اوباما اور من موہن کی ملاقات

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ اور امریکی صدر براک اوباما کے درمیان ٹورونٹو میں ملاقات ہوئی ہے جس میں افغانستان سمیت خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنما دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے گروپ جی ٹوئنٹی میں شرکت کے لیے کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ہیں۔ بات چیت آدھنے گھنٹے تک جاری رہی۔
ملاقات کی تفصیلات نامہ نگاروں کو بتاتے ہوئے خارجہ سیکریٹری نروپما راؤ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردی کی روک تھام اور وہاں صورتحال کو مستحکم بنانے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ من موہن سنگھ نے صدر اوباما کو پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں بتایا اور کہا کہ پاکستان کو اپنے اس وعدے پر قائم رہنا چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین ہندوستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔
ممبئی حملوں میں اپنے کردار کا اعتراف کرنے والے ڈیوڈ کول مین ہیڈلی نے جو انکشافات کیے ہیں، ان پربھی بات چیت ہوئی۔
ہندوستان کے وزیر داخلہ پی چدمبرم نے بھی اس ہفتے اسلام آباد میں اپنے پاکستانی ہم منصب رحمان ملک سے ممبئی حملوں کے ملزمان کو جلد سے جلد سزا دلوانے کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی تھی۔
لیکن ایک سوال کے جواب میں نروپما راؤ نے کہا کہ یونین کاربائڈ کے سابق سربراہ وارین اینڈرسن کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے ہندوستان لانے کے سوال پر کوئی بات نہیں ہوئی۔
پچیس سال قبل جب بھارتی شہر بھوپال میں یونین کاربائڈ کے ایک کارخانے سے رسنے والی زہریلی گیس کی زد میں آکر ہزاروں لوگ ہلاک ہوگئے تھے، اس وقت وارین اینڈرسن یونین کاربائڈ کے سربراہ تھے۔ مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے وہ بھارتی پولیس کو مطلوب ہیں۔
حال ہی میں اعلی سطحی وزارتی گروپ نے انہیں ہندوستان لانے کے لیے دوبارہ کوشش کرنے کی سفارش کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
من موہن سنگھ نے برطانوی وزیر اعظم ڈیویڈ کیمرون سے بھی ملاقات کی اور انہیں بھارت کا دورہ کرنے کی دعوت دی جو ڈیویڈ کیمرون نے قبول کر لی۔ یہ دورہ جولائی میں ہوگا۔





















