سمجھوتہ کی تفتیش این آئی اے کے حوالے

بھارتی حکومت نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چلنے والی ٹرین سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکے کے معاملے کی تفتیش ملک کے سب سے اہم تفتیشی ادارے قومی تفتیشی ایجنسی یعنی این آئی اے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ ایجنسی صرف سنگین نوعیت کے دہشتگردی اور دیگر واقعات کی تفتیش کرتی ہے۔
وزارت داخلہ میں داخلی سلامتی کے سپیشل سکریٹری اتل کمار بنسل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ '' سمجھوتہ ایکسپریس کے معاملے کو این آئی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔''
سمجھوتہ ایکسپریس کے دو ڈبوں میں 18 فوروری 2007 کو تقریبآ نصف شب کو اس وقت بم دھماکے ہوئے تھے جب وہ دلی سے لاہور جا رہی تھی۔ یہ دھماکہ ایسے وقت ہوا تھا جب یہ ٹرین دلی سے تقریبآ 80 کلو میٹر دور پانی پت کے دیوانہ گاؤں کے نزدیک پہنچی تھی۔ اس حملے میں 68 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس دھماکے کی تفتیش ہریانہ دلی اور ریلوے پولیس پر مشتمل ایک خصوصی تفتیشی ٹیم کر رہی تھی۔ تحقیقات ابھی تک نامکمل ہے لیکن کئی زاویوں سے تفتیش کے بعد سکیوریٹی ایجنیسیاں اس نتیجے پر پہنچتی ہو ئی نظر آرہی ہیں کہ اس حملے میں ہندو شدت پسندوں کا ہاتھ تھا۔
اب تک کی تفتیش کی سربراہی کرنے والے ریلوے پولیس کے آئی جی کے کے مشرا نے ہریانہ پولیس کے سربرا ہ کو اس مہینے کے وسط میں ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے سمجھوتہ ایکسپریس کے معاملے کو این آئی اے کے حوالے کرنے کی درخواست کی تھی۔
انہوں نےلکھا تھا کہ اب تک کی تفتیش سے جو سراغ ہاتھ لگے ہیں ان سے اس دھماکے کی کڑی ہندو انتہا پسندوں سے ملتی ہوئی نظر آتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس واقعے کی کئی کڑیوں کا تعلق مدھیہ پردیش کے اندور شہر سے ہے۔ اورخصوصی تفتیشی ٹیم کو کئی ایسے سراغ ملے ہیں جو مالیگاؤں کے دھماکوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مالیگاؤں دھماکے کے سلسلے میں کرنل ایس پی پروہت اور سادھوی پراگیہ سنگھ کی گرفتاری کے بعد سکیوریٹی ایجنسیوں نے ایسے سراغ حاصل کیے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ شدت پسندون نے دھماکے کے لیے بعض ساز وسامان اندور سے خریدے تھے۔
سمجھوتہ ایکسپریس کی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ جن چھ سوٹ کیسوں میں ٹائم بم رکھے گئے تھے وہ اندور سے خریدے گئے تھے اون ان سوٹ کیسوں کے کور بھی شہر کے ایک درزی سے سلائےگئے تھے۔
خصوصی تفتیشی ٹیم کا خیال ہے کہ اس معاملے کی تفتیش این آئی اے جیسی مرکزی ایجنسی ہی صحیح طریقے سے کر سکتی ہے جسے ہر ریاست میں کسی اجازت کے بغیر تفتیش کا اختیار ہے۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ حال میں این آئی کی ایک ٹیم نے مالیگاؤں بم دھماکوں کے ملزموں سے پوچھ گچھ کی تھی۔
مالیگاؤں بم دھماکوں کے بعد حیدرآباد کی مکّہ مسجد میں بھی بم دھماکوں کے لیے بعض ہندو شدت پسندوں کوگرفتار کیا گیا ہے۔
سکیورٹی ایجنسیوں نے چند ہفتے قبل بعض ایسے ہندو رہنماؤں سے پوچھ گچھ کی ہے کہ جن کا تعلق ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس سے بتایا جاتا ہے۔
بھارت کی حکمراں جماعت کانگریس نے گزشتہ دنوں یہ مطالبہ کیا تھا کہ مالیگاؤں اور مکہ مسجد کے واقعات کے پس منظر میں گزشتہ کچھ برسوں میں ہونے والے بم دھماکوں کے سلسلے میں آر ایس ایس کے رول کی بھی تفتیش کی جائے۔
آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ وہ تشدد کے فلسفے میں یقین نہیں رکھتی اور اگراس کا کوئی رکن کسی معاملے میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس کا تنظیم سے کو ئی تعلق نہیں ہے وہ اس کا ذاتی فعل ہو سکتا ہے جس کی وہ مذمت کرتے ہیں ۔
اس حملے میں ہندو شدت پسندوں کا ہاتھ ہونے کہ شبہہ پہلی بار واضح طور پر اس وقت ظاہر کیا گیا جب مالیگاؤں بم دھماکوں کے سلسلے میں ممبئی کے آنجہانی پولیس افسرہیمنت کرکرے نے کئی ہندو شدت پسندوں کو گرفتار کیا تھا۔





















