ٹوجی سپیکٹر پر صنعت کاروں کی پیشی

رتن ٹاٹا
،تصویر کا کیپشنٹاٹا کمپنی نے اس بات کی تصدیق کردی ہے

بھارت میں ٹو جی سپیکٹرم بدعنوانی کی تفتیش کے سلسلے میں رتن ٹاٹا اور انیل امبانی جیسے ملک کے بڑے صنعت کار پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔

ان کمپنیوں نے پارلیمان کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ( پی اے سی) کے سامنے اپنے مالکان کے پیش ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

ٹوجی سپیکٹرم بدعنوانی معاملے کی تفتیش جہاں ایک طرف مرکزی تفتیشی ایجنسیاں کر رہی ہیں وہیں اپوزیشن کی قیادت میں پی اے سی نے بھی اس کی تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق کمیٹی ان صنعت کاروں سے چار اور پانچ اپریل کے درمیان پوچھ گچھ کرےگي۔

بھارت کی کچھ بڑی کمپنیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ٹو جی اور تھری جی کے لائسنز کے لیے اصول و ضوابط کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔ اس سے حکومت کو زبردست نقصان بھی پہنچا ہے۔

ٹاٹا سنز کمپنی کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ کمپنی اس معاملے کی تفتیش میں تعان کرےگی۔ ان کا کہنا تھا ’حالیہ ٹیلی مواصلات سیکٹر میں، بشمول ٹو جی اور تھری جی سپیکٹرم میں جو پیش رفت ہوئی ہے اس حوالے سے رتن ٹاٹا نے پی اے سی کے سامنے چار اپریل کو پیش ہونے کی اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘

بھارت میں ٹیلی مواصلات کا سیکٹر بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور ملک میں ٹاٹا کمپنی پانچویں نمبر پر ہے۔

انیل امبانی ’ریلائنس کمیونکیشن‘ کے چیئرمین ہیں اور اس سیکٹر میں ان کی کمپنی دوسرے نمبر پر ہے۔ ان سے اس سے پہلے ہی پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔ وہ گزشتہ ماہ پی اے سی کے سامنے پیش ہوئے تھے اور کہا جارہا ہے کہ ایسا انہوں نے رضاکارانہ طور پر کیا تھا۔

تاہم کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں دوبارہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ بیان کے مطابق ’انیل امبانی پی اے سی کےسامنے پیش ہونے کے موقع کا خیر مقدم کرتے ہیں۔