بدعنوانی معاملےمیں سابق وزیرگرفتار

اے راجا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسابق وزیر نے نومبر میں میں استعفی دیدیا تھا

بھارت کے سابق ٹیلی مواصلات کے وزیر اے راجہ کو جی ٹو سپیکٹرم میں ہونے والی مبینہ بد عنوانی کے معاملے میں ان کے دو ساتھیوں سیمت سی بی آئی نے گرفتار کر لیا ہے۔

سابق مرکزی وزیرکے دو ساتھی پی کے چنڈولیہ اور سدھارتھ بہوریہ کو بھی پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

اس سے پہلے مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی نے ٹوجی سپیکٹرم بدعنوانی معاملے میں سابق مرکزی وزیر اے راجا سے دو بار پّوچھ گچھ کی تھی۔

ان کے قریبی ساتھی مسٹر چنڈولیا پہلے اے راجہ کے پراوئیویٹ سکریٹری تھے اور اس کے بعد اسی وزارت میں انہیں معاشی امور کا مشیر مقرر کیا گیا تھا۔

دوسرے ساتھی سدھارتھ بہوریا جنوری دو ہزار آٹھ سے ستمبر دو ہزار نو تک وزارت ٹیلی مواصلات میں سیکرٹری کے عہدے پر فائز تھے۔

سدھارت نے ہی ٹو جی سپیکرٹرم کے لائسینز کے لیے متنازعہ فائلوں پر دستخط کیے تھے جن کے متعلق یہ کہا جاتا رہا ہے کہ وزارت نے پرائیوٹ کمپنیوں کو سستے داموں میں لائسینز فروخت کیے تھے۔

اے راجہ کو موبائل سروسز کے لائسنس جاری کرنے میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے الزام کا سامنا ہے اور انہیں گزشتہ مہینے نومبر میں حزب اختلاف کے زبردست دباؤ کے بعد استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

ان پر کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے قواعد و ضوابط سے ہٹ کر اپنی پسندیدہ کمپنیوں کو کوڑیوں کے دام ’ٹو جی سپیکٹرم‘ کے لائسنس جاری کر کے سرکاری خزانہ کو تقریباً پونے دو لاکھ کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام لگایا تھا۔

اس کے بعد سے حزب اختلاف پورے معاملے کی تفتیش کےلیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کی تشکیل کا مطالبہ کیا۔ لیکن حکومت نے یہ مطالبہ نہیں مانا۔ حزب اختلاف کی جماعتیں اپنے مطالبے پر اٹل رہیں اور اسی وجہ سے پارلیمان کا سرمائی سیشن بغیر کسی کاروائی کے ختم ہوگیا۔

اے راجہ کا تعلق کانگریس کی اتحادی جماعت ڈی ایم کے سے ہے جو جنوبی ریاست تمل ناڈو میں برسر اقتدار ہے۔ ڈی ایم کے کی حمایت حکمراں وفاقی اتحاد یو پی اے کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔

مبصرین کےمطابق سی بی آئی کے چھاپوں سے حکومت یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ تفتیش میں پیش رفت ہو رہی ہے اور بدعنوانی کے الزامات کی چھان بین میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جا رہی جیسا کہ حزب اختلاف کا الزام ہے۔

راجہ کے خلاف کارروائی کا معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے جہاں عدالت عظمیٰ نے کئی مرتبہ ان کے خلاف سخات ریمارکس دیے ہیں۔