غیرت کے نام پر قتل، کھاپ اٹل

ہریانہ میں کھاپ پنچایت کی ایک تصویر
،تصویر کا کیپشنگزشتہ دو ہفتوں میں ہندوستان میں تین مبینہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات سامنے آئے ہیں
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

شمالی ہندوستان میں جس شدت سے غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اسی تیزی سے جاٹ برادری بھی حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے منظم ہو رہی ہے۔

غیرت کے نام پر قتل کے معاملات میں کھاپ پنجایتیں بہت بدنام ہوئی ہیں۔ کہنے کو تو ان غیر منتخب پنچایتوں میں بہت سی ذاتیں شامل ہوتی ہیں لیکن ان پر جاٹوں کی مکمل اجارہ داری ہے اور یہ اپنے زیر اثر علاقوں میں ایک متوازی نظام عدل کےطور پر کام کرتی ہیں۔

شادی کا معاملہ ہو یا فوجداری کا، یہ کھاپ پنچایتیں فیصلہ سنانے میں دیر نہیں کرتیں۔ اور ان کے فیصلے اکثر عجیب و غریب ہوتے ہیں۔ چند ماہ قبل انہوں نے ایک شادی شدہ جوڑے کو بھائی بہن کی طرح رہنے کا حکم سنایا تھا کیونکہ ان دونوں کا تعلق ایک ہی گوتر یا خاندان سے تھا۔

اب وہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ ایک ہی گوتر اور ایک ہی گاؤں کے اندر شادی پر پابندی لگانے کے لیے ہندو میرج ایکٹ میں ترمیم کی جائے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ گاؤں کی لڑکی کو بہو نہیں بنایا جاسکتا۔

لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ہریانہ میں، جہاں آئے دن کوئی نہ کوئی ان پنچایتوں کے منمانے طریقوں کا شکار بنتا ہے، کسی سیاسی رہنما میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ ان کے سامنے آواز اٹھا سکے۔

ریاست کے سابق وزیر اعلی اوم پرکاش چوٹالہ اور کانگریس کے نوجوان رکن پارلیمان نوین جندل نے ان کھاپ پنچایتوں کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملائی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ کھاپ پنچایتیں ان رہنماؤں کا سیاسی کریر منٹوں میں بگاڑ سکتی ہیں۔ لہذا ان کے خلاف بولنے کی حماقت کوئی نہیں کرتا۔

کھاپوں کو اپنی طاقت کا احساس ہے اور انہوں نے اب ریاست سے منتخب باقی قانون سازوں کو اپنا موقف واضح کرنے کے لیے پچیس مئی تک کی مہلت دی ہے۔

میں نے حال ہی میں ہریانہ اور اتر پردیش میں جاٹوں کی اکثریت والے بہت سے علاقوں کا دورہ کیا اور مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ غیرت کے نام پر قتل زیادہ تر لوگو کی نظر میں کوئی بڑا جرم نہیں ہے۔ ان کے لیے سماج میں عزت و وقار سب کچھ ہے اور جو ان کے صدیوں پرانے فرسودہ ریتی رواجوں کو توڑنے کی جرئت کرتا ہے، تو اسے خمیازہ بھگتنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔

اور جو لوگ انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں، یا یہ کہتے ہیں کہ انسان کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق حاصل ہونا چاہیے، وہ کھاپ پنچایتوں کی نظروں میں غدار ہیں جو ان کے صدیوں پرانے سماجی طور طریقوں کو توڑنے کی سازش رچ رہے ہیں۔

اب جاٹوں کی یہ مہم فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ ایک طرف حکومت کا کہنا ہے کہ وہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت نئے قوانین پر غور کررہی ہے تو دوسری طرف جاٹ رہنما دھمکی دے رہے ہیں کہ ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ ہندو مذہب ہی ترک کر دیں گے۔

مجھے ایک جاٹ رہنما نے بتایا کہ چودہ مئی کو اتر پردیش کے شہر بجنور میں جاٹوں کی ایک بڑی پنچایت ہو رہی ہے جس میں صلاح مشورے کے بعد وہ قدیم ویدک مذہب(ویدوں کے زمانے کا مذہب) اختیار کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔

ابھی یہ کہنا تو مشکل ہے کہ اس تجویز پر کتنی سنجیدگی سے غور کا جارہا ہے لیکن ایک بات طے ہے اور وہ یہ کہ کھاپیں تو اپنی فرسودہ روایتوں کو بچانے کے لیے کمر کس کر میدان میں اتری ہوئی ہیں لیکن ان کا مقابلہ کرنے کے لیے جس سیاسی اور سماجی عزم کی ضرورت ہے، وہ کہیں نظر نہیں آرہا۔