بھارت کی آبادی 1.21 ارب

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپچھلے عشرے میں اٹھارہ کروڑ سے بھی زائد کی آبادی بڑھی ہے

بھارت کی پندرہویں مردم شماری کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ملک کی آبادی اب ایک ارب اکیس کروڑ ہوگئی ہے۔

حال ہی میں ہونے والی مردم شماری کے ابتدائی اعداد و شمار دلی میں جاری کیےگئے ہیں۔

مردم شماری کے کمشنر سی چندر مولی نے دلی میں میڈیا کو بتایا ہے کہ بھارت کی موجودہ آبادی ایک ارب اکیس کروڑ ہوگئي ہے۔ ’اس میں باسٹھ کروڑ مرد اور اٹھاون کروڑ خواتین شامل ہیں۔‘

اس کے مطابق بھارت میں گزشتہ ایک عشرے میں اٹھارہ کروڑ دس لاکھ کی آبادی کا اضافہ ہوا ہے۔ یعنی کہ گزشتہ عشرے میں بھارت کی آبادی میں تقریباً برازیل ملک کی آبادی کا اضافہ ہوا ہے۔

بھارت کی اس وقت کی آبادی امریکہ، انڈونیشیاء، برازیل، پاکستان، جاپان اور بنگلہ دیش جیسے چھ ممالک کی کل مجموعی آبادی کے برار ہے۔

بھارت میں ہر دس برس میں مردم شماری کی جاتی ہے اور تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ عشرے میں سترہ اعشاریہ چھ فیصد کی مناسبت سے آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔

ابتدائی نتائج میں ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ آبادی میں ہونے والے اضافے میں مردم اور خواتین کے درمیان پیدائش کا جو تناسب تھا اس میں بہتر آئی ہے۔

پہلے ایک ہزار مردوں پر نو سو تینتس خواتین تھیں جبکہ اب یہ تناسب نو سو چالیس ہو گيا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاست ہریانہ کے ضلع جھجھر میں خواتین کا تناسب سب سے کم سات سو چوہتر ہے۔

آبادی کے لحاظ سے ریاست اترپردیش سب سے بڑی ریاست ہے اور دوسرے نمبر پر ریاست مہاراشٹر ہے۔ تیسرے نمبر بہار، چوتھے پر مغربی بنگال اور پانچویں پر ریاست آندھرا پردیش ہے۔

آبادی کے لحاظ سے مہاراشٹر کا ضلع تھانے سب سے بڑا ضلع ہے اور دوسرے نمبر پر مغربی بنگلہ کا ضلع چوبیش پرگنہ ہے۔