راجستھان: گوجر مذاکرات پر رضامند

راجستھان ميں گذشتہ دو برس ميں گوجروں کی جانب سے کئی مرتبہ بڑے احتجاج منعقد کیے گئے ہیں ہندوستان کی ریاست راجھستان میں احتجاج کرنے والے گوجر برادری کے رہنما حکومت سے مذاکرات کے لیے رضامند ہو گئے ہیں۔

اس سلسلے میں گوجر برادری کا پانچ رکنی اعلی سطحی وفد جے پور میں حکومت کے اعلیٰ اہلکاروں سے ملاقات کرے گا۔

گوجر رہنماؤں نے تئیس مارچ سے ریزرویشن کے مسئلے پر ایک بار پھر احتجاج شروع کر دیا تھا۔

گوجروں کے رہنما کروڑی سنگھ بینسلہ نے کہا تھا کہ اگر ان کے مطالبات منظور نہیں کیے گئے تو وہ چھبیس مارچ کو جے پور جائيں گے۔ریاست کے چیف سیکریٹری بھی گوجر رہنماؤں سے رابطہ قائم کیے ہوئے ہیں اور انہوں نے بھی اس ملاقات کی تصدیق کی ہے۔

جمعہ کو ہونے والے مذاکرات پوری ریاست میں جاری تحریک کے مستقبل کی سمت طے کريں گے۔دریں اثنا راجستھان کی ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو احتجاج کے دوران جان و مال کی حفاظت کے مناسب اقدامات کرنے کا حکم دیا ہے۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مرتبہ بعض احتجاجی کروڑی سنگھ کی مخالفت میں آ گئے ہیں۔ انہوں نے کروڑی سنگھ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے سیاسی فائدے کے لیے برادری کا استعمال کر رہے ہیں۔

لیکن بینسلہ کے قریبی ساتھی ڈاکٹر روپ سنگھ ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ الزامات ذاتی دشمنی کے سبب لگائے گئے ہیں۔

راجستھان ميں گذشتہ دو برس ميں گوجروں کی جانب سے کئی مرتبہ بڑے احتجاج منعقد کیے گئے ہیں۔ ان میں ستر افراد ہلاک ہوئے تھے اور بڑے پیمانے پر تشدد کے واقعات پیش آئے تھے۔ اس کے علاوہ لاکھوں روپے کی سرکاری جائداد کو بھی نقصان ہوا تھا۔