ممبئی ٹرین دھماکے:چار سال بعد سماعت
گیارہ جولائی سن دو ہزار چھ کو ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں ہونے والے بم دھماکوں کی سماعت چار سال بعد چوبیس مئی سے شروع ہو گی۔

اس کیس کے تیرہ ملزمان نے مہاراشٹر انسداد منظم جرائم قانون ( مکوکا) کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اس لیے اس مقدمہ کی سماعت مکوکا کی عدالت میں اب تک شروع نہیں ہو سکی تھی۔ پچیس اپریل کو سپریم کورٹ نے کیس پر عائد حکم امتناعی کو ہٹا لیا اور ملزمان کی درخواست کو خارج کر دیا۔
ممبئی سے بی بی سی کی نامہ نگار ریحانہ بستی والا نے بتایا کہ مکوکا کے جج ڈی وائی شندے کے روبرو اس کیس کی سماعت شروع ہو گی۔ باوثوق ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق کیس کی حساس نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزمان کو عدالت میں پیش نہیں کیا جائے گا بلکہ ویڈیو کانفرنسگ کے ذریعہ اس کیس کی سماعت ہو گی۔ اس کیس کے تمام تیرہ ملزم سینٹرل آرتھر روڈ جیل میں قید ہیں۔
مہاراشٹر کی حکومت نے کیس کی پیروی کے لیے سرکاری وکیل راجہ ٹھاکرے کو نامزد کیا ہے جبکہ تمام تیرہ ملزمان کے کیس کی پیروی کے لیے جمیعت علمائے ہند کے صدر ارشد مدنی نے چار وکلاء کو مقرر کیا ہے۔
مہاراشٹر جمعیت علماء کے جنرل سکریٹری مولانا گلزار اعظمی نے بی بی سی کو بتایا کہ جمیعت نے ان ملزمان کے کیس کی پیروی کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ بے قصور ہیں۔
اعظمی کے مطابق کئی وکلاء نے کیس کی پیروی کرنے سے ہی انکار کر دیا تھا، اس کے باوجود فوجداری قوانین کے ماہر وکلاء آر بی موکاشی، آباد فونڈا، پرکاش شیٹی اور وکیل ضیاءالمجتبیٰ نے اس کیس کی پیروی کے لیے حامی بھری ہے۔
گیارہ جولائی کو ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں بارہ منٹ کے اندر ایک سے زیادہ بم دھماکے ہوئے جن میں ایک سو چھیاسی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق زخمیوں کی تعداد سات سو سے زیادہ تھی۔
انسداد دہشت گردی کے عملے (اے ٹی ایس ) نے اس کیس کی تفتیش کی اور ان کے مطابق ٹرین بم دھماکوں کی سازش کا ماسٹر مائنڈ لشکر طیبہ کا کمانڈر اعظم چیمہ ہے۔
پولیس کے ہی مطابق ان دھماکوں کی سازش پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ مبینہ طور پر مل کر کی گئی تھی جس میں مبینہ طور پر ہندوستان کی تنظیم ’سیمی‘ کے اراکین نے حصہ لیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کے مطابق ان دھماکوں میں بیس کلو آر ڈی ایکس اور امونیم نائٹریٹ کا استعمال کیا گیا تھا۔ پانچ لیٹر کے پریشر کوکر میں کوارٹز ٹائمر لگا کر بم بنائے گئے تھے۔ یہ بم مبینہ طور پر ملزم محمد علی کے گھر میں بنائے گئے تھے جس کے بعد ایک اور ملزم فیصل کے گھر میرا روڈ لے جائے گئے۔
پولیس کیس کے مطابق ملزمان نے جوڑی بنائی تھی اور ہر جوڑی میں ایک ہندستانی اور ایک پاکستانی ملزم تھا۔ ویسٹرن ریلوے کی ٹرین چرچ گیٹ سے شروع ہوتی ہے اور سبھی ایک ایک ٹرین میں بم لے کر سوار ہوئے۔
شام کے انتہائی مصروف ترین اوقات میں جب لوگوں کا ٹرینوں میں اژدہام ہوتا ہے یہ دھماکے لوگوں سے کھچاکھچ بھری ٹرینوں میں ماہم سٹیشن، ماٹونگا، باندرہ، کھار، جوگیشوری، بوریولی، میرا روڈ میں ہوئے تھے۔
پولیس نے ان تیرہ ملزمان کے علاوہ پاکستان کے گیارہ ملزمان کو اس کیس میں ملزم قرار دیا ہے۔ جس میں سے پولیس کے مطابق ملزم سلیم کھار ٹرین بم دھماکہ میں ہلاک ہو گئے اور ایک اور پاکستانی ملزم محمد علی عرف ابو اسامہ کو پولیس نے انٹاپ ہل علاقہ میں انکاؤنٹر میں ہلاک کر دیا۔
دیگر ملزمان میں اعظم چیمہ، اسلم حفیظ اللہ، قاسم علی، صابر ، عبدالرحمن، ابو حسن ، احسان اللہ کے نام مفرور ملزمان کی فہرست میں شامل ہیں۔
تیرہ گرفتار ملزمان کمال احمد، محمد وکیل احمد، ڈاکٹر تنویر احمد انصاری، محمد فیصل، عطاء الرحمن شیخ، احتشام قطب الدین صدیقی، محمد ماجد، محمد شفیع، شیخ محمد علی، محمد ساجد، مرغوب انصاری، عبدالواحد، دین محمد شیخ، مزمل عطاء الرحمن شیخ، نوید حسن خان، ضمیر احمد لطیف الرحمن، آصف خان بشیر خان اور سہیل محبوب شیخ ہیں۔




















