ بھی جاؤں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ قانون تو اب بن کے رہے گا۔ لہذا اپنی ناراضگی چھوڑیے اور اس کام میں لگ جائیے جس کے آپ بانی ہیں۔۔۔آپ کو کس بات کی فکر ہے؟ بہار میں لوک سبھا کی جو بارہ تیرہ سیٹیں خواتین کے لیے مختص ہوں گی ان کے لیے امیدوار تو گھر میں ہی موجود ہیں!