’بے قصور مسلمانوں‘ کی رہائی کے لیے جلسہ

مہاراشٹر کے تجارتی شہر ممبئی میں ریاست کی تقریبا پچاس مسلم ، سماجی اور سیکولر تنظیموں نے ایک احتجاجی جلسہ کیا۔
ممبئی کے آزاد میدان میں منعقد اس جلسہ میں تنظیموں نے حیدرآباد کی مکہ مسجد بم دھماکہ کے ملزم عبدالکریم کو بھی مدعو کیا تھا جن کے حسن اخلاق سے متاثر ہو کر ہندو سخت گیر تنظیم آر ایس ایس کے سینئئر رکن سوامی اسیمانند نے مجسٹریٹ کے سامنے اقبالیہ بیان دیا کہ سجھوتہ ایکسپریس ٹرین بم دھماکہ، اجمیر بم دھماکہ، مکہ مسجد بم دھماکہ اور مالیگاؤں بم دھماکہ ان کے ساتھ آر ایس ایس کے دیگر سینیئر اراکین نے مل کر کیا تھا۔
سوامی کے اس بیان کی روشنی میں اب ملک کی مسلم تنظیمیں جیلوں میں قید مسلم نوجوانوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ جمعرات کے روز اس جلسہ میں مقررین نے تقریر کے دوران ریاستی حکومت پر مسلم دشمنی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوامی کے بیان کے بعد جیلوں میں قید ان تمام مسلم نوجوانوں کو ضمانت مل جانی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ آزادی کے بعد سے اب تک اس ملک کے مسلمانوں پر غداری کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے لیکن ’اب یہ بات بے نقاب ہو چکی ہے کہ ملک کا غدار سنگھ پریوار اور اس کی ذیلی تنظیمیں ہیں۔‘
مالیگاؤں جہاں کے نو مسلم بے قصور نوجوان جیلوں میں قید ہیں، وہاں کے کل جماعتی تنظیم کے رکن مولانا عبدالحمید ازہری نے کہا کہ انیس سو تئیس سے سنگھ پریوار جو ذہن سازی کر رہی ہے اسی کے نتیجہ میں ملک کا بٹوارہ ہوا۔ ’انہوں نے اس کی راہیں ہموار کیں گاندھی جی کا قتل اسی ذہنیت نے کیا اور عرصہ سے مسلم دشمنی نبھا رہا ہے۔ بہت ہی منظم طریقہ سے اب تک ترسٹھ ہزار فرقہ وارانہ فسادات کرائے گئے۔ جس میں مسلمانوں کے ساتھ ملک کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ مولانا نے بابری مسجد کی مسماری کو بیسویں صدی کا سب سے بڑا عالمی دہشت گرد کارروائی قرار دیا۔
اس جلسے میں مہاراشٹر کے انسدادِ دہشت گردی عملہ کے ان افسران کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا جنہوں نے بقول ’جان بوجھ کر مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا‘۔
اس جسلے میں میڈیا پر بھی سخت تنقید کی گئی۔ مقررین نے کہا کہ جب کبھی بم دھماکے ہوتے ہیں تو الیکٹرانک میڈیا اپنی طرف سے مسلم نوجوانوں کے نام لینا شروع کر دیتے ہیں وہ انہیں ماسٹر مائینڈ بتاتے ہیں۔


















