بچوں کا بچپن نہ چھن جائے!
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
اگر دس بیس ہزار کروڑ روپے آپ کی زندگی میں کوئی اہمیت نہ رکھتے ہیں، تو آپ اپنے بچوں کو بگڑنے سے بچانے کے لیے کیا کریں گے؟

شاید آپکا جواب ہوگا کہ یا تو بچے نہیں ہیں یا پیسے نہیں یا کم سے کم اتنے نہیں کہ بگڑنے کی فکر ہو۔ لیکن انسان کا وقت کب بدل جائےکوئی نہیں کہہ سکتا، اس لیے کسی بھی صورتحال کے لیے تیار رہنے میں ہی سمجھداری ہے۔
اس لیے میں نے ایک اخبار میں ریلائنس انڈسٹریز کے مالک مکیش اور نیتا امبانی کے بارے میں پڑھا کہ ’اپنے بچوں کے پیر زمین پر رکھنے کے لیے‘ وہ کیا کیا قربانیاں دیتے ہیں تو سوچا کہ ان کی حکمت عملی آپ تک بھی پہنچا دوں۔
ان کے بچے امریکہ کی بہترین یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں۔لیکن نیتا امبانی کہتی ہیں کہ’انہیں گھر لانے کے لیے ہم کبھی اپنے پرائیویٹ طیارے نہیں بھیجتے، انہیں ائر انڈیا سے آنا پڑتا ہے۔۔۔انہیں اس میں بہت مزہ آتا ہے۔۔۔اب تو وہ مجھ سے بھی کہتے ہیں کہ مجھے بھی ائر انڈیا میں سفر کرنا چاہیے۔‘
نیتا، ائر انڈیا سے تو ہم نے بھی سفر کیا ہے۔ ایسا تو نہیں کہ بچے آپ سے انتقام لے رہے ہوں؟
اترپردیش کے استاد
بچوں کا ذکر ہے تو آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ اترپردیش میں غیر شادی شدہ اساتذہ نے حکومت سے کہا ہے کہ آبادی پر قابو رکھنے میں ان کا رول شادی شدہ ٹیچروں سے زیادہ ہے۔ لہذا انہیں بھی خاندانی منصوبہ بندی کے بھتے کی طرز پر الاؤنس ملنا چاہیے۔
(ہم دو ہمارے دو کے اصول پر خاندانی منصوبہ بندی کرنے والے استادوں کو پانچ سو سے نو سو روپے تک بھتہ دیا جاتا ہے)
ان ٹیچروں کا کہنا ہے کہ شادی نہ کر کے انہوں نے معاشرے کے لیے بڑی قربانی دی ہے جس کے لیے انہیں دوگنا بھتہ ملنا چاہیے!
لیکن حکومت سے کچھ بھی لینا اتنا آسان نہیں ہے۔ یہ بھتہ ان جوڑوں کو بھی نہیں دیا جاتا جنہوں نے شادی کے بعد یا تو بچے پیدا نہ کرنے کا فیصلہ کیا یا کسی وجہ سے بچے ہوئے نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قواعد بالکل واضح ہیں۔ بھتہ چاہیے تو کم سے کم ایک اور زیادہ سے زیادہ دو بچے ہونے چاہئیں۔ ٹیچرز، آپ نے پہلے ہی کافی وقت ضائع کردیا ہے، امید ہے آپکو معلوم ہوگا کہ آگے کیا کرنا ہے!
اور ہاں، جب بچے ہوجائیں اور بھتہ ملنے لگے تو ان کے پیر زمین پر رکھنے کے لیے کیا کرنا ہے، یہ آپ نے اوپر پڑھ ہی لیا ہوگا!
پاکستانی ’جاسوس’ بھارتی تحویل میں
امرتسر میں پاکستان کی سرحد کے قریب سےایک کبوتر پکڑا گیا ہے جس کے پروں پر ایک ’پاکستانی مہر’ لگی ہوئی ہے اور ایک موبائل ٹیلی فون نمبر لکھا ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ کبوتر گاؤں والوں نے پکڑا اور وہ اسے پولیس کے پاس لے گئے۔ پولیس کا خیال ہے کہ یہ کبوتر جاسوسی کر رہا تھا۔ اسے ایک خاص پنجرے میں بند کردیا گیا ہے۔
امرتسر کے ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ ’تفتیش کا یہ ابتدائی مرحلہ ہے۔۔۔ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کہیں اس کبوتر کو جاسوسی کے لیے تو استعمال نہیں کیا جارہا تھا؟‘
ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کے پوچھ گچھ صرف کبوتر سے ہی کی جارہی ہے یا دوسرے پرندے بھی شک کے دائرے میں ہیں!





















