کشمیر درینہ تنازعہ ہے: اوباما

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک دیرینہ تنازعہ ہے اور یہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی ختم کریں۔
صدر اوباما نئی دلی میں بھارت کے وزیر اعظم کے ساتھ مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
انھوں نے کشمیر سے متعلق امریکہ کے موقف کے بارے میں ایک امریکی صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایک بار پھر واضح کیا کہ امریکہ دونوں ملکوں کے درمیان کسی طرح کی ثالثی میں ملوث نہیں ہوگا تاہم امریکہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔’انہوں نے امید ظاہر کی دونوں ملک جلد بات چیت شروع کریں گے۔‘
تاہم اسی سوال کے جواب میں وزیر اعظم من مموہن سنگھ کا رد عمل ماضی کے مقابلے قدرے سخت تھا۔
انھوں نے کہا کہ دہشت گردی اور مذاکرات دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ ’پاکستان پہلے کی طرح متحرک دہشتگردی کے ڈھانچے سے جس وقت ہاتھ اٹھا لے گا ہم اس کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے تیار رہیں گے۔‘
’انھوں نے کہا کہ بھارت کو کشمیر کے سوال پر بات چیت سے کوئی گریز نہیں ہے۔ ایک مستحکم خوشحال اور اعتدال پسند پاکستان بھارت ہی نہیں پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔‘

جب ایک صحافی نے صدر اوباما سے پوچھا کہ کیا امریکہ اقوام متحدہ کی قومی سلامتی کی مستقل رکنیت کے لیے بھارت کی حمایت کرے گا تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ اس کے بارے میں پیر کی شام بھارت کی پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں ذکر کریں گے ۔
صدر اوباما نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ بھارت اب ایک عالمی طاقت ہے اور ان کے اس دورے سے دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوریتوں کے درمیان تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں ملکوں نے دہشت گردی پر قابو پانے اور جوہری عدم پھلاؤ کے سلسلے میں مزید تعاون کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکہ نے بھارت میں صاف توانائی ، جوہری توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں سرمایہ کاری کرنے کی بات کی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں مسٹر سنگھ نے کہا کہ امریکہ اعلی ٹیکنالوجی کا مرکز ہے ’ہمیں دفاعی اور سول شعبے میں امریکی مدد کی ضورت ہے۔‘
امریکی صدر نے کہا کہ جوہری دھماکے کے بعد بھارت کے خلاف نافذ کی گئی حساس ٹیکنالوجی کی برآمد پر پابندی ہٹا لی گئی ہے اور اب بھارت کے اہم سائنسی اور دفاعی ادارے امریکہ اعلی ٹیکنالوجی کا ساز و سامان برآمد کر سکیں گے ۔
مسٹر اوباما نے کہا کہ بھارت سے اقتصادی تعلقات دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے ۔
اس سے قبل دونوں رہنماؤں نے حیدر آباد ہاؤس میں تنہا اور وفود کی سطح پر باہمی اور علاقائی سوالوں پر بات کی۔ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کے بعد پیر کی شام ایک مفصل مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا ۔
صدر اوباما پیر کی شام پارلیمنٹ سے خطاب سے پہلے ملک کے نائب صدر حامد انصاری، حزب اختلاف کی رہنما سشما سوراج اور کانگریس صدر سونیا گاندھی سےملاقات کریں گے۔
صدر اوباما بھارت کے تین روزہ دورے پر ہیں ۔ کل صبج وہ انڈونیشیا کے لیے روانہ ہو جائیں گے ۔





















